کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 24, 2021 / comment : 0 اسلام, اہم خبریں, بلاگ, بین الاقوامی, پاکستان, ٹیکنالوجی, صحت, فری لانسنگ, کھیل
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 05, 2021 / comment : 0 اہم خبریں, پاکستان
وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے دو سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے پابندیاں لگائیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا، قابض افواج نے ماورائے عدالت قتل، کشمیریوں کے گھر نذر آتش کیے۔
عمران خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے کی انتہا کررکھی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج پورے پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا ، اس موقع پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئے ٹریفک بند ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کے حوالے بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے اپنی جانیں قربانیاں دیں، مجھے پورا یقین ہے ایک دن کشمیر کشمیریوں کا ہو گا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارشروع کردی گئی ہے، لوگوں کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ،یہ کمپیوٹر کا دور ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کوانٹرنیٹ کی سہولت سےمحروم کیاگیا۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ آج پورےپاکستان میں یوم استحصال کشمیرمنایا جائے گا، یوم استحصال پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئےٹریفک بندہوگی، آج سے2سال قبل5اگست کوکشمیرمیں مودی نےعذاب مسلط کیا، بھارتی یکطرفہ اقدامات کیخلاف پاکستانی قوم جذبات کااظہارکرےگی
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 04, 2021 / comment : 0 اہم خبریں, پاکستان
پاکستان سے باہر کےلوگوں کے تعاون اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار تیار کر لی گئی ہے۔ اس کار کا پروٹوٹائپ تیار ہو چکا ہے اور چار ماہ بعد منظرعام پر لایا جائے گا، جس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی جائے گی اور گاڑی 2023ءمیں پاکستانیوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔
یہ ’میڈ اِن پاکستان‘ الیکٹرک کار امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں پر مشتمل تنظیم ’ڈائس فاﺅنڈیشن‘ کے پاکستان میں چلائے جانے والے 4میگاپراجیکٹس میں سے ایک ہے۔ ان پراجیکٹس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار تیز تر کرنا ہے۔ ڈائس فاﺅنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی کا کہنا ہے کہ اس الیکٹرک کار کے لیے بیٹری پیک بھی پاکستان ہی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کی ڈیزائننگ اور فیبریکیشن کا عمل آئندہ دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 04, 2021 / comment : 0 اہم خبریں, پاکستان
عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے بطور چیئرمین 2 سال مکمل کرلیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اللہ کا شکر گزار ہوں، جس نے سی پیک جیسے اہم ادارے کو چلانے کا موقع دیا
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 02, 2021 / comment : 0 پاکستان
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ پولیو مہم میں محکمہ صحت کے اہل کاروں اور رضا کاروں کی حفاظت پر مامور ایک اور پولیس اہل کار کو نامعلوم افراد نے پیر کی صبح گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح کلاچی تحصیل میں اس وقت پیش آیا جب ہیڈ کانسٹیبل دلاور خان موٹر سائیکل پر انسدادِ پولیو مہم میں شامل رضا کاروں کے ساتھ ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔
کلاچی پولیس تھانے کے سربراہ خانزادہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فائرنگ سے پولیس ہیڈ کانسٹیبل موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ابتدائی طور پر دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں فی الوقت انسدادِ پولیو مہم روک دی گئی ہے۔
ایک روز قبل پشاور میں انسدادِ پولیو ٹیم کے ساتھ سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور آصف نامی اہل کار نواحی علاقے داؤدزئی کے گاؤں شعالی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا
اتوار ہی کو قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل محکمہ صحت کے اہل کاروں اور رضا کاروں کی حفاظت پر مامور پولیس اہل کاروں کو لے جانے والی گاڑی کو نا معلوم عسکریت پسندوں نے دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا تھا۔
بم دھماکے سے گاڑی کو نقصان پہنچا جب کہ اس میں سوار اہل کاروں میں سے ایک زخمی ہو گیا تھا۔
خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو کے ہنگامی دفتر کے سربراہ عبدالباسط خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے بھر کے 18 اضلاع کے 95 فی صد علاقوں میں انسداد پولیو مہم جاری ہے۔
اُن کے بقول بعض علاقوں میں سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر یہ مہم معطل کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نے دیگر علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم پر تسلی کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کو صوبے کے 18 اضلاع میں پولیو ویکسی نیشن مہم شروع ہوئی تھی جس کے دوران 37 لاکھ سے زیادہ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
عبدالباسط خان سیکیورٹی خدشات کے علاوہ والدین کی جانب سے قطرے نہ پلوانے کو بھی پولیو کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب کے 11 اور بلوچستان کے اضلاع میں بھی پیر سے انسدادِ پولیو مہم شروع ہو گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو دہائیوں سے انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے محکمۂ صحت کے اہل کاروں، رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملے تواتر سے ہوتےآرہے ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملے صوابی میں ہوئے ہیں۔
نو جون کو صوابی ہی میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل دو اہل کار جب کہ تین جنوری 2020 کو صوابی ہی میں دو خواتین اہل کار نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ میں ہلاک ہو گئی تھیں
