تازہ ترین
Search
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 24, 2021 / comment : 0 اسلام, اہم خبریں, بلاگ, بین الاقوامی, پاکستان, ٹیکنالوجی, صحت, فری لانسنگ, کھیل
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
قربانی: تاریخ اور مذاہب کے پس منظر میں
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 16, 2018 / comment : 0 اسلام
قربانی: تاریخ اور مذاہب کے پس منظر میں
راغب اصفہانی نے قربانی کی جو تعریف کی ہے وہ دراصل توحید پرستی کے تصور پر مبنی ہے۔کہتے ہیں:
قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور(بعدازاں) عرب میں قربانی کا جانور ذبح کرنے کا نام ہو گیا۔(مفردات)
ایڈورڈ بارنٹ ٹالور(۱۹۱۷۔۱۸۳۲) کی رائے ہے:
قربانی موجودات ماورائے طبیعات کے لیے ایک ہدیہ ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے ان کی توجہ حاصل کی جاسکے یا ان کی ناراضی کو کم کیا جاسکے۔
(vss sarifice. Encyclopaedia of religion and ethics 1947)
قدیم زمانوں سے
قربانی کی رسم قدیم ترین زمانوں سے جاری ہے۔ مختلف قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں میں قربانی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں رہا ہے۔ قربانی بھی طرح طرح کی رہی ہے۔ جمادات، نباتات اورحیوانات سب کی قربانی ہوتی رہی ہے۔ کبھی تو انسانوں کی قربانی بھی ہوتی رہی ہے۔ قربانی کی بعض صورتیں تو غیرعاقلانہ رہی ہیں۔ معقول و نامعقول قربانیوں کی صورتیں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
بعض انسان طبیعی عوامل مثلاً آسمانی بجلی یا زلزلے کے خوف سے خداؤں کی خدمت میں ہدیے پیش کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی پناہ یا خوشنودی حاصل کر سکیں۔ وہ انہی طبیعی مظاہر کے لیے خدائی کے قائل بھی رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں گوشت، غلہ، پھل، شراب اور گھی وغیرہ بھی قربانی کے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے انسانوں نے سورج، حیوانات یا بتوں کی پوجا شروع کردی۔ بعض انسان اپنے اموال بتوں کے قدموں میں رکھ دیتے تھے۔ بعض لوگ اپنے معصوم بچوں کو خداؤں کے نام پر قربان کر دیتے تھے۔
آشوری اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے۔ ہندوؤں کے ہاں بھی تطہیر اور پاکی کے لیے یہ کا م انجام دیا جاتا تھا۔ زیادہ تر عرب سامی اقوام کی طرح اپنی قربانیوں کے خون کا چھڑکاؤ کرتے تھے یا پھر فنیقیوں کی طرح دودھ کاچھڑکاؤ کرتے تھے۔ بعض لوگ خون کے بجائے شراب کا چھڑکاؤ کرنے لگے اور وہ اسے انگور کا خون قرار دیتے تھے۔ بعض قوموں میں خود خداؤں کی قربانی کا بھی رواج رہا ہے۔ ہندوؤں کی بعض قدیم کتابوں کے مطابق خدا قربانی دے کر بہشت حاصل کرتے تھے۔
دومۃ الجندل کے لوگ ہر سال خاص انداز سے ایک شخص کا انتخاب کرتے اور اپنے خداؤں اور بتوں کے حضور اسے قربان کر دیتے پھر اس کا جسم قربان گاہ کے قریب دفن کر دیتے۔
عبدا لصبور شاکر اپنے ایک مقالے ’’مذاہب عالم میں قربانی کا تصور‘‘میں مختلف ملکوں اور قوموں کے ہاں قربانی کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
۔۔۔ افریقا، جنوبی امریکا، انڈونیشیا،جرمنی اور سکینڈے نیویا کے بعض قبائل اپنے دیوتاؤں کے غضب سے بچنے، ان کی خوشنودی حاصل کرنے، کسی نئی عمارت، پُل یا بادشاہ کی موت، یا ناگہانی آفت کے وقت انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق قدیم یونانی بھی انسان کی قربانی کے قائل تھے جس کی تصدیق ان ہڈیوں سے ہوتی ہے جنھیں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران برآمد کیا ہے۔ کریٹ کے قلعے سے ملنے والی بچوں کی ہڈیاں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ انھیں ذبح کیا گیاتھا۔
