Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

خواتین اپنے کریئر کے مقابلے اپنے ؟ شوہر کے کریئر کو زیادہ ترجیح کیوں دیتی ہیں

 



بہت سی خواتین دانستہ یا لاشعوری طور پر اپنے شوہر یا پارٹنر کے کریئر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنےکیریئر کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔

جب کیری 20 کے پیٹے میں تھیں، تو بطور سوشل ورکر کام کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی رقم کمائی اور کچھ رقم سیوِنگ اکاؤنٹ میں بھی رکھ دی۔ ان کے پارٹنر ایک گریجویٹ طالب علم تھے جو پارٹ ٹائم کام کرتے تھے، اور کیری، اپنی کمائی سے زیادہ تر بل ادا کرتی تھیں۔ لیکن جب ان کے پارٹنر نے گریجویشن مکمل کی اور انھیں نوکری کی پیشکش ہوئی تو حالات بدل گئے۔

شکاگو میں مقیم کیری، جو اب 30 کے پیٹے میں ہیں، کہتی ہیں، ’میرے پارٹنر کو ملک کے دوسرے کونے پر نوکری ملی، میں نے اپنا کام چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ چلی گئی۔ اگرچہ میں اپنے کیریئر اور اپنی زندگی میں واقعی خوش تھی، میں نے بنیادی طور پر اپنا کام ایک ایسی جگہ کے لیے چھوڑ دیا جہاں میں کسی کو نہیں جانتی تھی اور وہاں مجھے نوکری بھی نہیں ملی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ، کیری کو احساس ہوا کہ انھوں نے اپنے ساتھی کے کیریئر کو اپنی ذات پر پوری طرح ترجیح دی ہے۔ کیری کو لگا کہ اس اقدام سے ان کی کمائی اور ان کا کریئر پیچھے چھوٹ گیا۔

اگرچہ امریکہ میں خواتین تعلیم میں مردوں سے آگے ہیں اور وہاں نصف سے زیادہ لیبر فورس خواتین کی ہے پھر بھی بہت سی خواتین کا تجربہ کیری جیسا ہے۔

ڈیلوئٹ وومن ایٹ ورک 2023 کے محققین نے سروے کے لیے 10 ممالک میں 5,000 خواتین کا سروے کیا، جن میں سے 98 فیصد شوہر یا پارٹنر کے ساتھ رہتی تھیں۔ اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 40 جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ اس رشتے میں ان کے ساتھی کے کریئر کو فوقیت حاصل ہے۔ انھوں نے مالی اور سماجی عوامل سے لے کر دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ سمیت کئی وجوہات کا حوالہ دیا۔

لیکن ڈیلوئٹ سروے میں خواتین نے اپنے ساتھی کے کیریئر کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے مرد پارٹنرز نے زیادہ پیسہ کمایا۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے، اس کے پیش نظر، دنیا بھر میں، کچھ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین آج بھی ہر ایک ڈالر کے عوض 77 سینٹ کماتی ہیں۔

لندن میں مقیم ڈیلوئٹ میں عالمی تنوع، مساوات اور شمولیت کی افسرایما کوڈ کہتی ہیں ’قدرتی طور پر، کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو کہتے ہیں، ’اچھا، یہ شخص سب سے زیادہ کماتا ہے،خاص طور پر اس وقت جب کوئی وقت مشکل ہوتا ہے، آپ کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں کم کمانے والا شخص سوچتا ہے کہ ٹھیک ہے، میرا کیریئر پیچھے رہ جائے تو کوئی بات نہیں، اب چاہے یہ فیصلہ شعوری طور پر ہو یا لاشعوری۔

نیو یارک سٹی کے ہنٹر کالج میں سماجیات کی پروفیسر پامیلا سٹون کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح سے، یہ انتخاب معقول ہے، پامیلا خواتین کے کام چھوڑنے سے متعلق کتاب ’اوپٹِنگ آوٹ‘ کی شریک مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دو کتابوں کے لیے انھوں نے جن خواتین کا انٹرویو کیا تھا ان میں انھوں نے دیکھا کہ مردوں نے تیز رفتار ترقی کی اور آگے بڑھے لیکن جب خواتین کے اپنے اندرونی فیصلے کرنے کی بات آتی ہے، تو وہ ایسی باتیں کہیں گی کہ ’مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ کمائی کے قابل ہو جائے گا۔

سٹون کا کہنا ہے کہ جب یہ ڈالر اور سینٹ کے بارے میں ہو تو انتخاب کے معاملے میں جذبات کہیں کھو جاتے ہیں، وہ کہتی ہیں، ’یہ خواتین کے بصارت سے محروم، یا آزاد خیال، ترقی پسند نہ ہونے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ اس بارے میں ہے کہ کس کے پاس بہتر موقع ہے۔ اگر آپ جوا کھیلنے والے شخص ہیں، تو آپ مرد کے کیریئر کے مضبوط ہونے پر شرط لگائیں گے کیونکہ مارکیٹ میں صنفی امتیاز موجود ہے۔

اب آپ ایک دن میں کتنے ٹویٹ دیکھ سکتے ہیں؟

 

ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹوئٹر پر صارفین دن میں کتنے ٹویٹ پڑھ سکتے ہیں، اس کی ایک عارضی حد مقرر کی گئی ہے۔

انھوں نے اپنے ہی ٹویٹ میں بتایا کہ غیر مصدقہ اکاؤنٹ اب سے دن میں صرف ایک ہزار پوسٹیں پڑھ سکیں گے۔ جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹس کے لیے یہ حد 500 ہوگی

البتہ فیس دے کر بلیو ٹک حاصل کرنے والے مصدقہ اکاؤنٹس دن میں 10 ہزار ٹویٹ پڑھ سکیں گے۔