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 02, 2021 / comment : 0 پاکستان
آخری عام انتخابات کے کوئی تین برس بعد بالآخر وہ وقت آ پہنچا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو پورے تین برس اس مقام پر آنے میں لگے ہیں جہاں وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف یہ دعویٰ کر سکیں کہ انھوں نے میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نون کو ان کے اپنے علاقے میں خاصی سنجیدہ مشکلات سے دوچار کیا۔
سیالکوٹ براستہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اتنی شدید چوٹ ہے کہ یہ سہلانے میں نہیں آ رہی۔ نون لیگ کی تمام تر تاویلات کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پھر سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں شکست یہ گواہی دے رہی ہے کہ یا تو میاں صاحب کا کیمپ کمزوری کی طرف مائل ہے یا پھر تحریک انصاف آخر کار اس راز کو پا گئی ہے کہ نون لیگ، جس کی جڑیں عوام میں بہت گہری سمجھی جاتی ہیں، کو کس طرح زیر کیا جا سکتا ہے۔
بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس جانب پسپائی اور عمراں خان کے خیمہ میں اٹھان، یہ دونوں عوامل بیک وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذوں پر اثر انداز ہوئے ہیں۔
ایسے موقع پر کہا جاتا ہے کہ یہ صورتحال فلاں شخص یا فلاں گروپ یا پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے تو یہ پریشانی تو بہرحال اب ہاؤس آف شریف کو لاحق ہے
نون لیگ میں بہت جان تھی اور اب بھی ہے۔ اس پارٹی نے مخاصمت یا پھر بعض لوگوں کے نزدیک انتقام سے بھری اور اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی دعویدار حکومت کا ایک بڑے عرصے تک اپنے بیانیے پر زور دیتے ہوئے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔
کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا جو حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ جیسی ساخت رکھنے والی پارٹی سے برپا ہوا مگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ناکامی، جہاں پی ایم ایل این محض چھ سیٹیں لے سکی اور اس کے بعد سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست نے واضح کر دیا کہ ماضی کوئی اور ملک تھا اور مستقبل ہاؤس آف شریف کے لیے کوئی اور ہی بستی ثابت ہو سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے لیڈروں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، ٹی وی پروگراموں میں ان کی ہنسی ہے کہ دبائے نہیں جا رہی۔ فتح کے جھنڈے، جو جا بجا انسانی شکل میں دستیاب ہیں، ببانگ دہل نعروں کی گونج میں بجے جا رہے ہیں۔
ایسی صورتحال میں جب فضا گنڈا پوری ہیبت سے لرز رہی ہے، ہمارے لائلپوری کھوجی گل صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ مسلم لیگ نون میں یعنی شریفوں کے مکان میں اور اتفاق والوں کی پرانی جمی ہوئی دکان میں وہ پھوٹ پڑ گئی ہے جس کی ان کے مخالفین کو عرصے سے تلاش تھی۔
ادھر عمران خان صاحب کہ ساتھ پوری لائل فردوس عاشق اعوان اور ان کے رفقا سیالکوٹ میں میاں صاحب کی غیر اسٹیبلشمنٹوی فوج کو پچھاڑنے کے بعد تحریک انصاف کو ایک تابناک مستقبل کی بشارت دے رہے ہیں
ایک ایسے اہم موقع پر مریم نواز صاحبہ بیماری کی وجہ سے سٹیج سے غائب ہیں۔ ان کے گرو اور والد گرامی خود آج کل ذرا لیے دیے ہی رہتے ہیں اور چچا جان شہباز شریف تو خیر نون لیگ کے اندر ایک معتدل دھڑے کے اتنے نمایاں سر پرست ہیں کہ ان سے پارٹی کے مشہور (اب شاید تیزی سے بدنام ہوتے ہوئے) بیانیہ کو بچانے کی کسی کوشش کی امید ہی بے سود ہے۔
جی ہاں میاں صاحب کا بیانیہ خطرے میں ہے، شاید اس سے بھی زیادہ خطرے میں جس کہ بارے میں ایک پورا مجمع نون لیگ کو خبردار کر رہا ہے۔ شور بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ نہیں چل سکتا، اس کے ساتھ الیکشن نہیں جیتے جا سکتے اور بہت سے ماہرین کا یہی خیال ہے لیکن پی ٹی آئی کے لیے یہ موقع شاید ابھی جشن منانے کا نہیں۔ اسے نا تجربہ کار قیادت کی وجہ سے اپنے اندر خامیوں کو چھپا کہ رکھنا پڑے گا۔
اگر سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی کامیابی نون لیگ کے غلط بیانیے کی وجہ سے ہے تو پھر یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے حق میں ہو گا کہ نون لیگ اور ان سے منسلک چند نمایاں سپرا جرنلسٹس بیانیہ کا یہ راگ الاپتے رہیں، تا وقت کہ بیانیے کی شدت شریفوں کے دربار کو بھسم کر دے
پرانی اور اصلی نون لیگ کے اندر بہت سے لوگ ہوں گے جو یہ اصرار کریں گے کہ بات اس قدر کبھی نہیں بڑھے گی اور یہ راگ اس نہج تک جانے سے پہلے ہی کوئی استاد اس بھیانک سُر کو سنبھال لے گا۔
بہر صورت ابھی اس بحث کو جگایا جا سکتا ہے کہ آیا مسلم لیگ کے ہتھے سے اکھڑا ہوا یہ دھڑا جو فوج مخالف بیانیہ کا بوجھ اٹھائے جگہ جگہ رسوا ہو رہا ہے، اس کی قیادت میاں نواز شریف کے ہاتھ ہے یا بی بی مریم نواز ان پوسٹ ماڈرنسٹ لیگیوں کی لیڈر ہیں۔
وہ تمام اصحاب جو نون لیگ کو بغاوت پر اکساتے چلے آئے ہیں خبردار رہیں کیونکہ یہ سیاست ہے، پاکستانی سیاست۔
میاں صاحب کے پاس اب بھی یہ آپشن موجود ہے جس کے تحت وہ اس تمام بیانیہ کی ذمہ داری مریم بی بی کے سر پر ڈال کر خود اپنے کاروبار کے اعتدال پسند شراکت کاروں سے جا ملیں۔ جی تو یہ چاہتا ہے کہ نعرہ لگائیں اور شامل ہو جائیں اس چھٹتی بھیڑ میں جس میں موجود پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار کے یہ طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں اور تبدیلی کا وقت بس آیا چاہتا ہے
نواز شریف صاحب کا بیانیہ نہ ترک کرنے کے بیان کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے یا کمی؟
چھوٹے بڑے انتخابات میں جیت حوصلہ قائم رکھنے کا ہمیشہ ایک اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔ نون لیگ کو عوام کا جذبہ بر قرار رکھنے کے کوئی دوسرے طریقے بھی سوچنے پڑیں گے، مزید زور لگانا پڑے گا کیونکہ آگے چڑھائی ہے۔
یہ ایک انتہائی فیصلہ کن لمحہ ہے اور اس بات کا مزید ثبوت میاں شہباز کا متحرک ہونا ہے۔ بحیثیت صدر پی ایم ایل این شہباز صاحب دو محاذوں پر لڑتے نظر آتے ہیں۔
