Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

63 ہزار ڈالر سے زائد میں فروخت ہونے والا مائیکرو سکوپ سے دیکھا جانے والا ننھا سا بیگ

 

نمک کے زرے سے بھی چھوٹا مائیکرو سکوپ کی مدد سے دیکھا جانے والا ہینڈ بیگ ایک نیلامی میں 63 ہزار سات سو پچاس ڈالر میں فروخت ہوگیا ہے۔

اس ننھے بیگ کو دیکھنے کے لیے ایسی خصوصی خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے، جس کی پیمائش صرف 657 x 222 x 700 مائیکرو میٹر ہے۔

آرٹ کا یہ بہترین شاہکار نیویارک میں فن پاروں کے معروف آرٹ گروپ مسچف (MISCHF) کی ملکیت تھا جو اپنے فن پاروں کی نیلامی بھی کرتے ہیں۔

نیلام گھر کے مطابق اس فن پارے کا حجم اتنا چھوٹا ہے جسے سوئی کے سوراخ سے بآسانی گزارا جا سکتا ہے۔

جب ہی اس مختصر ترین پرس کو دیکھنے کے لیے آپ کو ایک خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔

مسچف آرٹ گروپ عجیب و غریب ڈیزائنز پر منبی فن پاروں کے باعث مشہور ہے۔

آرٹ گروپ کی کلیکشن میں ایسے نادر جوتے بھی شامل ہیں جن کے تلوے میں انسانی خون کا قطرہ موجود ہوتا ہے جبکہ ایک ایسا کولون بھی ہے جس کی بو WD-40 جیسی ہوتی ہے جبکہ ربڑ کے لال بڑے بوٹ بھی انوکھی کلیشن کا حصہ ہیں۔

اس بار مسچف نے چھوٹے ہینڈ بیگز کے فیشن کو سامنے رکھ کر اس کی انتہا تک جانے کا فیصلہ کیا۔

آرٹ گروپ نے بیگ کے بارے میں اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بڑے ہینڈ بیگ، نارمل ہینڈ بیگ اور چھوٹے ہینڈ بیگز ہیں لیکن یہ بیگ چھوٹے سائز کی حتمی شکل ہے۔

اس بیگ میں لگژری ہینڈ بیگ ڈیزائنر لوئی ویتوں کی برانڈنگ ہے تاہم اس کا برانڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

اس بیگ کو بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو اکثر چھوٹے میکنیکل ماڈلز اور سٹرکچر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سائنس اور نیچر کے میگزین ’سمتھ سونین‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس ننھنے بیگ کو بنایا جا رہا تھا تو برانڈ کی طرف سے جائزہ لینے کے لیے بھیجے گئے کچھ چھوٹے بیگ کے نمونے اتنے چھوٹے تھے کہ وہ آرٹ گروپ کی ٹیم سے کھو گئے۔

تاہم اس نایاب آرٹ پیس کا کھو جانا نئے بیگ کے مالک کے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خریداری میں ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ ایک خوردبین بھی شامل تھی۔

ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ یہ خصوصی خوردبین آن لائن خریدی جا سکتی ہے، جس کی قیمت 60 ڈالر سے 10 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

نیلامی کی سائٹ نے مائیکروسکوپ کی قیمت بیگ سے الگ نہیں درج کی۔ اس نایاب آئٹم کے لیے بولی 15 ہزار ڈالر سے شروع ہوئی۔

بیگ پر لوئی ویتوں برانڈنگ کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسچف کے چیف کری ایٹیو آفیسر کیون ونسر نے اس ماہ کے شروع میں نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ گروپ نے برانڈ سے اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’جس کام کی اجازت نہ ملنے کا اندیشہ ہو بہتر ہے وہاں کام کر گزریں اور بعد میں معافی مانگ لیں۔

واضخ رہے کہ مسچف کے خلاف 2021 میں جوتے اور سپورٹس کا سامان بنانے والے بین الاقوامی برانڈ نائیکی نے انسانی خون والے جوتوں کی فروخت کا مقدمہ جیتا تھا۔

نائیکی کا مؤقف تھا کہ اس کے جملہ حقوق چوری ہوئے ہیں۔ کمپنی نے نیو یارک کی ایک عدالت میں ان جوتوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور ساتھ ہی عدالت سے ان جوتوں کی فروخت کو روکنے کی بھی درخواست کی تھی

امریکی تعلیمی اداروں میں نسلی بنیاد

 

مریکی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک فیصلے کے تحت اعلی امریکی تعلیمی اداروں میں نسلی تنوع کے اعتبار سے داخلے کے لئے جاری کئے گئے ‘ایفرمیٹو ایکشن’ کو مسترد کر دیا ہے ، اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ جس پالیسی کے تحت امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے طلباء کو نسلی بنیاد پر جو رعایت مل رہی تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے، اور اب اعلیٰ تعلیم کے امریکی اداروں کو اپنے طلباء میں نسلی تنوع پیدا کرنے کے کچھ نئے طریقے ڈھونڈنے ہونگے ۔