شکرانے کے لیے: کہا جاتا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں روم میں کنسولی کامیل کے زمانے میں سینٹ اور عوام میں اختلاف کے خاتمے پر جشن برپا کیا گیا اور تمام عبادت گاہوں میں خداؤں کے شکرانے کے لیے قربانیاں پیش کی گئیں۔
شہزادے کی قربانی: مغربی ایشیا کے سامی بادشاہوں میں سے ایک کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ موآب(جو شام کا علاقہ تھا) کے بادشاہ نے جب اپنی سلطنت کو بنی اسرائیل سے خطرے میں محسوس کیا تو اپنے بڑے بیٹے کو خداؤں کے حضور فدیہ کردیا۔ یہ اس کا وہی بیٹا تھا جسے اس کا جانشین ہونا تھا۔ بادشاہ کے حکم پر اسے شہر کی قربان گاہ پر لے گئے جہاں اسے فدیہ کے نام پر قتل کردیا گیا اور اس کے جسم کو جلا دیا گیا۔
خوبصورت قیدی کی قربانی: عرب کے بہت سے قبیلے جب کسی جنگ میں کامیاب ہو جاتے تو مغلوب قوم کے اموال لوٹ لیتے اور ان کے لوگوں کو قیدی بنا لیتے۔ اس فتح کے شکرانے میں وہ جو کام انجام دیتے ان میں سے ایک یہ تھا کہ قیدیوں میں سے خوبصورت ترین شخص کو اپنے بتوں کے حضور قربان کر دیتے۔ اس کے خون کو کامیابی کے تسلسل کے لیے اپنے سر اور چہرے پر ملتے۔
غیر خونی قربانی: بعض قدیم ادیان میں غیر خونی قربانی کی سلسلہ بھی رائج رہا ہے مثلاً پھلوں، سبزیوں، اناج کے دانوں، مائعات خصوصاً پانی اور شراب کو قربانی کے عنوان سے پیش کیا جاتا تھا۔ چیزوں اور حیوانوں کو قربانی کے لیے وقف کردیا جاتا تھا ۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ نباتات کی قربانی تازہ اتارے گئے پھلوں کو ہدیے کے طور پر پیش کرنے سے شروع ہوئی۔ یہ زمین کے مالک کی طرف سے ایک طرح کی مالی قربانی یا ٹیکس کی ادائیگی شمار ہوتی تھی۔
دریا کی روانی کے لیے دوشیزہ کی قربانی: قبل ازاسلام کے مصری لوگ دریائے نیل کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ایک خوبصورت اور کنواری دوشیزہ کی قربانی دیتے تھے جسے زیورات وغیرہ سے سجا سنوار کر دریا کے عین وسط میں چھوڑ دیا جاتا جس کے بعد دریائے نیل رواں ہو جاتا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ادیان میں جانور کی قربانی اصلاً ممنوع ہے۔ مثلاً بدھ مت اور ہندومت کے ہاں جانور کی قربانی منع ہے۔ بدھ مت میں تو اب بھی یہی تصور پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زرتشت کے ہاں بھی جانور کی قربانی کا تصور نہ تھا اور بعد میں ان کے ماننے والوں کے ہاں درآیا۔
ہندوؤں کا مسئلہ بہت عجیب ہے کہ ان کے ہاں جہاں ایک طرف جانور کی قربانی منع ہے وہاں انسانوں کی قربانی کا تصور اب بھی پایا جاتا ہے۔ ستی کی رسم تو کچھ عرصہ پہلے تک رائج رہی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ہم وکی پیڈیا سے پیش کرتے ہیں:
ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوہ کا شوہر کی چتا میں جل کر مرنا ستی کہلاتا ہے۔ جو ہندو مردے کو جلانے کی بجائے دفن کرتے تھے وہ بیوہ کو بھی زندہ دفن کرکے ستی کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب شوہر کی موت کہیں اور ہوتی تھی اور لاش موجود نہ ہوتی تھی تو ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے بیوہ کو شوہر کی کسی استعمال شدہ چیز کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔
ہندوستان میں ستی کا رواج بنگال میں زیادہ عام تھا۔ ستی ہونے والی خاتون کو ماتمی لباس کی بجائے شادی کے کپڑے پہنائے جاتے تھے اور ستی کی کافی ساری رسمیں شادی کی رسومات سے ملتی جلتی ہوتی تھیں۔ سمجھا جاتا تھا کہ ستی ہونے سے جوڑے کے تمام گناہ دھل جائیں گے، انھیں نجات حاصل ہوگی اور وہ موت کے بعد بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