ایکُ طرف وہ عمران خان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں اور اپنی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ اس امر کے باوجود کہ خان صاحب کو ان قوتوں کا بھرپور ساتھ حاصل ہے جن کی آشیرباد کے بغیر شہباز صاحب اپنی پارٹی کی سیاست نامکمل سمجھتے ہیں، تحریک انصاف حکومت ترقی کے ضمن میں کچھ نہیں کر پائی ہے۔
ساتھ ساتھ شہباز شریف اپنی پارٹی بلکہ اپنی شریف فیملی کے ناراض سیاستدانوں، نواز شریف اور مریم نواز کو یہ نکتہ سمجھانے کی سخت کوشش میں ہیں کہ مفاہمت کے لفظ کو غلط معنی میں ان سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے سلیم صافی کو ایک انٹرویو کے دوران یہ باور کرانے کی بھرپور سعی کی کہ ان کا مطلب اور مقصد نیشنل رکنسیلی ایشن ہے نہ کہ کوئی عام سی مفاہمت جس سے انُ کی پارٹی کی سبکی ہوتی ہو۔
شہباز شریف کی اپنی پارٹی راہ راست پر لانے کی یہ ایک اور مہم ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کارکنان اور لیڈر عمران خان کے سپاہیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ زیادہ واضح طور ہر سن سکتے ہیں۔ یہ بات شہباز شریف اور ان کی پسندیدہ سیاست کے حق میں جاتی ہے
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 02, 2021 / comment : 0 پاکستان
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کو 10 دن سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اب تک قتل کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں اور موقع واردات سے قاتل گرفتار ہونے کے باوجود بھی اس ہولناک قتل کی کئی گتھیاں اب تک سلجھنا باقی ہیں۔
مبینہ قاتل ظاہر جعفر کا لاہور میں پولی گرافک ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے۔ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اپنی قریبی دوست کو اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل کیوں کیا۔ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سنگین واردات رونما ہوئی۔ ان تمام سوالات کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں۔
گزشتہ ماہ 20 جولائی کو عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل شام سات بجے کے قریب پولیس کو ایک کال موصول ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں ایک گھر میں ہنگامہ آرائی جاری ہے اور یہاں ایک قتل بھی ہو گیا ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو سنگین واردات دیکھ کر پولیس اہل کار بھی سکتے میں آگئے اور پولیس نے ملزم کو قابو کیا جو کسی طور قابو میں نہیں آ رہا تھا اور پولیس اہل کاروں پر ہی حملہ آور ہو رہا تھا۔
فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی گئی اور مقتولہ کے ایک سابق سفارت کار کی صاحبزادی ہونے کے انکشاف پر اور بھی کھلبلی مچ گئی اور تمام اہم افسران اور فرانزک ماہرین موقع پر پہنچ گئے۔
ظاہر جعفر کو وہاں موجود پولیس نے ہاتھ اور پاؤں سے باندھ رکھا تھا اور اسی حالت میں اسے تھانے منتقل کر دیا گیا۔
مقتولہ نورمقدم کی لاش اٹھانے سے پہلے پورے کمرے کی تصویر کشی کی گئی اور فرانزک ماہرین سمیت پولیس کے تفتیشی افسران نے کمرے کی تصویریں بنائیں۔ قتل میں استعمال ہونے والی چھری ملزم ظاہر جعفر کے ہاتھ میں تھی، وہ قبضہ میں لی گئی جس پر ظاہر کے فنگر پرنٹس بھی موجود تھے۔
تفتیش سے منسلک بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کے دوران ایک سے زائد چھریاں استعمال کی گئیں کیونکہ قتل کے بعد گردن الگ کرنے کے لیے ایک چھری کارآمد نہیں تھی جس کے بعد ملزم نے دوسری چھری استعمال کی۔ کمرے میں موجود پستول قبضے میں لیا گیا جس میں گولی پھنسی ہوئی تھی
کمرے سے ہی نور مقدم کا موبائل فون اس کے کپڑے اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئیں جنہیں قبضہ میں لے لیا گیا اور موقع واردات کو سیل کر دیا گیا۔
اگلے روز دوبارہ فرانزک ماہرین موقع واردات پر پہنچے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ فریج اور کچن میں موجود کھانے پینے کی اشیا کے نمونے لیے گئے۔ کمرے میں موجود گلاس، بیڈ شیٹس اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔
پولیس اب تک اس کیس میں اس روز رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں تفتیش کررہی ہے اور ملزم کے بیانات سمیت سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد بھی لی جارہی ہے۔ ظاہر جعفر کے خانساماں اور گارڈ کے بیانات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔
پولیس حکام نے شبہہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک کے بیانات اور شواہد کے مطابق یہ دونوں ملازمین بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ جنہوں نے ایک نہتی لڑکی کو مار کھاتے اور ملزم کی طرف سے اس پر تشدد کرتے دیکھ کر بھی پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نور مقدم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر باہر گیٹ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن گیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا سکی۔ اس کے بعد اس نے گھر کے اندر موجود گارڈ کے کیبن کے اندر پناہ لینے کی کوشش کی۔
اس دوران گارڈ گھر سے باہر موجود رہا اور ملزم ظاہر جعفر اوپر سے دوڑتا ہوا آیا اور نور مقدم کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اوپر لے گیا۔
کمرے کے اندر ظاہر جعفر نے اس لڑکی کو کیسے قتل کیا، یہ ملزم نے پولیس کو بتایا تو ہے لیکن اس کی ہولناک تفصیلات اب تک پولیس نے میڈیا سے شیئر نہیں کیں۔ تاہم قتل سے پہلے اور بعد میں اس کے کئی دوست جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہ اس کے گھر آئیں لیکن انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔
گارڈ کی طرف سے ظاہر کے والدین کو آگاہ کیے جانے کے بعد ‘تھیراپی ورکس’ نامی ادارے کے تین اہل کار موقع پر پہنچے جنہیں ظاہر نے گھر کے ٹیرس پر آ کر سختی سے منع کیا اور کمرے کے اندر چلا گیا
اس پر امجد نامی ایک اہل کار سیڑھی لگا کر ٹیرس سے گھر کے اندر پہنچا تو ظاہر کے بیڈروم کی حالت دیکھ کر سکتے میں چلا گیا اور اسی دوران ظاہر نے اس پر بھی چھری سے حملہ کیا، شدید زخمی ہونے کے باوجود امجد نے مزاحمت کی اور ظاہر کو قابو کرنے کی کوشش کی۔