'ایفرمیٹیو ایکشن' وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے طلبا کے درمیان نسل، رنگ اور قومیت کی بنا پرامتیاز کو روکا جاتا ہے اور کالجوں میں تنوع کے لیے نسلی بنیاد پر درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس کی موجودہ شکل کا استعمال پہلے پہل صدر کینیڈی کے ایگزیکیٹیو آرڈر کے تحت 1961 میں کیا گیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں میں ایفرمیٹیو ایکشن پروگرام کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو طلباء معیار پر پورے نہیں اترتے انہیں نسل کی بنیاد پر معیار پر پورا اترنے والے طلبا پر ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کالج نسلی تنوع سے مضبوط ہوتے ہیں چنانچہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا امریکہ ایک نظریہ ہے، امید اورمواقع کا۔ ہمیں آگے بڑھنے کے نئے راستے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ میں امتیاز اب بھی موجود ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت ہے چنانچہ تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت کے اس فیصلے نے ہارورڈ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا میں جو امریکہ کے قدیم ترین تعلیمی ادارے ہیں، داخلوں کا یہ طریقہ روک دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے فیصلے کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے "سختی سے۔۔۔سختی سے" اختلاف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا،"انہیں اپنا یہ وعدہ ترک نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ طلباء تنظیموں میں متنوع پسِ منظر اور ایسے تجربے کو یقینی بنائیں گے جو پورے امریکہ کی عکاسی کرے۔"

فیصلہ سناتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک امریکہ میں یونیورسٹیز نے غلط طور پر یہ طے کئے رکھا کہ 'کسی فرد کو اس کی بہترین صلاحیت یا تعلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی جلد کی رنگت کی بنیاد پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 'ہماری آئینی تاریخ اس بے انصافی کو برداشت نہیں کر سکتی'۔

سٹس کلیرنس تھامس امریکی سپریم کورٹ کے دوسرے سیاہ فام جج ہیں، اور ایک طویل عرصے سے ‘ایفرمیٹو ایکشن’ کو ختم کرنے کے حامی ہیں، انہوں نے ایک الگ نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ فیصلہ یونیورسٹیوں کی ایڈمیشن پالیسیوں کو ویسے ہی دیکھتا ہے، جیسی کہ وہ ہیں، یعنی ، مبہم اور نسلی بنیاد پر دی جانے والی ترجیحات ، تاکہ یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی اداروں میں ایک خاص طریقے کا نسلی تنوع پیدا ہو’۔

جسٹس سونیا سوٹو مائیرنے , جو ہسپانوی پس منظر رکھتی ہیں، اس فیصلے پر اپنا اختلافی نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے عشروں کی مثالی اوراہم پیش قدمی کو ختم کردیا گیا ہے۔

جسٹس تھامس اور سوٹو مائیر دونوں نے، جو یہ واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ افرمیٹو ایکشن نے لا کالج میں ان کے اپنے داخلے میں کردار ادا کیا تھا ، کمرہ عدالت میں اپنے نوٹ پڑھ کر سنائے۔ عام طور پر اختلافی نوٹ سپریم کورٹ میں پڑھ کر سنائے نہیں جاتے۔

فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے پہلی سیاہ فام خاتون جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن نے کہا،"یہ ہم سب کے لیے ایک المیہ ہے"

کیٹانجی براؤن اس فیصلے میں بیٹھی بھی نہیں کیونکہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایڈوائیزری گورننگ بورڈ میں شامل ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر کیون میکارتھی نے ٹوئٹ کیا کہ " اب طلباء برابری کے معیار اور انفرادی میرٹ کی بنیاد پر مقابلہ کر سکیں گے۔ اس سے کالج میں داخلے کے عمل کو منصفانہ بنایا جائے گا اور قانون کے تحت مساوات کو برقرار رکھا جائے گا۔"

امریکہ کے دو سابق صدور نے اس بارے میں انتہائی مختلف نکتہ نظر بیان کیا ہے۔

سابق امریکی صدر اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ"کسی بھی پالیسی کی طرح، ایفرمیٹوایکشن بہترین نہیں تھا۔ لیکن اس نے مشیل اور مجھ جیسے طالب علموں کی نسلوں کو یہ ثابت کرنے کا موقع دیا کہ ہم بھی سب کا حصہ ہیں۔ اب یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کریں جس کے وہ مستحق ہیں۔ "

سابق صدر ٹرمپ نے اسے امریکہ کیلئے ایک عظیم دن قرار دیا اور کہا،"ہم تمام تر میرٹ کی بنیاد پر واپس آرہے ہیں۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے!"

امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، جمعرات کو صبح دس بجے کے قریب سنایا گیا۔ اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سپریم کورٹ کے باہر شہریوں کی بھیڑ جمع تھی۔

ہائی سکول کی ایک طالبہ کیٹ نینالہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں کالج میں داخلے کے لئے کسی کی نسل کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔

ایک اور طالبہ ایلس ویلچ کا کہنا تھا کہ کسی کی نسلی شناخت سے یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ وہ اچھا کام کرے گا، اچھا طالبعلم ثابت ہوگا یا کالج کے تعلیمی ماحول میں کامیابی حاصل کرے گا، اور اس بات سے یہ بھی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ کس طالبعلم کو کس کالج میں جانا چاہئے۔

لیکن سپریم کورٹ کے باہر موجود کئی لوگوں کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کالج اور یونیورسٹیوں کی خود کو متنوع رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ریاست اوریگن کے ایک فلاحی تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر کرسٹوفر بینکس اس فیصلے پر افسردہ نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے امریکہ میں نوجوانوں کے لئے مواقعے محدود ہوجائیں گے۔

پولز کے مطابق امریکی شہریوں کی رائے اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کی تقریبا نصف بالغ آبادی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر داخلوں کی مخالف ہے، جبکہ ایک تہائی آبادی اس پالیسی کو اپنائے رکھنے کے حق میں ہے۔

کینیڈا اور گوگل کی جنگ

 


یس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اور گوگل نے اپنے پلیٹ فارمز پر کینیڈا کی مقامی خبروں کو بلاک کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

گوگل اور میٹا کا یہ اعلان کینیڈا کی جانب سے ملک میں ایک بل منظور کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت دونوں پلیٹ فارمز کو آن لائن مواد کی نشریات کے لیے ادائیگی پر مجبور کرنا ہے۔

ایسی صورتحال میں اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟

کیوبیک میں فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’لا پریس‘ کے صدر پیری ایلیوٹ لیویسیور کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انھوں نے کئی سالوں تک ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ادائیگی کے لیے معاہدوں پر مذاکرات کی کوشش کی۔ ان کے مطابق انھیں یقین ہے کہ ’ٹیک کمپنیاں خبروں اور مضامین کے زور پر ڈیٹا اوراشتہارات کی مد میں ڈالرز کو ہضم کر رہے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا  کو بتایا، ’ سالہا سال سے وہ صاف انکاری ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آن لائن نیوز ایکٹ کے نام سے جانا جانے والا نیا قانون اس رجحان میں کمی لا کر صورت حال میں بہتری لائے گا اور اس سے حاصل ہونے والا فنڈ کاروبار میں لگایا جا سکتا ہے۔

اس نئے قانون کا مقصد گوگل اور میٹا کو خبر رساں اداروں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے طے کرنے پر مجبور کرنا ہے تاہم اگر دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تو ملک کا براڈکاسٹ ریگولیٹر انھیں ثالثی پر مجبور کر سکتا ہے۔

پارلیمانی بجٹ کے آزاد نگران ادارے کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے سالانہ 300 ملین کنیڈین ڈالرز یا 256 ملین امریکی ڈالرز سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے جو ایک عام نیوز روم کو چلانے کے لیے درکار فنڈنگ کا تقریبا 30 فیصد ہے۔

تاہم اس قانون سے معاہدوں کا راستہ کھلنے کے بجائے لا پریس سمیت کینیڈا کی کم و بیش ہر نیوز آرگنائزیشن کو اب ایک ممکنہ بلیک آؤٹ کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیک کمپنیز نے اس قانون پر عمل کرنے کے بجائے اپنے پلیٹ فارمز پر نیوزآرٹیکلز کے لنکس کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میٹا کی جانب سے ابتدا سے ہی اس تجویز کی مخالفت سامنے آتی رہی ہے اور اب اس کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ میں کینیڈا کے صارفین کے لیے اپنی نیوز سائٹس کو بلاک کرنا شروع کر دے گی۔

دوسری جانب گوگل اس سے قبل یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں خبر فراہم کرنے والوں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے کرتا آیا ہے تاہم رواں ہفتے اس نے کینیڈا کے موجودہ قانون کو ’ناقابل عمل‘ قرار دے دیا اور کہا کہ یہ ایکٹ چھ ماہ میں نافذ ہونے کے بعد ملک میں اپنی سرچ سے کینیڈا کی خبروں کے لنکس کو ہٹا دے گا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اسوقت ان کے تقریباً 150 سے زیادہ کینیڈا کے خبر رساں اداروں کے ساتھ معاہدے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اس کی ٹریفک نے نیوز ویب سائٹس کو سالانہ ڈھائی سو ملین کنیڈین ڈالر کمانے میں مدد کی ہے۔

کمپنی نے ادائیگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم مزید کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ہم اسے اس طریقے سے نہیں کر سکتے جس سے ویب اور سرچ انجن کے کام کرنے کے طریقے متاثر ہوں اور مالی اعتبار سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

اس ماہ قانون کے منظور ہونے سے پہلے، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹیک فرمز کی طرف سے خبروں کو بلیک آوٹ کرنے کی ان دھمکیوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل جون میں ان کا کہنا تھا ’حقیقت یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کمپنیاں ادائیگیوں میں منصفانہ حصہ ادا کرنے کے بجائے مقامی خبروں تک کینیڈا کے باشندوں کی رسائی منقطع کر دیں گی۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہےاور اب وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں لیکن یہ کارگر نہیں ہو گا۔

ٹیک انڈسٹری کی تنظیموں نے اس کوشش کا موازنہ ’شیک ڈاؤن‘ سے کیا ہے لیکن لیواسور کہتے ہیں کہ میڈیا میں کوئی بھی اس کا حل نہیں ڈھونڈ رہا۔

ان کےمطابق ’ہم منصفانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا موقع مانگ رہے ہیں تاہم ان کی اجارہ داری کے باعث ایسا ہو نہیں پا رہا۔