ستی کی رسم مذہب میں کیسے داخل ہوئی اس پر ایک بہت قابل توجہ پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس زمانے میں امیر اور با اثر عمررسیدہ لوگ جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے تھے مگر انھیں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کی جوان بیوی کاکسی ہم عمر مرد سے معاشقہ نہ ہو جائے اور بیوی شوہر کو زہر نہ دے دے۔ ستی کی اس رسم کو مذہبی رنگ دینے سے بیوی اپنے شوہر کو کبھی بھی زہر دینے کی جرأت نہیں کرے گی تاکہ خود بھی جل مرنے سے محفوظ رہے۔
قربانی کے مقاصد عام طور پر اس طرح سے رہے ہیں:
۱۔ اللہ کی حمد اور شکر کے اظہار کے لیے
۲۔ طلب حاجت کے لیے
۳۔ حصول رضا کے لیے
۴۔ خدا یا خداؤں کے غضب کو ٹالنے کے لیے
۵۔ گناہوں کے کفارے کے لیے
۶۔ دنیا کی بہتری کے لیے
۷۔ خداؤں کے ساتھ مل کر غذا کھانے کے لیے
۸۔ مستقبل کے واقعات کی پیش بینی کے لیے
۹۔ مجالس کی برکت کے لیے، وغیرہ
گاہے ایک قربانی کے متعدد مقاصد بھی ہوتے تھے۔
قرآن حکیم نے بھی یہ بات بیان کی ہے کہ قربانی کی رسم تمام قوموں اور امتوں میں موجود رہی ہے۔ تاہم قرآن کا قربانی کا تصور تاریخ کے بہت سے انحرافی تصورات سے مختلف ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۴میں ہے:
ترجمہ: قربانی ہم نے ہر امت کے لیے مقرر کی تھی تاکہ جن چوپایوں کا گوشت انھیں کھلایا جاتا تھا اس پر اللہ کا نام لیں پس تمھارا الٰہ وہ ایک ہی معبود ہے لہٰذا اس کے حضور سر تسلیم خم کرو اور عجزگزاروں کو بشارت دو۔
اس آیت سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے انبیا کی طرف سے ان کی امتوں کو قربانی کا پیغام دیا گیا البتہ یہ قربانی جانوروں کی تھی، وہ جانور جو لوگ خود چوپایوں کے طور پر استعمال کرتے تھے اور جن کا گوشت ان کے ہاں کھایا جاتا تھا۔مَا رَزَقَھُمْ سے یہی معنی مترشح ہوتا ہے کہ یہ ان چوپایوں کی قربانی تھی جو ان کے ہاں غذا کے طور پر کھائے جاتے تھے۔ نیز یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ یہ قربانی خالص اللہ کے لیے تھی اور اللہ ہی کے نام پر کی جاتی تھی۔ سورہ حج ہی کی ایک اور آیت ۶۷میں ہے:
ترجمہ: ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی تھی اور وہ لوگ اس کی قربانی کرتے تھے۔ پس وہ لوگ اس معاملے میں آپ سے جھگڑا نہ کریں اور آپ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں آپ یقیناً راہ راست پر ہیں۔
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ امتوں میں رائج جس طرح کی قربانی کا تصور پیش کرتے تھے بعض اہلِ ادیان اس کی مخالفت کرتے تھے اور اس تصور کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اگر ہم آنحضرتؐ کے زمانے کے مشرکین اور اہل کتاب کے ہاں جاری قربانی کے دستوروں کا مطالعہ کریں تو اس اختلاف کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے ’’نسیکہ‘‘ ، ’ ’نسک‘‘ اور ’’منسک‘‘ کے الفاظ پہلے قربانی کے مفہوم ہی میں استعمال ہوتے تھے بعد میں عمومی طور پر شریعت یا شرعی اعمال کے لیے استعمال ہونے لگے۔ اس طرح یہاں منسک کا معنی قربانی اس کے ایک بنیادی مصداق کے طور پر کیا گیا ہے۔
حج کے موقع پر بھی جس قربانی کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ چوپایوں ہی کی قربانی ہے۔ البتہ یہ قربانی حج کے اعمال کا ناگزیر حصہ ہے۔ علاوہ ازیں حج کے موقع پر مختلف کوتاہیوں اور کمیوں یا خلاف ورزیوں کی صورت میں بھی کفارے کے طور پر قربانی کا تصور موجود ہے۔ یہ قربانی بھی جانوروں ہی کی قربانی پر مشتمل ہے۔ بعض احکام کی عدم تعمیل پر بھی جانوروں کی قربانی کا حکم موجود ہے، اس سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۶ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۷سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں گوشت اور خون رکھنے والے جانوروں کی قربانی کا حکم دیاگیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