اس دوران دیگر دو ساتھیوں کے آنے پر انہوں نے ظاہر جعفر کو کنٹرول کیا اور رسیوں سے باندھ لیا۔
اس دوران ہنگامہ آرائی کی آوازیں سن کر پڑوسیوں نے پولیس کو کال کردی اور شام ساڑھے سات بجے کے قریب پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
زخمی امجد ابھی بھی اسپتال میں داخل ہے اور اس کی حالت کے پیشِ نظر پولیس اب تک اس کا بیان حاصل نہیں کر سکی۔
امکان ہے کہ اس کے بیان کے بعد اس قتل کی ایف آئی آر میں اقدامِ قتل کی دفعہ بھی شامل کر دی جائے گی کیونکہ صرف نور مقدم کا قتل نہیں ہوا بلکہ ایک اور شخص کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اندراجِ مقدمہ کے 10 روز بعد ملزم ظاہر جعفر اب تک پولیس کے جسمانی ریمانڈ پر ہے۔
اس دوران اسے چار مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے چاروں مرتبہ مزید تفتیش اور شواہد جمع کرنے کا کہہ کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور تفتیش اب تک جاری ہے۔
اس دوران پولیس نے ایف آئی آر میں ملزم کے والدین اور دو ملازمین کو اعانتِ جرم کے الزام میں دفعات شامل کر کے گرفتار کر لیا۔
دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے لیکن جمعرات کو حراست میں موجود ملزم کے والد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ کی طرف سے انگریزی اخبار 'ڈان' میں ایک اشتہار بھی شائع ہوا۔ جس میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نور کے والد شوکت مقدم اور اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور قانون اپنا راستہ بناتے ہوئے انصاف فراہم کرے
ولیس حراست میں ہوتے ہوئے قتل اور اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار افراد کی طرف سے یوں تعزیتی اشتہار شائع ہونے پر بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
عدالتی کارروائی میں اب تک پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے مطابق وہ مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ انکار کر رہی تھی۔ جس کی وجہ سے اشتعال کے باعث یہ قتل ہوا۔
آخری مرتبہ عدالت میں پیشی پر پولیس نے تین دن کا ریمانڈ لیا اور کہا کہ اب اس ریمانڈ کے بعد بیشک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔
ملزم ظاہر جعفر نے پولیس کے سامنے تو بیانات دیے ہیں لیکن ان کی اب تک کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
ملزم کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے دیے گئے بیان کی اہمیت ہے جسے مستند قانونی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض ملزمان مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیانات کو بھی اعلیٰ عدالتوں میں پولیس کے زیر اثر دیے گئے بیان کا کہہ کر مکر جاتے ہیں۔
اس کیس میں ظاہر جعفر کا بیان ابھی ریکارڈ ہونا باقی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ کیس چلانے کے لیے پولیس اپنے چالان عدالت میں جمع کرائے گی جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوسکے گی۔
اس کیس میں اب تک سامنے آنے والے شواہد اور قتل کی وجوہات ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باعث کئی سوالات جنم لے رہے ہیں اور دس دن کے بعد بھی پولیس اس کیس میں حتمی طور پر کوئی بھی جواب دینے سے گریزاں ہیں
مقتولہ نورمقدم کے والدکے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ کے مطابق ملزم نے ابتدائی بیان میں شادی سے انکار کا کہا لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ مقتولہ کا ملزم کے ساتھ کئی ماہ کے بعد رابطہ ہوا تھا۔
ملزم ظاہر جعفر کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ جن کے مطابق تھیراپی ورکس نامی ادارے کا نام سامنے آنے سے سمجھا جارہا تھا کہ ملزم کو ذہنی مریض بتا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، لیکن ملزم اسی ادارے میں لیول فور کا کاؤنسلنگ ماہر تھا اور اسلام آباد کے مہنگے اسکولوں کے بچوں کی کاؤنسلنگ کررہا تھا۔
پولیس کے ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کے لیے بھی یہ چیز حیران کن ہے کہ اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل شدید نفرت کے تحت کیا جاتا ہے۔
تفتیش کار کے مطابق عموماً اس انداز میں قتل کرنے والے یا تو ذہنی مریض ہوتے ہیں جو مقتول کو تکلیف دے کر لطف حاصل کرتے ہیں یا پھر شدید نفرت یا انتقامی جذبے کے تحت کی جانے والی قتل کی واردات میں ایسی سفاکی دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن اب تک ملزم جو وجوہات بتا رہا ہے وہ قتل کے اس انداز سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
اُن کے بقول اس قتل کے بارے میں ملزم کے والدین کا رویہ بھی حیران کن رہا ہے جن کے ساتھ ملزم کا رابطہ رہا کیوں کہ قتل سے پہلے انہیں آنے والی ٹیلی فون کال کے بعد انہوں نے تھیراپی ورکس کو تو کال کی لیکن خود بیٹے کو کال نہیں کی۔ البتہ قتل کے بعد ملزم نے پہلی کال والد کو کی جنہوں نے اپنے ایک دوست کو موقع پر جانے کا کہا۔
ملزم نے بعد میں والد کے دوست سے ٹیلی فون پر بات کی۔اس دوران وہ اپنے دوستوں سے بھی ٹیلی فون پر بات کرتا رہا۔
اس کیس میں اہم سوال نور مقدم اور ظاہر جعفر کے دوستوں کے کردار کا بھی ہے جو سوشل میڈیا پر ان دونوں کے بارے میں مختلف بیانات تو دے رہے ہیں لیکن پولیس کو کوئی بیان نہیں دے رہے۔
پولیس نے ظاہرجعفر کا فون ریکور کرنے کے بعد اس میں ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی ہے اور اب بہت سے دوستوں کو بلایا جا رہا ہے۔ ان میں خاص طور پر ان دوستوں کو بلایا جا رہا ہے جنہیں ظاہرجعفر نے کال کی یا پھر وہ ظاہر کو کالز کرتے رہے۔
مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو مل چکی ہے لیکن کئی سوالات کے جواب حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہی ملیں گے۔ جس کا پولیس انتظار کررہی ہے۔ فرانزک لیبارٹری لاہور سے اس بارے میں رپورٹ آئندہ چند روز میں آنے کا امکان ہے
ملزم کی ذہنی صحت سے متعلق تھیراپی ورکس کو سیل کر کے وہاں کی انتظامیہ سے تفتیش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جس وقت ملزم کو گرفتار کیا گیا وہ اس وقت کسی نشے کے زیر اثر نہیں تھا اور مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھا۔ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے جس کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔
ملزم ظاہر جعفر کو ہفتے کے روز دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ملزم کے وکیل انصر نواز ملک نے ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے۔ تمام ریکوری ہو چکی اب مزید ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔ جس پر مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 40 گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے۔ جس میں اس کیس سے جڑے مزید کردار سامنے آئے ہیں اور ایسے میں پولیس کو مزید ریمانڈ کی ضرورت ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شعیب نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 02, 2021 / comment : 0 اہم خبریں, پاکستان
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کینیڈا کے سابق وزیر اور سفارت کار کرس الیگزینڈر کے افغان امن عمل سے متعلق پاکستان اور وزیر اعظم عمران کے کردار سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔
کرس الیگزینڈر نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں عمران خان پر طالبان کے مؤقف کو فروغ دینے کا سنیگن الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پر تعزیرات عائد ہونی چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں قابلِ افسوس ہیں جب دنیا پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ مؤقف کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کا حل ایک جامع سیاسی تصیفے کے ذریعے وسیع حکومت کی ضرورت ہے
ترجمان زاہد حفیظ نے مزید کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ کینیڈا کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم نےکینڈئن حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان کےبقول پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس مہم کو روکیں۔
یادرہے کہ الیگزینڈر ماضی میں افغاستان میں کینڈا کے سفیر کے کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور قبل ازیں بھی وہ پاکستان کے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں تنقید کرتے رہے ہیں ۔ ان کا تازہ بیان بیا ن ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا جب دوسری جانب طالبان کی کاروائیوں میں شدت دیکھی جارہی ہے اور افغانستان کے بعض جنوبی شہروں کو کنڑول حاصل کرنے کے لیے افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے ۔
افغان حکومت کے بعض ر ہنما پاکستان پر الزام عائد کررہے ہیں کہ پاکستان طالبان کی مدد کررہا ہے۔ افغانستان کے نائب صر امراللہ صالح نے بھی اتوار کو پاکستان پر طالبان کی کھل کر حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔
لیکن پاکستان ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں غیر جانبدار ہے اسلام آباد کسی فریق کا حامی نہیں ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم کے سامنے آنے والے مختلف بیانات میں عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قراردینے باعث افسوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کس طور افغانستان کے صورتحال کا ذمہ دار نہیں ہے۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان جو کچھ کررہے ہیں پاکستان اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کےبقول پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کوششوں کی حمایت کی ہے۔
الیگزینڈر نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اعطم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او ر پاکستان کے دفتر خارجہ کے موقف کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار یتے ہوئے انہیں ان تمام لوگوں کی توہین قرار دیا ہے جو افغانستان کے امن و استحکام کے کام کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے صدر امر اللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں کینڈا کے سابق وزیر کے ٹوئٹ سراہتے ہوئے کہا کہ الیگزینڈر نے ان دسیوں لاکھوں افغانوں او ر لاکھوں سابق خاموش مغربی ممالک کے فوجیوں کی طرف سے بات کی ہے۔ جن کی سفارت کار اور سرکاری سطح پر کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔
Posted by: shahjahan Posted date: اگست 02, 2021 / comment : 0 پاکستان
شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی بھرپورحمایت حاصل ہے اس کے باوجود ملک کے حالات آج اتنے خراب ہیں، کسی اور حکومت کو صرف 30 فیصد بھی حمایت حاصل ہوتی تو ملک بہت آگے نکل جاتا، موجودہ حکومت آج بھی کشکول لے کر دوسروں کے پاس کھڑی ہوتی ہے، ملک میں آج مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے مجھے وزیراعظم بننے کی پیشکش کی، غلام اسحاق خان نے بھی وزیراعظم بنانے کا کہا، کارگل معاملے پر نواز شریف کو پرویز مشرف کو امریکا لے جانے کا کہا تاہم ایک دوست نے پرویز مشرف کو امریکا لے جانے کی مخالفت کی، ہمیں جیلوں میں ڈالنے کا منصوبہ اکیلے مشرف کا تھا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نواز شریف سے متعلق کہا گیا وہ بالکل ٹھیک ہیں، حکومت بتائے ڈاکٹر طاہر شمسی کو کراچی سے کس نے بلایا؟ نواز شریف کے دور میں ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی تھی، ہم حکمت عملی بناتے تو نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم ہوتے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم آج بھی اداروں کی عزت کرتے ہیں، نیب کا دو مرتبہ مہمان بن چکا، عمران خان کا بس چلے تو انٹرویو ختم ہونے کے بعد مجھے دوبارہ گرفتار کرالے۔
انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی ایم بنی تو میں جیل میں تھا اور جب تقسیم ہوئی تب بھی میں جیل میں تھا، میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، اپوزیشن باہر اکٹھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں میں چاہتا ہوں کہ پارلیمنٹ میں اکٹھی ہوجائے
Posted by: shahjahan Posted date: جولائی 25, 2021 / comment : 0 پاکستان, فری لانسنگ
پاکستان میں نوجوانوں کے لیے نوکریوں کی کمی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ایسے میں کئی لوگ انٹرنیٹ کی مدد سے روزگار کے متبادل راستے اپنا رہے ہیں۔