 ٹوئٹر کے مالک نے ابتدائی طور پر ان حدود کو سخت رکھا مگر اعلان کے کچھ دیر بعد ان میں رد و بدل کیا۔

 وہ کہتے ہیں کہ عارضی حد بندی کا مقصد ’ڈیٹا سکریپنگ (کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ویب سائٹ سے معلومات لینا) اور سسٹم مینی پولیشن (نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) کی انتہائی بلند سطح‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔

 انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے کس سیاق و سباق میں سسٹم مینی پولیشن کا ذکر کیا ہے۔

ایلون مسک نے جمعے کو کہا کہ ’ڈیٹا کی چوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ عام صارفین کے لیے بھی سروس خراب ہونے لگی تھی۔‘ اس دوران صارفین سے ٹوئٹر کا مواد دیکھنے کے لیے دوبارہ لاگ ان کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

 

اس اقدام کو ’عارضی ہنگامی اقدام‘ کہا گیا ہے۔

 

یہ واضح نہیں کہ ڈیٹا سکریپنگ سے مسک کا کیا مطلب ہے تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیاں اپنے نظام یا لینگویج ماڈل کو بہتر کرنے کے لیے معلومات جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی معلومات کے ذریعے اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور گوگل بارڈ جیسے چیٹ باٹ کام کر پاتے ہیں۔

 

عام الفاظ میں ڈیٹا سکریپنگ سے مراد ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنا۔ بڑے لینگویج ماڈل کو مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے اصل انسانوں کی گفتگو سے سیکھنا پڑتا ہے۔

 

لیکن کسی چیٹ باٹ کی کامیابی کا راز اس کے معیار میں ہے۔ ریڈ اِٹ اور ٹوئٹر کے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ انھی وسائل سے اے آئی کمپنیاں اپنی سروسز کو بہتر بناتی ہیں

 

مگر ٹوئٹر اور ریڈ اِٹ جیسے پلیٹ فارم چاہتے ہیں کہ انھیں اس ڈیٹا کے بدلے ادائیگی کی جائے۔

 

اپریل میں ریڈ اِٹ کے سربراہ سٹیو ہفمین نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے اقدام سے ناخوش ہیں۔ ’ریڈ اِٹ کا ڈیٹا بہت قیمتی ہے۔ لیکن ہم یہ قیمتی ڈیٹا دنیا کی بڑی کمپنیوں کو مفت میں نہیں دینا چاہتے۔

 

اپنی سروس اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) تک رسائی کے لیے ٹوئٹر نے پہلے ہی صارفین سے رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کوئی ایپ، محقق یا اے آئی کمپنی ٹوئٹر کے مواد سے متعلق معلومات لے سکتی ہے۔

 

 

اس اقدام کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

 

مسک لوگوں کو ٹوئٹر بلیو میں شمولیت کا کہہ رہے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی وہ سروس ہے جس میں پیسے دے کر ایک شخص بلیو ٹک اور مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا ماڈل لا رہے ہوں جس میں ٹوئٹر کی مکمل سروس کے لیے صارفین کو پیسے دینا پڑیں اور اسی صورت انھیں لامحدود پوسٹوں تک رسائی مل سکے۔

 

مسک کے آنے سے قبل ٹوئٹر کا بلیو ٹک صرف معروف شخصیات کو مل پاتا تھا۔ اب محض آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا صارف کی پروفائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

ویب سائٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ٹول ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق برطانیہ اور امریکہ میں سنیچر کو ٹوئٹر تک رسائی میں ہزاروں صارفین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اس سے قبل مسک نے اعلان کیا تھا کہ مصدقہ اکاؤنٹ دن میں چھ ہزار، غیر مصدقہ 600 جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹ دن کی 300 پوسٹیں ہی دیکھ سکیں گے۔ مگر پھر مسک نے یہ حدیں بڑھا دیں۔

 

مسک کا خیال ہے کہ سینکڑوں ادارے ٹوئٹر کا ڈیٹا انتہائی تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر اس کا بوجھ ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اچانک بہت زیادہ سرورز کا بندوبست کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سرور اس بڑے کمپیوٹر کو کہا جاتا ہے جہاں صارفین کی فائل اور ویب پیج محفوظ ہوتے ہیں۔

 

برطانوی ماہر ایڈم لیون سمتھ نے کہا کہ یہ اقدام ’کافی غیر معمولی‘ ہے کیونکہ صارفین کی مواد تک رسائی محدود ہونے سے کمپنی کی اشتہاروں سے ہونے والی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔

 

مسک نے گذشتہ سال 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کو خرید لیا تھا۔ وہ سابقہ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

 

انھوں نے آتے ہی قریب آٹھ ہزار کے عملے کو کم کر کے 1500 کر دیا تھا۔ . کو دیے انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ عملے کو نوکریوں سے نکالنا آسان نہیں تھا۔

 

ٹوئٹر کے کئی انجینیئروں کو فارغ کیا گیا جس نے پلیٹ فارم کے موجودہ استحکام پر سوال اٹھائے ہوئے ہیں۔

 

اگرچہ مسک نے اس کے نظام میں خامیوں کو تسلیم کیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ٹوئٹر کی بندشیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہیں اور اب ویب سائٹ صحیح کام کر رہی ہے۔

دنیا کے سب سے وفادار کتے سے ’عقیدت‘ کیا اگلے سو برس بھی رہے گی؟

 

اگر آپ کا شمار بھی جانوروں سے محبت یا ان کی زندگی کے بارے میں جاننے والوں میں ہوتا ہے تو یقیناً آپ بھی کتوں کی مالک سے وفاداری سے بخوبی واقف ہوں گے۔