ترجمہ: اللہ تک ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اس کے پاس صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
قرآن حکیم نے جس قدیم ترین قربانی کا ذکر کیا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ قربانی حضرت آدمؑ کے دو فرزندوں ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھی چنانچہ اس واقعہ کی طرف قرآن نے سورۃ مائدہ آیت ۲۷،۲۸ میں ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
ان سے آدم کے دونوں بیٹوں کی خبر سچائی سے بیان کردیں کہ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، جس کی قبول نہ ہوئی، اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں تمھیں قتل کردوں گا۔ بھائی نے (قربانی کی قبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میری طرف میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تیرے قتل کے لیے تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
ان آیات میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ قربانی کس چیز کی کی گئی تھی اور اس کی قبولیت کی علامت کیا تھی۔ اس سلسلے میں جو کچھ منقول ہے وہ زیادہ تر اسرائیلیات پر مبنی ہے۔ تاہم ان آیات سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ اول قربانی کی قبولیت کی شرط تقویٰ ہے، ثانیاً متقی شخص کسی کو ناجائز قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ اس لیے انسانی خون کا بہایا جانا اور وہ بھی اللہ کی خوشنودی کے نام پر، اللہ کو منظور نہیں۔
مختلف قوموں میں قربانیوں کے لیے خاص چیزوں ،خاص اوقات، خاص مقام اور خاص شرائط کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ قربانی کے لیے اوقات اور جگہ کا تعین تو بہت ملتا ہے۔ حج کے موقع پر مسلمانوں کے ہاں بھی ان امور کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حج کے موقع پر منیٰ میں مخصوص شرائط کے حامل مخصوص جانوروں کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔ جانوروں کو قربان کرنے کے طریقے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک عید قربان کے موقع پر پوری دنیا میں عام مسلمانوں کی طرف سے قربانی پیش کرنے کا سلسلہ ہے وہ بعض دینی مکاتبِ فکر میں واجب کی حیثیت رکھتا ہے اور بعض میں مستحب ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان ملکوں میں عید قربان کے موقع پر قربانی کی رسم کم یا محدود دکھائی دیتی ہے۔
مختلف ادیان میں قربان گاہوں کا تصور بھی موجود ہے۔ مسلمانوں کے ہاں منیٰ کا مقام دراصل قربان گاہ ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ اسے یہ حیثیت اسلام سے پہلے بھی حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اسی مقام پر قربانی پیش کی گئی تھی لہٰذا یہ ایک قدیم ترین قربان گاہ سمجھی جا سکتی ہے۔
قربانی کے حوالے سے سب سے عجیب اور عظیم واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کرنا ہے۔ یہودیوں کے ہاں بھی حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند کی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند حضرت اسحاق ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے نزدیک آپ نے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ خانہ کعبہ اور اس کے اردگرد کی یادگاریں یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ قربانی کے لیے حضرت اسماعیل ؑ ہی کو پیش کیا گیا تھا۔ صفاومروہ کے مابین حضرت حاجرہ کا اپنے بیٹے کی پیاس بجھانے کے لیے بے قراری سے سعی کرنا اور دیگر بہت سی یادگاریں اس نقطۂ نظر کو درست ثابت کرتی ہیں۔ تاہم اصل موضوع یہاں حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے۔ قرآن حکیم نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