شاہجہان ان لوگوں میں سے ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہزاروں ڈالرز ماہانہ کماتے ہیں۔ وہ ’وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہیں‘ اور خود اپنی مرضی سے اپنے کام کا تعین کرتی ہیں
انھوں نے 10 سال قبل اپنی نوکری چھوڑ کر آن لائن پیسے کمانا شروع کر دیے تھے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟
شاہجہان ایک فری لانسر ہیں، یعنی وہ پاکستان میں رہتے ہوئے دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود اپنے کلائنٹ کے لیے کام کر سکتی ہیں اور اس کے لیے انھیں کسی دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں گھنٹوں کے حساب سے پیسے ملتے ہیں اور وہ بھی امریکی ڈالرز میں
ٹیکنالوجی کی زبان میں فری لانسنگ سے مراد انٹرنیٹ پر کسی بھی ملک میں موجود ایک فرد یا کمپنی کے لیے کام کے عوض پیسے وصول کرنا ہے۔
پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کئی طریقوں سے کما سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک طریقہ ای کامرس یعنی آن لائن کاروبار ہے جبکہ دوسرا طریقہ کونٹینٹ یعنی ایسا مواد لکھنا، تصاویر یا ویڈیوز بنانا جو لوگوں میں مقبولیت حاصل کر سکے۔
اسی طرح فری لانسنگ ایک تیسرا ذریعہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ شاہجہان کے مطابق: ’ایک اچھا انٹرنیٹ اور لیپ ٹام موجود ہو تو آپ کہیں سے بھی فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔‘
آمنہ کمال پاکستان کے فری لانسنرز کی ترتیب کرنے والے ایک حکومتی ادارے ڈیجی سکلز سے منسلک ہیں۔ وہاں وہ ہر عمر کے لوگوں کو اس حوالے سے تربیت دیتی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ: ’ایک زمانے میں کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔ پہلے پڑھائی کے بعد لوگ نوکریاں تلاش کرتے تھے۔
’اب یہ بدلتا جا رہا ہے اور لوگوں کو جسمانی طور پر کسی دفتر میں موجود ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ورچوئلی (یعنی عدم موجودگی میں کمپیوٹر کے ذریعے) کام کر سکتے ہیں
2018 کی ایک رپورٹ میں ورلڈ بینک اور فری لانسنگ کی ویب سائٹس کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں 60 ہزار سے زیادہ فری لانسرز موجود ہیں۔ تاہم یہ محظ ایک محتاط اندازا ہے۔
اس کے بعد 2019 کی ایک رپورٹ میں پاکستان کی فری لانسنگ مارکیٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ’دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس‘ کے نتائج کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں 2018 کے مقابلے 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا
اس صنعت میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر آیا تھا۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا جبکہ انڈیا ساتویں اور بنگلہ دیش آٹھویں نمبر پر تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فری لانسنرز میں اضافے کی وجہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے۔
’پاکستان میں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے تعلیم کے فروغ نے پاکستان کے نوجوانوں کو گِگ اکانمی میں حصہ لینے میں مدد کی ہے۔‘
آن لائن ادائیگیوں کی سروس پیونیئر سے منسلک محسن مظفر کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی اور فور جی کی مدد سے اب پاکستانی فری لانسرز دنیا بھر سے کام حاصل کر سکتے ہیں جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔
فری لانسنگ کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 57 فیصد سے زیادہ فری لانسرز 25 سے 34 سال کے ہیں
ورلڈ بینک کی دسمبر 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ، انڈیا، بنگلہ دیش، اور فلپائن کے ساتھ ساتھ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فری لانسنگ کے ذریعے کام کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
ویسے تو فری لانسنگ میں آپ ہر ممکن (اور جائز) کام کر سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے میں تجربہ رکھنے والے شاہجہان بتاتی ہیں کہ ’فری لانسنگ میں آپ ڈیٹا انٹری کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ لکھنے میں اچھے ہیں تو کسی کی ویب سائٹ، بلاگ یا فیشن پر تحریر لکھ سکتے ہیں۔
’سپریڈ شیٹس، ایم ایس ورڈ یا آفس سے متعلق کوئی کام، بنیادی گرافک ڈیزائنگ یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کا کام اس وقت فری لانسنگ میں کافی چل رہا ہے۔
شاہجہان کے مطابق اس وقت فری لانسنگ کی ڈیمانڈ جن شعبوں میں ہیں ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی ہے۔ ’اس میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ آ جاتی ہیں۔ ’
وہ بتاتی ہیں سافٹ ویئر اور ایپ بنانے کے کام کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی طلب ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے نوجوان اس قسم کے ہنر سیکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے ان کے پاس ایک تبادل ذریعہ آمدن موجود ہو۔
ڈیجی سکلز کی ٹرینر آمنہ کمال نے بتایا کہ: ’کمپیوٹرز کی مدد سے لوگ ایسی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں جن کی بدولت اب یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی ایک کمپنی یا ملک میں کام کریں۔‘
’ان چند سکلز (صلاحیتوں) میں گرافک ڈیزائن، ویب سائٹ بنانا، ایس ای او (سرچ انجن اوپٹیمائزیشن)، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا، ای کامرس اور تصانیف لکھنا شامل ہے۔
فری لانسر شاہجہان بتاتے ہیں کہ اس نوعیت کے بنیادی ہنر سیکھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں کیونکہ ’فری لانسنگ کے لیے کچھ ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ بنا کر کام ڈھونڈ سکتے ہیں۔‘
پاکستان میں اکثر فری لانسرز فائیور ( Fiverr) اور اپ ورک ( Upwork) سمیت ایسی کئی ویب سائٹس پر کام تلاش کرتے ہیں۔ یہاں اپنی پروفائل بنانے کے بعد لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ ضروریات پر پورا اترنا ہوتا ہے۔
کام مکمل ہونے پر یہ ویب سائٹس کام دینے والے سے پیسے وصول کرتی ہے، اپنی کٹوتی کرتی ہے اور کام کرنے والے کو پیسے ادا کر دیتی ہے۔ لیکن بعض لوگ اعتماد بحال ہونے پر تیسرے فریق کو شامل نہ کرتے ہوئے باہمی سطح پر لین دین کر لیتے ہیں۔