اور ہچیکو کی سچی کہانی بھی مالک سے وفاداری اور محبت سے متعلق ہے جس نے اپنے مالک کی موت کے بعد بھی جاپان کے ایک ٹرین سٹیشن پر اپنی ساری زندگی اس کے انتظار میں گزاری۔

سو سال پہلے پیدا ہونے والے اس دودھیا سفید نسل کے کتے کی یاد کو کتابوں اور فلموں سے لے کر سائنس فکشن تک میں امر کر دیا گیا ہے۔

ہچیکو پر بنائی گئی  چینی ورژن فلم 1987 کی ایک جاپانی ورژن کے بعد تیسری بار فلمائی گئی اور رچرڈ گیئر کے 2009 کی ہالی وڈ فلم کے بعد باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی ہے۔

یقیناً ایسی دوسری کہانیاں بھی ہیں لیکن کسی کی بھی ہچیکو جیسی عالمی پذیرائی نہ مل سکی۔ ہچیکو کا کانسی کا چمکدار مجسمہ ٹوکیو کے شیبویا سٹیشن کے باہر نصب ہے جہاں وہ بہت صبر و امید کے ساتھ دہائیوں سے اپنے مالک کا منتظر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

جاپانی بچوں کو سکول میں ہچیکو کی کہانی وفاداری اور بے لوث محبت کے سبق کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

ہچیکو کا یہ مجسمہ پہلی بار 1934 میں بنایا گیا تھا تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران اس مجسمہ کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اس کو 1948 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

جاپانی شہری بے لوث محبت اور وفاداری کے لیے ہچیکو کی مثالیں دیا کرتے ہیں۔ ہوائی یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹین یانو کا ہچیکو کے لیے کہنا ہے: ’وفادار، قابل اعتماد، مالک کے فرمانبردار، سمجھدار اور قابل بھروسہ ۔۔۔ اس کی خصوصیات کے لیے یہ الفاظ بھی کم ہیں۔‘

ہچیکو کے اپنے پہلے مالک تک پہنچنے کا سفر

اکیتا نسل سے تعلق رکھنے والا ہچیکو نومبر 1923 میں جاپان کے شہراوداٹے میں پیدا ہوا تھا۔ اکیتا جاپان میں بڑے سائز کے کتے کی ایسی نسل ہے جو وہاں کی قدیم اور مقبول نسلوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

1931 میں جاپانی حکومت نے اکیتا کو بطور قومی نشان بھی نامزد کیا تھا اور اسے جنگلی سؤر اور بارہ سنگھے جیسے جانوروں کا شکار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔

بچوں کے لیے انگریزی ادب لکھنے والے مصنف ایتسو ساکورابا لکھتے ہیں، ’اکیتا کتے پرسکون، مخلص، ذہین، اور بہادر ہوتے ہیں، جو اپنے مالک کےانتہائی فرمانبردار ہوتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ ایک ضدی شخصیت بھی رکھتے ہیں اور اپنے مالک کے علاوہ کسی کے قریب نہیں ہوتے۔‘

جس سال ہچیکو پیدا ہوا اس وقت زراعت کے ایک مشہورپروفیسر اور کتوں سے محبت کرنے والے ہائیڈیسابورو یوینو نے اپنےایک طالب علم سے کہا کہ وہ انھیں اکیتا نسل کے کتے کا بچہ ڈھونڈ دے۔

اس طرح ڈاکٹر یوینو کی فرمائش پر ٹرین کے ایک مشکل سفر کے بعد مخصوص نسل کے کتے کا چھوٹا سا بچہ 15 جنوری 1924 کو ضلع شیبویا میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچایا گیا۔

اس طویل سفر کے بعد ننھا ہچیکو جب اپنے مالک تک پہنچا تو اس کی طبیعت بگڑ چکی تھی۔ ابتدائی طور پر اسے مردہ سمجھا گیا۔ ہچیکو کی سوانح عمری لکھنے والے میومی ایتوہ کے مطابق یوینو اور ان کی اہلیہ یئی نے اگلے چھ ماہ تک چھوٹے سے ہچیکو کی اس کی دیکھ بھال کی تاکہ وہ مکمل صحت یاب ہو سکے۔

یوینو نے اس کا نام ’ہچی‘ (جاپانی زبان میں آٹھ) رکھا اور اس کے آگے ’کو‘ ان کے طالب علموں کی جانب سے دی گئی اضافت تھی۔

’وہ ہر شام ٹرین سے نکلنے والے ہر مسافر کو بغور دیکھتا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو‘

پروفیسر یونیو ہفتے میں کئی بار کام کرنے کے لیے ٹرین پر سفر کیا کرتے تھے۔ انھیں شیبویا سٹیشن تک کمپنی دینے ان کے ساتھ ہچیکو سمیت تینوں پالتو کتے جایا کرتے تھے اور پھر شام کو ان کی واپسی تک وہیں انتظار کرتے۔

21 مئی 1925 کو یونیومحض 53 سال کی عمر میں دماغ کی شریان پھٹ جانے کے باعث فوت ہو گئے۔ اس وقت ہچیکو صرف 16 ماہ رہا تھا۔

پروفیسرایتوہ لکھتے ہیں، ’جب لوگ ہشیکو کی آخری رسومات کے لیے ان کے جنازے پر جمع تھے اس وقت ہچیکو کو تابوت میں رکھے ڈاکٹر یوینو کے بدن کی خوشبو محسوس ہو گئی اور وہ تابوت کے پاس فرش پر اپنی تھوتنی(منھ کا اگلا حصہ) رکھ کر بیٹھ گیا اور وہاں سے ہلنے سے انکاری ہو گیا۔‘