ترجمہ: جب اسماعیل اُن کے ساتھ دوڑ کر چلنے کی عمرکوپہنچ گئے تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں تو سوچ کر کہو کہ تمھاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا :ابا جان! جس چیز کا آپ کو حکم ملا ہے وہ کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھرجب دونوں اللہ کی رضا کے سامنے جھک گئے تو ابراہیم نے انھیں پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! تم نے واقعی اپنا خواب سچ کردکھایا ہے۔ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک بہت کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک ذبح عظیم کو اس کا بدل قراردیا۔
آخری وقت کی توبہ
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 14, 2018 / comment : 0 اسلام
!!! آخری وقت کی توبہ!!!
انسانیت کی بھلائی کے لئے،
نصیحت کے لئے
اور انتہائی خیر خواہی کے جذبے سے جب بھی کسی طاغوت کے بارے میں چند الفاظ لکھ کر شیئر کئے جاتے ہیں
تو بعض لوگ کہتے ہیں
"ہو سکتا ہے اس نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو"
اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے "ہو سکتا ہے" والے مفروضے کی وضاحت کر دی جائے تو مناسب رہے گا.
اللہ کے بندو!
"ہو سکتا ہے" کا فائدہ صرف اپنی پسندیدہ شخصیات ہی کو کیوں دیتے ہو اگر اس مفروضے کا فائدہ دینا ہے تو پوری انسانیت کو دو.
مثلاً آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے
فلاں ہندو نے، فلاں سکھ نے فلاں یہودی نے، فلاں عیسائی نے، فلاں قادیانی نے، فلاں فرقہ پرست نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو،
حسن ظن بہت اچھی بات ہے لیکن یہ ضابطہ اخلاق اہل ایمان کے لئے ہے، یعنی اہل ایمان کو ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہئے اور بد گمانی سے حتی المقدور اجتناب کرنا چاہئے.
صحیح البخاری کی حدیث ہے،
.... عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ الّنَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا.....
(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما ینھی من سب الاموات)
"... ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی. صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا"
اس کے فوراً بعد امام بخاری نے یہ حدیث نقل کرکے ازالہ اوہام کر دیا
حدیث ملاحظہ ہو،
..... عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ""قَالَ أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ.
(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ذکر شرار الموتی)
"عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو لھب لعنۃ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا سارا دن تیری خرابی ہو تو اللہ تعالٰی نے یہ سورۃ نازل کی
تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ، ابو لھب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں"
قرآن و حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ ہر مردے کی برائی بیان کرنا جائز نہیں وہیں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جن لوگوں کی موت کفر و شرک اور نفاق کی حالت میں واقع ہوئی ہو ان کی برائی بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے تاکہ زندہ لوگ عبرت حاصل کریں،
حسن ظن والی بات کی اتنی وضاحت کافی ہے.