لوگ فری لانسنگ میں کتنے پیسے کما سکتے ہیں، اس حوالے سے شاہجہان نے بتایا کہ اس کا انحصار ایک شخص کی صلاحیت، ہنر مندی، کام کی نوعیت اور وقت کے دورانیے پر ہوتا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ: ’جب کام کے عوض پیسے ڈالرز میں ملتے ہیں تو اس کی قدر کافی زیادہ ہوتی ہے۔‘
اس بات سے آمنہ کمال بھی اتفاق کرتی ہیں۔ ’فری لانسنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ روپے میں نہیں بلکہ ڈالر میں پیسے کماتے ہیں۔۔۔ جب لوگ باہر سے پیسے کماتے ہیں تو اس سے انفرادی اور ملکی فائدہ ہوتا ہے۔'
آمنہ نے بتایا کہ ملک میں نوکریوں کی کمی ہے اور انٹرنیٹ پر فری لانسنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا طریقہ ایک متبادل کے طور پر نوجوانوں کے لیے موجود ہے۔ انھوں نے اس پہلو کی طرف بھی روشنی ڈالی کی بعض لوگوں نے فری لانسنگ کی مدد سے اپنی خود کی کمپنیاں قائم کر لی ہیں۔
شاہجہان کے مطابق ’مختلف ویب سائٹس پر ایک کام کے لیے چند ڈالرز سے ریٹ بڑھتا بڑھتا ہزاروں ڈالرز تک بھی جا سکتا ہے۔’
پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے انٹرنیٹ پر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص فوراً اس میں کامیاب ہوجائے۔
تاہم آمنہ پرامید ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ: ’ہمارے کام کرنے کی صلاحیت ایک وسیلہ ہے۔ پاکستان میں ایسے باصلاحیت لوگ موجود ہیں جو یہاں بیٹھے بیٹھے اپنے ہنر اور کام سے باہر کی دنیا سے پیسے کما سکتے ہیں۔‘
آمنہ کے مطابق پاکستانی لوگ اپنے ملک کے علاوہ پوری دنیا کے فری لانسرز سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت پر معیاری کام کریں تاکہ اپنی اچھی پروفائل بنا سکیں۔
’اچھے فری لانسر کے اندر صلاحیتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ سب سے منفرد کام پیش کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیٹ پر ان کی پروفائل مضبوط ہو جائے گی اور مختلف کلائنٹس ان سے بار بار کام لیں گی جو کہ پیسے کمانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا۔‘
دوسری طرف فری لانسرز کے مطابق پاکستان میں بیرون ممالک سے پیسوں کی ادائیگی کے بھی کچھ موجود مسائل ہیں کیونکہ پے پال کی سروس ملک میں تاحال متعارف نہیں کرائی گئی۔
تاہم فری لانسرز پیسے وصول کرنے کے لیے اس کے متبادل طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
شاہجہان نے بتایا کہ: ’اس وقت سب سے اہم مسئلہ ادائیگیوں کا ہے جن کا سامنا پاکستان میں فری لانسر کر رہے ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ متبادل بھی ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی ادائیگیاں وصول کرسکتے ہیں۔‘
Posted by: shahjahan Posted date: جولائی 25, 2021 / comment : 0 پاکستان
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے گیارہویں عام انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔ 53 نشستوں پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں 12 نشستیں پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں میں پولنگ جاری ہے۔
آٹھ مخصوص نشستوں میں سے پانچ خواتین کے لیے مختص ہیں جب کہ ایک ایک نشست ٹیکنو کریٹس، علما و مشائخ اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہے۔ ان نشستوں پر بالواسطہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان علیحدہ سے ہو گا۔
بھارت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یہ پہلا انتخاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکمران جماعت تحریکِ انصاف سمیت اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابات میں کافی سرگرم ہیں۔
کشمیر میں انتخابی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے خیال میں یہاں انتخابات میں عموماً مسئلہ کشمیر کے مقابلے میں مقامی مسائل جیسے پانی اور سڑک جیسی سہولیات الیکشن پر اثرانداز ہوتی ہیں لیکن اس مرتبہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھارت کا پانچ اگست 2019 کا اقدام کافی نمایاں رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق خطے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 32 لاکھ 20 ہزار 546 ہے جن میں چار لاکھ تین ہزار 456 ووٹرز پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزین ہیں۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی مجموعی تعداد 708 اور ان میں 317 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مقامی حلقوں میں امیداروں کی تعداد 587 بتائی گئی ہے جب کہ 121 امیدوار کشمیری پناہ گزینوں کے حلقوں سے شامل ہیں۔
مقامی انتخابی حلقوں کی 33 نشتوں کے لیے 261 جب کہ مہاجرین کے 12 حلقوں میں 56 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ اگرچہ نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے تاہم خواتین امیدواروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
حیرت انگیز طور پر تین بڑی جماعتوں میں سے پیپلز پارٹی نے کسی خاتون امیدوار کو براہِ راست نشستوں پر ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ البتہ پاکستان تحریک انصاف نے ایک اور مسلم لیگ (ن) نے دو خواتین کو امیدوار نامزد کیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس سے قبل مقابلہ دو بڑی جماعتوں کے درمیان ہی رہا ہے۔ 2006 تک مسلم کانفرنس اور پاکستان پیپلز پارٹی خطے کی سب سے بڑی جماعتیں تھیں
سن 2011میں مسلم کانفرنس کی جگہ مسلم لیگ (ن ) نے لے لی۔ 2011 اور 2016 کے انتخابات میں مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہی رہا۔ پہلی مرتبہ پاکستان تحریکِ انصاف ایک تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے اور ماہرین کے خیال میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ہونے کے باعث قوی امکان ہے کہ تحریکِ انصاف خطے میں انتخابات جیت کر حکومت بنا سکتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عمومی تاثر یہی ہے کہ پاکستان میں برسرِ اقتدار جماعت ہی خطے میں حکومت بناتی ہے اور ماضی کے 11 انتخابات میں یہ تاثر برقرار رہا ہے۔ البتہ اس مرتبہ تینوں جماعتوں کی بھرپور انتخابی مہم کے باعث امکان ہے کہ پاکستان میں برسر اقتدار جماعت پی ٹی آئی کو یک طرفہ مقابلے کے بجائے دونوں حریف جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا رہے گا۔