اپنے مالک کی وفات کے بعد ہچیکو نے اگلے چند ماہ شیبویا شہر سے باہر مختلف خاندانوں کے ساتھ گزارے لیکن آخر کار 1925 کے موسم گرما میں وہ اپنے پہلے مالک کے باغبان کوبایشی کیکوسابورو کے پاس پہنچ گیا۔ اس علاقے میں واپسی کے بعد ہچیکو نے روزآنہ سٹیشن جانا اپنا معمول بنا لیا اور آندھی آئے یا طوفان موسم کی تمام سختیاں بھی ہچیکو کو اس معمول سے نہ روک سکیں۔

پروفیسر ایتوہ لکھتے ہیں ’ہچیکو کا معمول تھا کہ وہ ہر شام اپنی پرچاروں ٹانگوں پر کھڑا ٹرین سے نکلنے والے ہر مسافر کو بغور دیکھتا جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔‘

سٹیشن کے ملازمین ابتدا میں اس صورتحال سے کچھ پریشان ہوئے۔ کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے اس پر پانی پھینکتے تو چھوٹے لڑکے اسے پتھر مارتے مگر کوئی چیز ہچیکو کو روک نہ سکی۔ تاہم اکتوبر 1932 میں جب جاپانی روزنامہ ٹوکیو آساہی شمبن نے ہچیکو کے اس معمول کو خبروں کی زینت بنایا تو اس کہانی نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔

اس کے بعد ٹرین سٹیشن سے ہر روز ہچیکو کے لیے کھانا دیا جانے لگا جبکہ وفاداری کے خمیر سے گندھے اس کتے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔

UAE Freelancers Visa


 


 

 

 

Are you a freelancer looking for a UAE Visa? Those seeking virtual work residence visas will greatly benefit from the announcement made by the Federal Authority for Identity, Citizenship, Customs, and Port Security (ICP) in the UAE. Freelancers who are interested in applying for the visa will no longer be required to be physically present in the UAE during the application process. They can easily apply online.

 With this new change, those who wish to work remotely from the UAE can now complete the application process from their current location. This visa (virtual work residence) is only valid for one year (365 days) and can be renewed further under the revised terms and conditions of the visa by the UAE Government.

For visa applications, individuals can use the ICP’s website or the smart application (UAEICP). After the visa is approved, the applicant must enter the UAE within 60 days to complete the residence visa application process. In case of failure to enter UAE within the permitted timeframe, the permit will come invalid.

 The virtual work residence visa is only available to applicants who hold a passport with a minimum validity of six months, have a recent photograph, and have a valid health insurance policy.

 However, to be eligible, the freelancer needs to provide a bank statement showing an earning of a minimum of Dh360,000 for the last two years or the equivalent amount earned in any other currency. An applicant must also provide a salary slip from the previous month and three months’ worth of bank statements.

If an applicant does not meet the requirements, their application is declined automatically online after 30 days. It is important to note that the fee and financial guarantees are refundable if the request is declined by the ICP, in case the application is returned thrice for the same reason.

The fee for the virtual working program is AED350 per person. All applicants will receive the entry permit and all details in their email.

 The new policy provides advantages for both employees and companies, as it allows individuals to be in control of the work they take up and companies to avoid the risks of retaining employees.

 The minister stated that this would lead to an increase in productivity in the labor market, making individuals more valuable in the workforce. The introduction of the flexible work permit is expected to create up to 24,000 job opportunities by 2024, with businesses attracting and retaining a more diverse workforce.

 The UAE aims to support this trend and attract a more diverse workforce and capital by having a supportive legal framework.

You can apply for UAE Freelance VISA here.

امریکہ کا دیوالیہ ہونا



امریکی حکومت اس وقت تاریخ کا سب سے اہم اور پرخطر داؤ کھیل رہی ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز امریکہ کو مزید قرض لینے کی اجازت نہیں دیتے یا سادہ الفاظ میں قرض حاصل کرنے کی بالائی حد میں مزید اضافہ نہیں کرتے تو 31.4 کھرب ڈالرز کی مقروض دنیا کی سب سے بڑی معیشت دیوالیہ ہو جائے گی۔

امریکہ کو دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے یکم جون تک قرض کی حد بڑھانے سے متعلق حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتے ہیں تو امریکی چانسلر جرمی ہٹ کے بقول اس کے اثرات ’بہت تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

مگر امریکہ کو درپیش اس صورتحال کا امریکی و عالمی معیشت اور آپ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

معیشت پر اثرات

ماہرین نےبتایا کہا کہ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ امریکہ قرض کی وجہ سے دیوالیہ نہیں ہو گا۔

تاہم اگر ایسا ہو جاتا ہے تو انوسٹمنٹ بینک پانمور گورڈن کے چیف اکنامسٹ سائمن فرنچ سنہ 2008 میں عالمی سطح پر بینکنگ کی شعبے میں بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’تو یہ عالمی معاشی بحران کو ایک ٹی پارٹی بنا دے گا۔‘

اگر امریکہ اپنے قرض حاصل کرنے کی حد کو نہیں بڑھاتا تو وہ مزید قرض نہیں کر سکے گا اور اس کے بعد اسے حکومت کے خرچے پر اپنی عوام کو دی جانے والی مراعات، سہولیات اور دیگر ضروری ادائیگیوں کے لیے پیسوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اے جے بیل میں انوسٹمنٹ ڈائریکٹر روس مولڈ کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں امریکہ لوگوں کو ویلفیئر کے تحت رقوم کی ادائیگی بند کر دے گا اور لوگوں کی مالی مدد روک دی جائے گی جو ان کی خرچ کرنے کی صلاحیت اور اپنے بلوں کی ادائیگی کو متاثر کرے گی، لہذا اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔‘

وائٹ ہاؤس کی اقتصادی امور کے مشیروں کی کونسل نے تخیمنہ لگایا ہے کہ اگر طویل عرصے تک حکومت قرض حاصل کرنے کی حد بڑھانے کے کسی معاہدے ہر نہیں پہنچتی تو اس سے امریکی معیشت اپنے موجودہ حجم سے 6.1 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی میں کوئنز کالج کے صدر اور ماہر اقتصادی امور محمد ال ایرین کا کہنا ہے کہ ’دیوالیہ پن شاید امریکی کسادبازاری کا صرف نقطہ آغاز ہو۔‘

جس کے امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار یعنی برطانیہ سمیت دنیا بھر پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس صورت میں یہ دنیا بھر سے کم چیزیں خریدے گا۔‘

ال ایریان نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں کساد بازاری برطانیہ میں بھی معیشت کو سست کر دے گی لیکن سائمن فرنچ کو اس کا ’100 فیصد‘ یقین ہے۔

شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا دیوالیہ ہونا نہ صرف تجارت کو نقصان پہنچائے گا بلکہ برطانیہ میں رہن کی شرح سود میں بھی مزید اضافہ کرے گا اور اس سے برطانیہ میں بے روزگاری میں اضافہ بھی سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کافی تباہ کن ہو گا۔‘

لیکن امریکہ میں معاشی مسائل برطانیہ میں گھر کے لیے جانے والے قرضوں کو مزید مہنگا کیوں کریں گے؟

جو کوئی حکومت مزید قرض لینا چاہتی ہے تو وہ مارکیٹ میں ایک بانڈ یا آئی او یو جاری کرتی ہے۔ امریکہ میں اس قسم کے حکومتی بانڈ کو ٹریریئری بانڈ کہا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں اسے گلٹ کہتے ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ دار حکومت سے گلٹ یا ٹریرئیری بانڈ خریدتا ہے تو وہ حکومت سے اس پر سود وصول کرتا ہے۔

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکی حکومت اپنا قرض واپس نہ کر سکے یا حتی کہ اس پر سود کی رقم کی ادائیگی بھی نہ کر سکے تو سرمایہ کار اس کو دیکھتے ہوئے کہیں گے کہ اگر امریکہ دیوالیہ ہو سکتا ہے تو برطانیہ بھی ہو سکتا ہے۔

ایسے میں سرمایہ کار برطانیہ کے قرض کے لیے جاری کردہ گلٹ کو خریدتے وقت زیادہ شرح سود کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’قرض پر شرح سود میں اضافہ ، چاہے یہ رہن کا قرض ہو یا دوسرا قرض، وہ (سرمایہ دار) اس میں حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اور معاشی صورتحال اور ممکنہ دیوالیہ ہونے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حصے ضرور لیں گے۔ لہذا تما تر قرض کی سہولیات راتوں رات بہت مہنگی ہو جائیں گی۔


نو کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ کے جواہرات کی ڈکیتی جرمنی کے عجائب گھرمیں

 

جرمنی کے شہر ڈریسڈین میں زیوارت کی چوری میں ملوث پانچ افراد کو سزا سنا دی گئی ہے۔

سنہ 2019 میں ان چوروں کی جانب سے شہر کے میوزیم سے نو کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے ہیرے جواہرات چرائے گئے تھے۔

پولیس نے بعد میں متعدد زیورات برآمد کر لیے جن میں ایک ایسی تلوار بھی تھی جس میں ہیرے جڑے ہوئے تھے لیکن خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید چوری کیے جانے والے کئی زیورات کبھی برآمد نہ کیے جا سکیں۔

یہ تمام افراد ایک بدنامِ زمانہ جرائم پیشہ گروہ کے اراکین ہیں اور انھیں چار سے چھ سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ہ ڈکیتی ایک منصوبے کے تحت کی گئی تھی۔ یہ گینگ جو برلن میں مقیم تھا اس نے اس جگہ کا متعدد مرتبہ دورہ کیا اور میوزیم میں داخلے کے لیے راستے کا چناؤ پہلے ہی کر لیا۔ انھوں نے ہائڈرالک کٹنگ مشین کے ذریعے ایک کھڑکی کی سلاخیں کاٹیں تاہم بعد میں انھیں ٹیپ کے ساتھ عارضی طور پر جوڑ بھی دیا تاکہ ڈکیتی کے روز یہاں سے آسانی سے داخل ہوا جا سکے۔

پھر 25 نومبر 2019 کو علی الصبح انھوں نے میوزیم کے قریب ایک سرکٹ بریکر پینل میں آگ لگائی جس سے میوزیم کے گرد موجود گلیوں میں اندھیرا چھا گیا اور اس دوران دو افراد میوزیم میں داخل ہو گئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈاکوؤں کو ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے اور ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں جس کی مدد سے انھوں نے گریونس گیوایلبی میوزیم میں موجود شو کیسز کے شیشے توڑے اور ان میں نمائش کے لیے رکھے زیورات نکالے۔

اس کے بعد ڈاکوؤں نے آگ بجھانے والے آلے کا فوم پورے کمرے میں فرش پر سپرے کر دیا تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔ اس کے بعد وہ آڈی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے جسے بعد میں انھوں نے اسے ایک کار پارک میں چھوڑ دیا اور اسے آگ لگا دی جس کے بعد وہ جرمنی کے دارالحکومت برلن روانہ ہو گئے۔