اب اصل موضوع
"آخری وقت کی توبہ"
قرآن میں اس مسئلے کو بھی بہ بسط تمام واضح کر دیا گیا ہے اگر کوئی قرآن نہیں جانتا تو اس میں کسی کا کیا قصور؟
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،
(سورۃ المومن کی مسلسل دو آیات)
فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ*
(سورۃ المومن آیت 84 )
(پہلی قوموں کی بات ہے)
"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لے آئے ہیں اور جن جن کو ہم شریک مان رہے تھے ان کا انکار کرتے ہیں"
فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ اِیۡمَانُہُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡکٰفِرُوۡنَ*
(المومن 85)
"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو اس وقت ان کا ایمان ان کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ہوا یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے پہلے بندوں میں جاری رہی ہے اور اس وقت کافر لوگوں نے نقصان اٹھایا"
اس ضمن میں فرعون کی موت کا واقعہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،
وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ*
(سورۃ یونس آیت 90)
"ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر (بحر احمر) سے پار کیا پس فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور تعدی سے ان کا پیچھا کیا. یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب نے) آ پکڑا تو کہنے لگا میں اس رب پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں"
اللہ تعالٰی نے اس کے دعوی ایمان کو رد کر دیا اور فرمایا،
آٰلۡئٰنَ وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ*
(یونس 91)
"اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ پہلے تو (عمر بھر) نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا"
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ*
(یونس 92)
"آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو اور لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے بے خبر ہے"
یہ آیات پڑھنے کے بعد کسی کو یہ کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے کہ ہو سکتا ہے فلاں شخص موت کے وقت ایمان لے آیا ہو، ہو سکتا ہے فلاں شخص نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے ہاں وہی ایمان قابل قبول ہے جس کا اعلان آدمی موت سے پہلے بقائمی ہوش و حواس کرے. ورنہ آخری وقت کا ایمان اور توبہ کا معاملہ فرعون جیسا ہو سکتا ہے.
اسلام اور شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ
Posted by: shahjahan Posted date: جنوری 04, 2018 / comment : 0 اسلام
اسلام اور شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ
غیر ذمہ دار الیکٹرانک میڈیائی رویے اور اسلامی اقدار کے منافی مطبوعہ مواد نے ایک اسلامی
معاشرے میں شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ والی بحثوں کو فروغ دے دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ نا صرف مغربی ثقافت کو اپنا رہا ہے بلکہ ان مغربی تصورات کو بھی اپنانا چاہ رہا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ شادی جو کہ زندگی کا اہم فیصلہ ہوتا ہے اس کے لیے اضافی احتیاط لازمی سمجھی جاتی ہے تاکہ آئندہ زندگی نہایت خوشگوار ٹھہرے۔ ایک شادی شدہ عمدہ زندگی کے لیے شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کا ہونا لازمی عنصر گردانا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی توحید
Posted by: shahjahan Posted date: دسمبر 31, 2017 / comment : 0 اسلام
توحید
دلیل نمبر:2 قرآن مجید میں ہے: ”بے شک تمہاری عبادت کا مستحق ضرور ایک ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور ان تمام چیزوں کا رب جوان کے درمیان ہیں وہی تمام مشارق کا رب ہے“
دلیل نمبر:3 قرآن مجید میں ہے: ”کیا وہ اپنے نفسوں میں(اس پر) غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو صرف حق کے ساتھ اور مقررہ مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے اور بے شک اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کے ضرور منکر ہیں ۔
دلیل نمبر:4 قرآن مجید میں ہے: ”عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں اس کائنات میں اور ان کے اپنے نفسوں میں دکھائیں گے حتیٰ کہ ان پر منکشف ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق ہے“
دلیل نمبر:5قرآن مجید میں ہے: ”اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم بشرہوکر پھیلتے جارہے ہو“