تو پھر آخر یہ تنازعہ کیوں کر حل ہو پائے گا

سینٹر فار جرنلزم اینڈ لبرٹی کی ڈائریکٹر کورٹنی راڈش کا کہنا ہے کہ زیرِ بحث رقوم ہر سال ٹیک کمپنیوں کی طرف سے بنائے گئے دسیوں بلین ڈالر کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن یہی رقم صحافت کے لیے نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ گوگل اور فیس بک کو ان خبروں کے لیے ادائیگی کرنی چاہیے جو وہ اپنے پلیٹ فارم پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کے طور پر صحافت کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

کینیڈا نے اپنے اصول کو اس اقدام کے مطابق بنایا جسے آسٹریلیا نے 2021 میں منظور کیا تھا۔ اس قانون نے اسی طرح کے اعتراضات اور مخالفت کو جنم دیا تھا جس نے میٹا کو وہاں پابندی عائد کرنے پر اکسایا۔

تاہم بل میں بعض تبدیلیوں کے بعد دونوں کمپنیوں کے پبلشرز کے ساتھ تقریبا 30 سے زیادہ سودے طے پائے جن کی مالیت 130 ملین ڈالر سے زیادہ کی تھی۔

اس قانون کو تیار کرنے والی آسٹریلیا کی مسابقتی ایجنسی کی قیادت کرنے والے ماہر اقتصادیات روڈنی سمز کا دعویٰ ہے کہ کمپنیاں اس بار بھی ایسا ہی کریں گی باوجود اس کے کہ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ پلیٹ فارم کو خبروں سے ذیادہ صارفین کے ذاتی مواد کے لیے مفید بنا رہے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’فیس بک کو یہ معاملہ زیادہ پسند نہیں لیکن خبروں کی غیر موجودگی میں سرچ فیچر موثر نہیں ہو سکتا اور میرے خیال میں فیس بک کو جلد پتہ چل جائے گا کہ خبروں کے بغیر آپ کو فیس بک فیڈ دینا بہت مشکل کام ہو گا۔ خبروں سے ہی ان کی سروس مکمل ہوتی ہے۔

گوگل، میٹا، ایپل اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ لائسنسنگ کے معاہدے کرنے والی فرم گلوب اینڈ میل کے چیف ایگزیکٹیو فلپ کرولی، نے سرچ (تلاش) کے لیے موجود وسیع تر تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا مثلاً چیٹ جی پی ٹی اور چیٹ بوٹ جو صارفین کے سوالات پر انھیں لنکس فراہم کرنے کے بجائے خود جواب دیتے ہیں۔

فلپ کرولی نے اس بل کی حمایت میں بات کرتے ہوئے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ کینیڈا کے براڈکاسٹ ریگولیٹر کو دی گئی بعض طاقتوں سے پریس کی آزادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دنیا ایک مختلف جگہ پر ہے لہذا مجھے نہیں لگتا کہ آسٹریلیا میں ماڈل ایسا ہے کہ ہمیں اس سے اب بہت زیادہ رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ وہ تب تھا اور اب یہ ہے۔

امریکہ میں کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی کےلیے قانون سازی کی تیاری

 

امریکی سینیٹر کیٹی برٹ نے کہا ہے کہ جب وہ الاباما میں گھر پر ہوتی ہیں تو وہ مسلسل      سنتی رہتی ہیں کہ اسکول ٹریک میٹنگز ہیں ، باسکٹ بال ٹورنامنٹس ہونا ہے اور دوستوں کے ساتھ صبح کی اپنی معمول کی سیر پر جانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گزشتہ سال سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ رہی تھیں، تو ان کے پاس والدین آتے تھے اور کہتے تھے کہ سوشل میڈیا ان کے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور وہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

ایک 13 سالہ اور ایک 14 سالہ بچے کی ماں کے طور پر ، برٹ اپنے گھر میں بھی اس مسئلے پر غور کرتی ہیں۔

برٹ کہتی ہیں کہ بس بہت ہو گیا ، اب کچھ کرنے کا وقت ہے ۔ ریپبلکن سینیٹر برٹ نے پچھلے ہفتے تین دیگر سینیٹرز کے ساتھ مل کر دو جماعتی قانون سازی متعارف کروائی ہے تاکہ تمام چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن بہتر حفاظت کی کوشش کی جا سکے۔

کنیکٹی کٹ کے سین کرس مرفی بھی 11 سالہ اور 14 سال کے بچے کے باپ کے طور پر خود ہی اس مسئلے سے نمٹتے ہیں۔ مرفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کا عروج دیکھا ہے، جب کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران احمقانہ ویڈیوز انہیں خوشی دیتی تھیں۔ لیکن انہوں نے اس کا زوال بھی دیکھا ہے ، اور وہ ایسے بچوں کو جانتے ہیں کہ جو اب آن لائن دنیا کے تاریک گوشوں میں جا چکے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے مرفی کہتے ہیں مجھے بس اب ایسا لگتا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں کچھ نہ کرنا ٹھیک نہیں ہےاور کانگریس کے اکثر اراکین جب گھر جاتے ہیں، تو وہ اپنے حلقوں میں پہلا یا دوسرا مسئلہ جو سنتے ہیں وہ یہی ہے ۔