ایک سال تک کی جانے والی تحقیقات کے بعد پولیس نے پہلی گرفتاریاں کیں۔ جن افراد کو سزا دی گئی ہے ان سب کا تعلق ریمو نامی گروہ سے ہے۔ جرمنی میں اس طرح کے متعدد گروہ موجود ہیں اور یہ منصوبے کے تحت کیے جانے والے جرائم میں ملوث رہے ہیں، جن میں ایک ڈیپارٹمنٹ سٹور اور بینک ڈکیتی بھی شامل ہے۔

ڈریسڈن میں ہونے والی ڈکیتی میں شامل ایک ڈاکو کو اس سے قبل ایک بڑے سائز کا سونے کا سکہ چرانے کے الزام میں بھی سزا ہوئی تھی جس کا وزن 100 کلو تھا۔ یہ سنہ 2017 میں برلن کے بودے میوزیم سے چرایا گیا تھا۔ یہ سکہ کبھی برآمد نہیں ہو سکا تھا اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یا تو اسے پھگلا دیا گیا، یا توڑ دیا گیا ہو گا۔

ڈریسڈن کے سٹیٹ آرٹ کلیکشن کی ڈائریکٹر پروفیسر ماریون ایکرمین کہتی ہیں کہ ’ایسے افراد بھی ہیں جو آرٹ کے لیے اپنے لگاؤ کے باعث چیزیں چراتے ہیں، لیکن یہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ انھیں بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ انھوں نے کیا چرایا ہے۔‘

آغاز میں اس حوالے سے خدشات موجود تھے کے سونے کے سکے کی طرح ہیرے جواہرات کا یہ خزانہ بھی اب کبھی نہیں ملے گا تاہم جب تین ملزمان نے اعترافِ جرم کیا تو اس میں سے اکثر اشیا واپس کر دی گئیں کیونکہ انھوں نے ان کی موجودگی کی جگہ کے بارے میں بتا دیا تھا تاکہ انھیں کم سزا ملے۔

تاہم اب بھی متعدد اشیا غائب ہیں جن میں ایک نایاب ہیرا بھی شامل ہے جسے وائٹ سٹون آف سیکسونی کہا جاتا ہے۔

یہ تمام ہیرے جواہرات دراصل 18 صدی میں آگسٹس دی سٹرانگ کی جانب سے جمع کیے گئے تھے جو اس وقت سیکسونی کے ایلیکٹر تھے۔

انھوں نے نہ صرف ایسی اشیا اکٹھی کی تھیں جن پر ہیرے جڑے ہوئے تھے بلکہ وہ گرین والٹ بھی ڈیزائن کیا جہاں انھیں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔


پروفیسر ایکرمین کا کہنا ہے کہ جو اشیا تاحال گمشدہ ہیں ان کا نہ ہونا اس لیے تکلیف دہ ہے کیونکہ آگسٹس چاہتے تھے کہ جو بھی شخص انھیں دیکھنے آئے وہ تمام اشیا کو ایک ترتیب سے دیکھے اور ان سب کی موجودگی اور دلکش پتھروں اور رنگوں سے متاثر ہو۔

اس ڈکیتی نے آرٹ کی دنیا کو ہلا کر تو رکھ دیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میوزیم کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔

مقدمے کے دوران ایک ڈاکو نے بھی ناقص سکیورٹی کے حوالے سے حیرت کا اظہار کیا کہ وہ کھڑکی کی سلاخیں کاٹنے میں بغیر کسی پریشانی کے کامیاب ہوئے تھے حالانکہ اس عمل کے دوران آواز بھی آ رہی تھی۔

پروفیسر ایکرمین نے بتایا کہ میوزیم کی سکیورٹی کی ذمہ داری ڈریسڈن سٹیٹ آرٹ کلیکشن اور ایک سرکاری ادارے کے درمیان تقسیم کی گئی تھی اور ان کے مطابق یہ نظام جرمنی میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ایک سکیورٹی نظام میں متعدد چیزوں پر غور کیا جاتا ہے۔ ان میں عمارت، ادارہ اور تکنیکی پہلو۔ ان تمام پہلوؤں کا کام کرنا ضروری ہے اور اس دوران متعدد چیزیں کام نہیں کر رہی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جس نظام سے میوزیم کی باہر کی دیواروں کی نگرانی کی جاتی تھی وہ فیل ہو گیا اور جو گارڈ اس دوران مرکزی سکیورٹی روم میں بیٹھے تھے جنھوں نے یہ ساری صورتحال اپنے مانیٹرز پر دیکھی پولیس کو بلانے میں سست روی کا شکار نظر آئے۔

پولیس نے ان چار سکیورٹی گارڈز کے خلاف بھی انکوائری کی تھی کہ کہیں وہ بھی ڈاکوؤں کی سہولت کاری نہیں کر رہے تھے تاہم گذشتہ برس یہ انکوائریاں بند کر دی گئیں۔

آج اس میوزیم کا سکیورٹی سسٹم دوبارہ نصب کیا گیا ہے اور میوزیم سٹاف نے اپنی ساری توجہ ان جواہرات کی واپسی پر مرکوز کر رکھی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ آگسٹس کا خزانہ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں لایا جا سکتا ہے اور اپنی پرانی حالت میں اس کی نمائش ہو سکتی ہے۔ تاہم کچھ افراد کا خیال کہ شاید اب یہ کلیکشن کبھی بھی مکمل نہ ہو پائے۔


گاڑی پر برطانیہ سے پاکستان کا سفر

 


برطانیہ سے پاکستان تک کا طویل سفر وہ بھی گاڑی پر۔۔۔ یہ سُننے میں مشکل تو لگتا ہے، مگر یہ اتنا ہی دلچسپ بھی ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد سرور اور اُن کے بھانجے محمد ساجد نے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو سے پاکستان تک یہ سفر بذریعہ سڑک نو دن میں طے کیا۔