دلیل نمبر:6قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم کو ان سے سکون حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم فرمادی بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:7 قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش ہے اورتمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے اور بے شک اس میں عالموں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:8 قرآن مجید میں ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہاری نیند ہے اور تمہاری اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے بے شک اس میں غور سے سننے والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں۔
دلیل نمبر:9 قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اورامید پر قائم رکھنے کے لئے بجلیوں کی چمک دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے پھر اس سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کرتا ہے بے شک اس میں عقل والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:10 قرآن مجید میں ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین و آسمان اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب تم کو وہ زمین سے بلائے گا تو تم فوراً(قبروں سے)باہر نکل آؤ گے“
دلیل نمبر:11 قرآن مجید میں ہے: ”اور آسمانوں اور زمینون میں جو کچھ ہے وہ سب اس کی ملکیت ہے اور سب اس کے اطاعت شعار ہیں“
دلیل نمبر:12 قرآن مجید میں ہے: ”اور وہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس کی سب سے بلند صفات ہیں اور وہی بہت غلبہ اور بہت حکمت والا ہے“
دلیل نمبر:13 قرآن مجید میں ہے: ”کیا ہم نے تم کو حقیر پانی(منی) سے نہیں پیدا کیا“
دلیل نمبر:14 قرآن مجید میں ہے: ”سو تم کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جس کی صورت اور شکل واضح بنی ہو یا نہ بنی ہو“
دلیل نمبر:15 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو پیدا کیا پھر تم کو روز دیا پھر تم کو موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا گیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرسکے اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک اور بلند ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں“
دلیل نمبر:16 قرآن مجید میں ہے: اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے“
دلیل نمبر:17 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر وہ اس بادل کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلادیتا ہے اور وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہوکہ اس کے درمیان سے پانی نکلتا ہے پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان تک وہ پانی پہنچادیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں“
دلیل نمبر:18 قرآن مجید میں ہے: ”پس اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“
دلیل نمبر:19 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ بہت علم والا ہے بے حد قدرت والا ہے“
دلیل نمبر:20 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان بنائے جنہیں تم دیکھتے ہو اور زمین میں مضبوط پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ وہ تمہیں لرزانہ سکے اور اس زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلادئیے اور آسمان سے پانی نازل کیا سو ہم نے زمین میں ہر قسم کے عمدہ غلے(اور میوے) پیدا کیے یہ ہے اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا پس مجھے وہ دکھاؤ جو اللہ تعالیٰ کے ماسوا دوسروں نے پیدا کیا ہے بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں“
اسوہ رسول ﷺ کے روشن معیار
Posted by: shahjahan Posted date: دسمبر 31, 2017 / comment : 0 اسلام
اللہ تعالیٰ نے اخلاق وعادات کی تمام خوبیاں وکمالات اور اعلیٰ صفات حضورﷺ کی ذات گرامی میں جمع فرمادی تھیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے علوم عطا فرمائے تھے حالانکہ آپ ﷺ ”امی “ تھے کچھ پڑھ لکھ نہ سکتے تھے۔ نہ انسانوں میں کوئی آپ کا معلم تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسے علوم عطا فرمائے تھے جو کائنات میں کسی اور کو نہیں دیئے گئے۔
ا
فرعون اور سجدے کرنے کا حکم دینا
Posted by: shahjahan Posted date: دسمبر 29, 2017 / comment : 0 اسلام
جمعہ المبارک کی اہمیت وفضیلت
Posted by: shahjahan Posted date: دسمبر 29, 2017 / comment : 0 اسلام
والدین کے حقوق
Posted by: shahjahan Posted date: دسمبر 28, 2017 / comment : 0 اسلام
والدین کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں
مشہور تحاریر
-
دنیا کے چند مشہور زندہ مذاہب انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔بے شمار مذاہ...
-
ﺗﺘﻠﯽ اور انسان ﮐﺴﯽ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﺗﺘ...
-
کامیابی کا راز کامیابی ہر اس شخص کو ملتی ہے جو محنت کرتا ہے۔کوئی بھی کامیابی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوا کرتی۔ انسان محنت کرئے تو کامیاب...
-
انسان کے آسمان سے زمین پر بھیجے جانے کے سائنسی دلائل (نظریہ ارتقاء کو ایک اور سائنسی جھٹکا) شروع ہی سے کئ سائنسدانوں کو نظریہ ارتقاء کی صح...