ہوائی کے ڈیمو کریٹ سینیٹر برائن شاٹز ،اور آرکنسا کے ریپبلکن ٹام کاٹن کے ساتھ مل کر برٹ اور مرفی نے جو قانون سازی متعارف کرائی ہے۔ وہ 13 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابند ی لگاتی ہے اور اس کے تحت 18سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے اپنے سرپرست سے اجازت درکار ہوگی۔

اگرچہ یہ کانگریس کی ان متعدد تجاویز میں سے ایک ہے جو بچوں اور نوعمر افراد کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں، تاہم چاروں سینیٹرز نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک مشترکہ انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان لاکھوں امریکی والدین کے نمائندے ہیں جو اس بارے میں سخت پریشان ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان کے بچوں کو کیا فراہم کر رہی ہیں۔

دو جماعتی بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے - اور جب کہ واشنگٹن میں یہ کمپنیاں برسوں سے سخت ریگولیشن سے محفوظ رہی ہیں۔ یوٹاہ اور آرکنساجیسی کچھ ریاستوں نے اپنے قوانین بنائے ہیں، جنہوں نے وفاقی سطح پر اس سے بھی بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

ایک اور بل جو بدھ کو میسا چوسیٹس کے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی، اور لاس اینجلس کے ریپبلکن ، سینیٹر بل کیسیڈی کی طرف سے پیش کیا گیا، بچوں کی آن لائن رازداری کے تحفظ کو بڑھائے گا۔ کمپنیوں کو کم عمر نوجوانوں کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنے سے منع کرے گا اور بچوں اور نوعمروں کے مخصوص گروپس کو ہدف بنانے والے اشتہارات پر پابندی لگائے گا۔

ہاؤس انرجی اینڈ کامرس کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس بھی ایک زیادہ وسیع آن لائن پرائیویسی بل پر کام کر رہے ہیں جو بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول دے گا۔

دوسرے بلوں کا مقصد ٹک ٹاک پر پابندی لگانا یا حکومت کو غیر ملکی ملکیت والے پلیٹ فارمز کا جائزہ لینے کے لیے مزید اختیارات دینا ہے جنہیں ممکنہ سیکیورٹی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

صنعتی گروپوں نے بچوں کی حفاظت کے بلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حد سے تجاوز کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قواعد کے نتائج برعکس بھی برآمد ہو سکتے ہیں اور کچھ نوجوانوں کو خاص طور پر خودکشی یا ایل جی بی ٹی کیو جیسے مسائل پر مددگار وسائل تلاش کرنے سے روک سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک پر پابندی لگانے والی پہلی امریکی ریاست




 مونٹانا

امریکہ کی ریاست مونٹانا کے گورنر گریک جین فورٹے نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد مونٹانا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں اس ویڈیو ایپ کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

اس قانون کے بعد مونٹانا میں گوگل اور ایپل کے ایپ اسٹورز کے لیے یہ غیر قانونی ہوگا کہ وہ اس کی حدود میں ٹک ٹاک ایپ کی پیش کش کریں۔

اس پابندی کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔

ٹک ٹاک کے 15 کروڑ امریکی صارفین ہیں لیکن امریکی قانون سازوں اور ریاستی حکام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اس پلیٹ فارم پر چینی حکومت کے ممکنہ اثرورسوخ کے خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مارچ میں کانگریس کی ایک کمیٹی نے ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شاؤ زی چیو سے اس بارے میں سوال جواب کیے تھے کہ آیا چینی حکومت صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہے یا ایپ پر امریکی جو دیکھتے ہیں اس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

مونٹانا کے ری پبلکن گورنرگریک جین فورٹے نے کہا کہ یہ بل مونٹانا کے شہریوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی سے بچانے کی ہماری مشترکہ ترجیح کو مزید آگے بڑھائے گا۔

دوسری جانب ٹک ٹاک کی مالک کمپنی 'بائیٹ ڈانس' نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بل ٹک ٹاک پر غیرقانونی طور پر پابندی لگا کر مونٹانا کے لوگوں کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ مونٹانا کے اندر اور باہر اپنے صارفین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

کمپنی پہلے ہی چینی حکومت کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کرچکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ اگر اس سے ایسا کہا بھی گیا تو وہ نہیں کرے گی۔

دس لاکھ سے زیادہ آبادی والی ریاست مونٹانا کا کہنا ہے کہ ہر خلاف ورزی پر ٹک ٹاک کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ اگر اس نے پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے 10 ہزار ڈالر یومیہ اضافی جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایپل اور گوگل بھی پابندی کی خلاف ورزی پر 10 ہزار ڈالر یومیہ جرمانے کا سامنا کرسکتی ہیں۔

دوسری جانب اس پابندی کو ممکنہ طور پر متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ یہ صارفین کے آزادانہ اظہارِ رائے کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2020 میں محکمۂ تجارت کے ایک حکم کے ذریعے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی کی کوشش کی تھی جسے متعدد عدالتوں نے روک دیا تھا اور یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا تھا۔


کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا آپ سعودی عرب جانا چایتے ہیں سائنو فارم اور سائنو ویک لگوائیں اور سیاحتی ویزے پر سعودی عرب جاسکیں گے

 


سعودی عرب نے ملک کا سیاحتی ویزا بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے ، جن مسافروں کو سائنوفارم اور سائنو ویک کورونا ویکسین کی دو خوراکیں ملی ہیں وہ بھی سعودی منظور شدہ چار ویکسین میں سے کسی ایک کا اضافی بوسٹر شاٹ لگانے کے بعد ملک میں داخل ہو سکتے ہیں

سعودی عرب نے 4 ویکسینز کی منظوری دے دی ہے جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایسٹرا زینیکا ، فائزر ، موڈرنا  اور جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسینز شامل ہیں۔

 سیاحتی ویزا کے ساتھ سعودیہ آنے والے تمام زائرین کو فی الحال تسلیم شدہ مذکورہ 4 ویکسینز میں سے ایک کے مکمل کورس کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔

سعودیہ آنے والوں کو ایسٹرا زینیکا ، فائزر، یا موڈرنا ویکسین کی دو خوراکوں اور جانسن اور جانسن کی ایک خوراک کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا ۔

ایسے تمام مسافروں کو سعودیہ میں داخلے کے بعد قرنطینہ بھی نہیں کرنا پڑے گا تاہم اس کے لیے انہیں سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ آمد سے زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے قبل کیے گئے کورونا کے منفی ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کرنا ہوگی

 سعودیہ آنے والوں کو ایک سال کا ای ویزا ملے گا جس پر وہ ایک سے زائد مرتبہ ملک میں داخل ہو سکیں گے جب کہ سیاحوں کو ملک میں 90 روز تک قیام کی اجازت ہو گی جس میں انہیں عمرہ کی اجازت بھی ہوگی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ امریکا ، کینیڈا ، بیلجیئم ، آسٹریا اور اٹلی سمیت 49 ممالک کے شہری ای ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

اس سے قبل وزارت سیاحت نےکہا تھا کہ سعودیہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے دروازے یکم اگست سے کھول رہا ہے تاہم مسافروں کو ائیرپورٹ پر پہنچنے کے بعد 40 سعودی ریال کی فیس ادا کرنا ہوگی جو کہ کورونا سے متعلق کسی بھی طبی خرچے کی انشورنس کے طور پر وصول کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جاری کردہ فہرست میں پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش شامل نہیں ہوسکے ہیں اور ان ممالک کے شہریوں سے متعلق فی الحال کوئی اعلان سامنے نہیں آسکا ہے

غار سے انسانوں کی ہڈیاں دریافت

 



سعودی عرب کے ایک غار سے انسانوں اور جانوروں کی ہزاروں باقیات دریافت ہوئی ہیں۔

سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک غار سے سائنس دانوں نے انسانوں اور جانوروں کی ہزاروں باقیات دریافت کی ہیں۔سائنس دانوں نے کہاہے کہ دھاری دار لگڑبھگے انھیں گذشتہ سات ہزار سال کے دوران میں جمع کرتے رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنس دانوں نے اپنے شائع شدہ مطالعہ میں لکھا کہ ہزاروں ہڈیاں ام جرسان میں واقع ڈیڑھ کلومیٹر طویل سرنگ سے دریافت ہوئی ہیں۔اس میں ہڈیوں کو بڑی خوب صورتی سے محفوظ کیا گیا تھا۔یہ سرنگ سعودی مملکت میں حرات کیبار لاوا فیلڈ میں واقع ہے۔دریافت شدہ باقیات میں مویشیوں، گھوڑے، اونٹ، چوہوں اور یہاں تک کہ انسانوں کی ہڈیاں بھی شامل ہیں۔سائنسدان اسٹیوی اسٹیوارٹ نے ایک ٹویٹرتھریڈ میں لکھا کہ ہزاروں سال کے دوران میں ہڈیوں کے جمع ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاوا ٹیوب ہڈیوں کے تحفظ کے لیے بہترین ماحول مہیا کرتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے خطے میں جہاں ہڈیوں کا تحفظ بہت ہی ناقص ہے، ام جرسان ایسی جگہیں تحقیق کے لیے ایک نیا دلچسپ ذریعہ اور موضوع پیش کرتی ہیں۔سائنسدانوں نے اس تحقیق میں دریافت شدہ باقیات، ہڈیوں کی اقسام،ان کے تعدد اور مقامات کے مطالعے کی بنیاد پریہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انھیں گوشت خور لگڑبھگوں نے یہاں منتقل کیا تھا۔سٹیوارٹ نے کہاکہ یہ جانور ہڈیوں کو جمع کرنے کا شوقین ہوتا ہے،وہ انھیں دوردراز جگہوں سے لاکرغاروں میں جمع کرتا رہتا ہے تاکہ انھیں بعد میں استعمال میں لاسکے اور نوعمرلگڑبھگوں کو خوراک کے طور پر دے سکے یا انھیں ذخیرہ کرسکے۔سائنس دانوں نے اس تحقیق میں اصل تولگڑبھگے کی عادات وخصائل پرتوجہ مرکوزکی ہے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے شائع شدہ مضمون میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ گدھے ہزاروں سال سے اس خطے میں ایک اہم مویشی کے طور پر موجودہیں۔ام جرسان (اور خطے میں اس جیسی دیگر جگہیں)ہولوسین عرب کے حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے بارے میں قابل قدر ادراک فراہم کرتی ہیں۔ اسٹیوارٹ کا کہنا تھا کہ یہ مطالعہ توبرفانی تودے کی صرف ایک نوک ہے