محمد سرور نے  بتایا کہ انھیں گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔ چھ سال سے ایک مرسیڈیز کار ان کے زیر استعمال ہے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ کبھی اس گاڑی پر کہیں دور کا سفر کریں لیکن اُن کو اپنے ساتھ دوسرا ڈرائیور نہیں ملتا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے خاندان کا گلاسگو میں ریستوران کا کاروبار ہے اور اُن کے ایک بھانجے، جو یہی کام کرتے ہیں، نے ان کے ساتھ یہ دلچسپ سفر کرنے کی حامی بھری۔


محمد سروربتاتے ہیں کہ ’ایک دن میں نے اپنے بھانجے سے بات کی کہ میں بذریعہ سڑک پاکستان جانا چاہتا ہوں مگر دوسرا ڈرائیور نہیں مل رہا۔ یہ سننے پر میرا بھانجا فوراً اس سفر کے لیے آمادہ ہو گیا اور کہا کہ وہ ایک ہفتے کی چھٹی لے کر ساتھ چلتے ہیں۔ جتنا بھی پیپر ورک تھا، وہ کام میرے بھانجے نے کیا اور جو گاڑی کے تکنیکی کام تھے، وہ میں نے کیے۔‘

محمد سرور بتاتے ہیں کہ جس ملک کے آپ شہری ہوتے ہیں اُس ملک تک کار میس سفر کرنے کے لیے آپ کو اپنے برطانوی پاسپورٹ پر ویزا لگوانا پڑتا ہے۔

محمد سرور کے مطابق وہ گلاسگو سے لندن اور وہاں سے پھر فرانس میں داخل ہوئے۔ فرانس سے بیلجیئم، پھر جرمنی اور پھر آسٹریا کے بعد ہنگری پہنچے اور پہلے دو دن میں پانچ ممالک سے گزر گئے۔

’گلاسگو سے سوچ کر چلے تھے کہ ترکی میں کباب کھائیں گے‘

لیکن سفر کی اصل داستان اس کے بعد شروع ہوئی۔ محمد سرور بتاتے ہیں کہ دو دن میں پانچ ممالک کا سفر کرنے کے بعد وہ بہت خوش تھے کہ اب چار دن میں وہ پاکستان پہنچ جائیں گے لیکن آگے کا سفر تھوڑا مشکل اور ایڈوینچر والا تھا۔

بلغاریہ کی سرحد پر ان کی اچھی خاصی تلاشی بھی لی گئی لیکن سب سے زیادہ وقت ترکی تک سفر میں لگا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ترکی کے سفر کا ٹائم تقریباً بیس گھنٹے ہے۔ اُدھر ہمیں تین دن لگے، وہاں ہمیں ناردرن ایریا سے گزرنا پڑا، وہاں سردی بہت زیادہ تھی اور درجہ حرارت منفی 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک تھا۔

’سفر کا یہ حصہ بہت مشکل تھا۔ درجہ حرارت منفی میں ہونے کی وجہ سے جب گاڑی کی ہیٹنگ بھی ختم ہو گئی اور کافی زیادہ دھند تھی تو وہاں ہمیں رات رکنا پڑا۔ وہ دو دن ہمارے مشکل تھے مگر سب کنٹرول میں تھا۔‘

’ہمیں خود پر یقین تھا۔ ہم گلاسگو سے یہ سوچ کر چلے تھے کہ ترکی میں ہم کباب کھائیں گے، جو ہم نے کھائے اور آدھا دن استنبول میں گزارا۔‘

محمد سرور بتاتے ہیں کہ ’ہم نے اپنے آپ کو زیادہ نہیں تھکایا۔ چار سے پانچ گھنٹے میں گاڑی چلاتا تھا اور پھر میرا بھانجا گاڑی چلا لیتا تھا۔ ہم سفر کا لطف لے رہے تھے۔‘

وہ آگے کی دقتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایران میں ویزہ کا سسٹم تھوڑا مشکل ہے۔ ’وہاں گاڑی کی انشورنس بھی کروانی تھی کیونکہ ایران میں یورپ کی انشورنس نہیں چلتی۔‘

ہمیں ایران میں پاکستان ایران بارڈر پر رات گزارنا پڑی۔ وہ بتاتے ہیں یہاں ان سے اندازے کی غلطی ہو گئی کیونکہ وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ سرحد کھلنے کا جو وقت انٹرنیٹ پر ہے اس وقت پر بارڈر کھلے گا لیکن سرحد ایران کے مقامی وقت کے مطابق کھلنا تھا۔

اب باری تھی تافتان سے پاکستان میں داخل ہونے کی۔ محمد سرور نے بتایا کہ تافتان بارڈر پر انھیں بہت زیادہ پروٹوکول ملا۔

’سب سے مہنگا پیٹرول انگلینڈ، سب سے سستا ایران میں ملا‘

محمد سرور نے ایران کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایران کے شہر زاہدان میں ہم نے پیٹرول ڈلوانا تھا۔

’ہم وہاں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آیا، اُس نے کارڈ نکالا اور پیٹرول ڈالنا شروع کر دیا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ گاڑی میں 76 لیٹر پیٹرول ڈالا تھا۔ میں نے اس شخص کو پیسے دینے کی کوشش کی تو اس نے منع کر دیا۔‘

’میں نے زور ڈالا تو وہ کہنے لگا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور ایران کی حکومت کی جانب سے یہاں آنے والے مہمانوں کو ایک ٹینک فیول کا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔‘

محمد سرور نے بتایا کہ اس طویل سفر میں ان کے نو دن لگے اور اس دوران سب سے زیادہ مہنگا پیٹرول انھیں انگلینڈ جبکہ سب سے سستا ایران میں ملا۔