یہ انتخابات ماضی کے انتخابات سے کئی لحاظ سے مختلف ہیں۔ پانچ اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلی بار انتخابات ہو رہے ہیں
بعض تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں کے مبینہ طور پر غیر مؤثر اقدامات پر اپنے ردِعمل کا اظہار ووٹر ان انتخابات میں کریں گے۔
البتہ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس خطے کے انتخابات مقامی تعمیر و ترقی اور روزگار جیسے مسائل کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور تنازع کشمیر کو انتخابات میں ہمیشہ ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے۔
سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر وقاص علی کوثر کے بقول "یہاں انتخابات میں برادریاں، مقامی مسائل، ترقیاتی منصوبے اور سرکاری نوکریاں مدِنظر رہتی ہیں۔ اگرچہ تنازع کشمیر کو بھی انتخابی منشور اور سیاسی تقریروں میں شامل رکھا جاتا ہے تاہم ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی جماعت یا امیدوار تنازع کشمیر کو بنیاد بنا کر یہاں کے انتخابی نتائج کو بدلنے کے قابل ہو سکے۔"
پانچ اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بعد پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی صوبہ بنانا چاہتا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر اس خدشے کا اظہار بارہا کر چکے ہیں کہ ممکن ہے وہ اس خطے کے 'آخری' وزیرِ اعظم ہوں۔ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی الیکشن مہم کا مرکزی نکتہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی منفرد سیاسی شناخت کا تحفظ ہی رہا ہے۔
الیکشن مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا یہ نعرہ بھی کافی مقبول رہا کہ 'بچہ بچہ کٹ مرے گا، کشمیر صوبہ نہیں بنے گے۔‘
اگرچہ مسلم لیگ (ن) کا یہ بیانیہ کشمیر میں کافی مقبول رہا اور پی ٹی آئی نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا تاہم وزیرِاعظم عمران خان نے انتخابی مہم کے آخری روز کوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب میں ایسے کسی بھی منصوبے کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "مخالفین کہہ رہے ہیں کہ میں کشمیر کو صوبہ بنانا چاہتا ہے، یہ بات کہاں سے آئی، مجھے علم نہیں۔"
عمران خان کا کہنا تھا کہ "وہ کشمیر میں ایک ریفرنڈم کروائیں گے جس میں کشمیریوں کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدہ ہونا چاہتے ہیں۔"
سیاسی محقق قیصر خان، عمران خان کے اس بیان کو کوٹلی اور پونچھ کے قوم پرست ووٹ کو راغب کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ان کے بقول "مسلم لیگ (ن) نے پہلے ہی اپنی ساری توجہ قوم پرست ووٹ پر رکھی ہے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ لہذٰا عمران خان کا یہ اعلان کشمیریوں کے لیے کچھ خاص کشش نہیں رکھتا
قیصر خان کا خیال ہے کہ عمران خان کا ریفرنڈم کا وعدہ اقوامِ متحدہ کے ریفرنڈم کے وعدے کی تکمیل سے مشروط ہے جس کا کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں۔ اس کے بجائے اگر عمران خان اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والے ریفرنڈم میں تیسرے آپشن کی شمولیت کی حمایت کا اعلان کرتے تو وہ کشمیریوں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتا۔"
صحافی طارق نقاش کا خیال ہے کہ اس سے قبل انتخابی مہم میں مقامی مسائل، تعمیر و ترقی اور روزگار کی فراہم کو ہمیشہ مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ "سیاسی جماعتوں اور قائدین کے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات ماضی میں بھی لگتے رہے تاہم ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین پاکستان کی سیاست کو اٹھا کر کشمیر میں لے آئے ہیں۔"
وہ کہتے ہیں کہ "کسی جماعت نے خطے کی تعمیر و ترقی کا کوئی واضح روڈ میپ نہیں دیا اور کشمیر کا مسئلہ بھی تقریروں اور جذبات کو بڑھکانے کے لیے ہی استعمال ہوا۔ غداری اور کشمیر فروخت کر دینے جیسے الزامات اور وفاقی وزرا کی جانب سے ناشائستہ زبان کا استعمال بھی ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوا۔"
اُن کے بقول" ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پانچ سال اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیتی مگر بدقسمتی سے ان کے پاس ایسا کچھ نہیں جسے دکھا کر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکیں۔ اس لیے انہوں نے کشمیر بیچ دینے اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو صوبہ بنانے کی مبینہ کوششوں کی آڑ لے کر الیکشن مہم چلائی
پاکستانی کشمیر کے انتخابات اس لحاظ سے ہمیشہ تنازعات کا شکار رہے ہیں کہ کشمیر کی خود مختاری کی حامی جماعتوں اور امیدواروں کو متنازع انتخابی قوانین کے تحت انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔
اس سے قبل انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر لازم تھا کہ وہ خطے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے کی پاسداری کا حلف نامہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں، تاہم 2020 کے الیکشن ایکٹ میں یہ پابندی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعتوں کے لیے بھی لازم قرار دی گئی ہے۔
یہی وجہ سے کہ اس خطے کی کوئی بھی قوم پرست جماعت الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی انتخابی عمل میں شریک ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ 'جے کے ایل ایف' کے بعض دھڑوں اور 'این ایس ایف' سمیت بعض قوم پرست جماعتوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کی باقاعدہ مہم چلائی ہے اور اس دوران این ایس ایف کے کئی کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
انتخابی مہم کے آخری روز عین اس وقت جب وزیرِ اعظم عمران خان تراڑ کھل میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے نے کچھ ہی فاصلے پر ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا اور ان انتخابات کو 'فراڈ' قرار دیکر بائیکاٹ کی اپیل کی