بحیرۂ روم میں پھنسے 700 سے زائد مہاجرین

 




لیبیا اور مالٹا کے ساحلوں کے قریب عارضی کشتیوں میں بحیرۂ روم پار کرنے کی کوشش کرنے والے 700 لوگوں کو بحری جہازوں کی مدد سے بچالیا گیا ہے۔

مہاجرین کی امداد کرنے والی تنظیم ایس او ایس میڈیٹیرینئن نے کہا ہے کہ اس کے جہاز 'دی اوشن وائکنگ' نے ہفتے سے بین الاقوامی پانیوں میں چھ ریسکیو مشن کیے جن میں سیکڑوں افراد کو بچا لیا گیا۔

اپنے آخری مشن میں تنظیم کے مطابق ریسکیو بحری جہاز کے ذریعے مالٹا کے ساحل کے قریب سے 106 افراد کو بچایا گیا۔ گروپ کو جرمنی کے ایک امدادی گروپ 'سی واچ' نے کشتی میں سوار لوگوں کی مشکل صورت حال سے متعلق مطلع کیا تھا۔

ایس او ایس نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بچائے گئے افراد میں تین ماہ کا کمسن بچہ بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے علاقے کے مختلف ملکوں سے اپیل کی تھی کہ مسافروں کے تحفظ کی ذمہ داری میں حصہ لیں اور سمندر پار کرنے والے مہاجرین کی حفاظت صرف بحیرہ روم 

کے ممالک پر ہی نہ چھوڑی جائے

ہفتے اور اتوار کی شب اوشن وائکنگ نے جرمن بحری جہازوں سی واچ اور ریسکیو شپ کے ساتھ مل کر مشکل میں گھرے چارسو افراد کو وسطی بحیرہ عرب میں بچایا۔

ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان لوگوں کو ایک پر خطر آپریشن کے بعد ایک سمندری جہاز سے بچایا گیا۔

اوشن وائکنگ بحری جہاز میں اس وقت 555 مسافر ہیں جن میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ابھی تنظیم نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ان مسافروں کو کس بندرگاہ پر اتارا جائے گا۔

خیال رہے کہ ہزاروں افراد بحیرہ روم پار کرنے کے خطرناک سفر کا آغاز لیبیا سے کرتے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین تین سو کلومیٹرز کا دشوار ترین سمندری سفر طے کرنے کے بعد اٹلی کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری

 


افغانستان میں طالبان جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان مختلف علاقوں میں لڑائی جاری ہے اور طالبان نے اتوار کو مزید شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تازہ حملے کیے ہیں۔

اتوار کی صبح قندھار ایئر پورٹ پر راکٹ حملے کے بعد ایئر پورٹ سے فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایئر پورٹ چیف مسعود پشتون نے بتایا کہ دو راکٹ رن وے پر گرنے سے اسے نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت کا کام جاری ہے اور اتوار کی شام تک فلائٹ آپریشن بحال کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قندھار کے ہوائی اڈے کو جنوبی افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے لاجسٹک اور فضائی مدد کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

قندھار ایئر پورٹ پر راکٹ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اطلاعات کے مطابق طالبان نے ایک اور اہم صوبے ہلمند کے صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے اطراف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے سربراہ عطا اللہ افغان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ لشکر گاہ میں شدید لڑائی جاری ہے اور افغان فورسز کی مدد کے لیے یہاں اسپشل فورسز تعینات کرنے کا کہا گیا ہے

افغان حکام کے مطابق افغان فورسز شہروں سے جنگجوؤں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ایئر فورس پر انحصار کر رہی ہیں۔ لیکن اس دوران زیادہ آبادی والے علاقوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

لشکرہ گاہ کے رہائشی حلیم کرمانی نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ شہر کی صورتِ حال اس وقت ابتر ہے اور نہ نجانے اس شہر کا اب کیا بنے گا۔

اُن کے بقول نہ تو طالبان ہم پر ترس کھائیں گے اور نہ ہی حکومتی فورسز بمباری کا سلسلہ روکیں گی۔

ادھر مغربی افغانستان کے شہر ہرات میں بھی طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور افغان فضائیہ نے طالبان کی پوزیشنز پر بمباری بھی کی ہے۔

ہرات کے گورنر کے ترجمان جیلانی فرہاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ 100 طالبان جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے ہی طالبان نے افغانستان کے زیادہ آبادی والے دیہی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ البتہ گزشتہ دنوں طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

طالبان نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اہم سرحدی مقامات پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق اگر طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا تو یہ اس جاری لڑائی کا نیا مرحلہ ہو گا اور افغان فورسز کی صلاحیت پر بھی مزید سوالات اُٹھیں گے۔

البتہ افغان حکومت موسمِ گرما میں طالبان کی پیش قدمی اور مختلف علاقوں کے کنٹرول کو اسٹرٹیجک لحاظ سے غیر اہم قرار دیتی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی ایئر فورس نے شہری علاقوں میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس سے کابل حکومت کو فائدہ پہنچا ہے


کورونا ویکسین کا مذاق اڑانے والے شخص کی وائرس سے ہی موت

 



امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک شخص جس نے سوشل میڈیا پر کووڈ 19 ویکسین کا مذاق اڑایا تھا، اسی وائرس سے ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔

ہلسونگ میگا چرچ کے رکن سٹیفن ہارمون ویکسین کی برملا مخالفت کرتے رہے اور انھوں نے یہ ویکسین نہ لگوانے کے سلسلے میں کئی لطیفے بھی بنائے تھے۔

جون میں اپنے سات ہزار فالوورز کو ٹویٹ کرتے ہوئے 34 سال کے سسٹیفن نے لکھا: ’مجھے 99 پریشانیاں ہیں لیکن ان میں ایک ویکس(ویکسین) نہیں۔‘

ان کا لاس اینجلس سے باہر واقع ایک ہسپتال میں نمونیا اور کووڈ 19 کا علاج کرایا گیا جہاں وہ بدھ کے روز فوت ہو گئے۔

اپنی موت سے قبل کے دنوں میں سٹیفن ہارمون نے ہسپتال کے بستر سے اپنی تصاویر شائع کی جس میں انھوں نے زندہ رہنے کے لیے اپنی لڑائی کا احوال دکھایا۔

انھوں نے کہا ’براہ کرم آپ سب دعا کریں، وہ مجھے وینٹیلیٹر اور سانس کی نالی پر رکھنا چاہتے ہیں۔‘

بدھ کے روز اپنے آخری ٹویٹ میں سٹیفن ہارمون نے کہا کہ انھوں نے سانس کی نالی لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’پتہ نہیں میں کب اٹھوں گا، میرے لیے دعا کریں۔‘

تاہم وائرس کے خلاف اپنی جدوجہد کے باوجود ہارمون نے پھر بھی کہا کہ وہ ویکسین سے انکار کر دیں گے اور ان کا مذہبی عقیدہ ان کی حفاظت کرے گا۔

اپنی موت سے پہلے انھوں نے وبائی بیماری اور ویکسینز کے بارے میں مذاق کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ امریکہ میں متعدی امراض کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کی بجائے بائبل پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں

ہیٹی کے مقتول صدر کی آخری رسومات پر ہنگامہ آرائی

 



لاطینی امریکہ کے ملک ہیٹی کے رواں ماہ کے آغاز میں گھر کے اندر قتل ہونے والے صدر جووینل موئس کی آخری رسومات جمعے کو ادا کی گئی ہیں۔ اس موقعے پر ہنگامہ آرائی کے باعث سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے برسائے۔

مقتول صدر کی آخری رسومات میں آنسو گیس اور فائرنگ کے واقعات کی وجہ سے رکاوٹ پیش آئی۔ امریکی حکام کو بھی تقریب کے اختتام سے قبل لوٹ کر جانا پڑا۔

جس مقام پر آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اس کے باہر جمع ہونے والے لوگ انصاف کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

مقتول صدر کی اہلیہ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جووینل موئس کی جنگ ابھی جاری ہے اور وہ بدعنوان سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی۔

مقتول صدر کی اہلیہ سیاہ لباس میں ملبوس تھیں جب کہ ان کے دائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی

اس دوران ہیٹی کے شہر کیپ ہیٹئین میں منعقد ہونے والی آخری رسومات کی تقریب کے باہر سابق  صدر کے سیکڑوں حامیوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کر رہے تھے جس کی وجہ سے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کیا۔

رپورٹس کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کی آوازیں سن کر غیر ملکی سفارت کار تقریب سے جلد اٹھ کر چلے گئے جب کہ دیگر شرکا میں بھی بے چینی پھیل گئی۔

آخری رسومات کی تقریب میں شریک کسی بھی مہمان کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تقریب کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

امریکہ کی اقوامِ متحدہ میں سفیر لنڈا تھامسن گرین فیلڈ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہیٹی میں پر امن اور بامعنی مذاکرات کے حق میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ہیٹی کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔

ہیٹی کے سابق صدر جووینل موئس سات جولائی کو ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی اہلیہ بھی اس حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔ وہ علاج کے لیے امریکی شہر فلوریڈا میں مقیم تھیں اور حال ہی میں اپنے مقتول شوہر کی آخری رسومات کے لیے ملک میں واپس لوٹی تھیں

ملک میں حال ہی میں وزیرِ اعظم ارئیل ہینری نے عہدہ سنبھالا ہے۔ انہیں اہم بین الاقوامی سفارت کاروں کی حمایت حاصل ہے۔

انہیں سابقہ صدر نے وزارتِ عظمی کا عہدہ دیا تھا مگر جووینل موئس کے قتل ہونے کی وجہ سے وہ وقت پر حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔

لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے ہینری سے ملاقات میں انہیں ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کا کہا جس کی بدولت صدارتی انتخابات جلد از جلد منعقد ہو سکیں