’پورے سفر میں 80 لیٹر والے 11 ٹینک لگے یعنی تقریباً 900 لیٹر پیٹرول۔ پاکستانی کرنسی میں پیٹرول پر ہمارا تقریباً تین لاکھ روپے خرچ آیا۔‘

’طویل سفر بڑی کار پر ہی کریں‘

سفر کے تجربات کے حوالے سے محمد سرور بتاتے ہیں کہ جو بھی لوگ ایسا سفر کرنا چاہیں ان کو ٹن فووڈ اور خشک میوہ جات ساتھ رکھنے چاہیے۔

وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ میڈیکل کی چیزیں بھی ساتھ ہونا لازمی ہیں۔

’سفر کے آغاز میں ہی ہمارے گلے خراب ہو گئے اور وہ ہم برداشت کرتے رہے۔ ترکی میں آ کر اینٹی بائیوٹک دوا لی جو بہت مہنگی تھی لیکن اس سے ہماری طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔ پھر ہم نے ایران میں آ کر دوبارہ اینٹی بائیوٹک لی۔‘

سفر میں گاڑی خراب ہو تو سفر مصیبت بن جاتا ہے مگر محمد سرور اس مشکل سے محفوظ رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گاڑی نے انھیں بالکل بھی تنگ نہیں کیا۔

’میں باقی لوگوں کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ اگر کسی نے اتنا طویل سفر کرنا ہو تو وہ بڑی کار پر ہی کریں کیونکہ سفر بہت آرام دہ ہوتا ہے۔‘



ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات

 

ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پر 16 کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ خرچہ آیا

برطانیہ کی وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات اور سوگ کے دوران ہونے والی دیگر تقریبات پر حکومت کو تقریباً 16 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ تک کے اخراجات آئے۔

ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات ان کی وفات کے 11 روز بعد 19 ستمبر 2022 کو ادا کی گئی تھیں۔

اس دورانیے میں میں ہزاروں افراد نے ویسٹ منسٹر ایبے جا کر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے سات کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈ جبکہ محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل نے پانچ کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے۔

حکومتی محکموں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات ملکہ کی آخری رسومات اور اس سے قبل دیگر تقریبات کی مد میں آئے۔

وزارتِ خزانہ کے چیف سیکریٹری جان گلین کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کی ترجیح یہی تھی کہ ’تمام تقریبات پرسکون انداز میں ہوں اور انھیں پروقار انداز میں کیا جائے جبکہ ساتھ ہی عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔‘

پارلیمان میں جمع کروائے گئے بیان میں جان گلین کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے جہاں تک ہو سکتا تھا اضافہ فنڈنگ بھی دی اور سکاٹس، ویلش اور شمالی آئرلینڈ کی حکومتوں کو اخراجات کی مکمل واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔

اس حوالے سے آنے والے اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل – 57.42 ملین پاؤنڈ

محکمہ ٹرانسپورٹ – 2.565 ملین پاؤنڈ

محکمہ خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ – 2.096 ملین پاؤنڈ

محکمہ داخلہ – 73.68 ملین پاؤنڈ

محکمہ دفاع – 2.890 ملین پاؤنڈ

شمالی آئرلینڈ آفس – 2.134 ملین پاؤنڈ

سکاٹش حکومت – 18.756 ملین پاونڈ

ویلش حکومت – 2.202 ملین پاؤنڈ

مجموعی اخراجات – 161.743 ملین پاؤنڈ


برطانیہ میں ملکہ الزبتھ دوم کی 96 برس کی عمر میں وفات کے بعد 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

ملکہ کے تابوت کو ایڈنبرا میں سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں 24 گھنٹے کے لیے رکھا گیا تھا جس کے بعد اسے لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے میں لے جایا گیا تھا، جہاں ہزاروں سوگواران نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

فٹبالر ڈیوڈ بیکم سمیت لندن میں ہزاروں افراد دن کے ہر گھنٹے میں سخت ٹھنڈ میں بھی ویسٹ منسٹر ایبے کے باہر جمع ہوتے رہے۔

کئی مرتبہ انتظار کا دورانیہ 24 گھنٹے سے بھی زیادہ تھا اور قطار 11 کلومیٹر طویل۔ ریاست کی جانب سے کیے گئے آخری رسومات کے انتظامات نے پولیس کو ’برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن‘ کرنے پر مجبور کیا۔

دنیا بھر کے رہنماؤں اور غیرملکی شاہی خاندان ویسٹ منسٹر ایبے میں آخری رسومات کے لیے برطانوی شاہی خاندان کا ساتھ دینے کے لیے شریف ہوئے۔

اس دوران امریکی صدر جو بائیڈن، اس وقت کی برطانوی وزیرِ اعظم لز ٹرس ان دو ہزار افراد میں شامل تھے جو وہاں موجود تھے۔

اس کے لیے ان رسومات کو کروڑوں افراد نے برطانیہ اور دنیا بھر میں اپنی ٹی وی سکرینز پر دیکھا۔ یہ سر ونسٹن چرچل کی 1965 میں وفات کے بعد سے ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی پہلا جنازہ تھا۔

بکنگھم پیلس کے مطابق اس دوران آنے والے اخراجات ان تقریبات کو اچھے انداز میں تکمیل تک پہنچانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش تھی کہ برطانیہ اور دنیا بھر سے افراد محفوظ انداز میں اس میں شریک ہو سکیں۔

حکومتی ترجمان کے مطابق ’ظاہر ہے یہ بین الاقوامی حیثیت کی حامل تقریب تھی اور ہم چاہتے تھے کہ لوگ آ کر خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔‘