Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

63 ہزار ڈالر سے زائد میں فروخت ہونے والا مائیکرو سکوپ سے دیکھا جانے والا ننھا سا بیگ

 

نمک کے زرے سے بھی چھوٹا مائیکرو سکوپ کی مدد سے دیکھا جانے والا ہینڈ بیگ ایک نیلامی میں 63 ہزار سات سو پچاس ڈالر میں فروخت ہوگیا ہے۔

اس ننھے بیگ کو دیکھنے کے لیے ایسی خصوصی خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے، جس کی پیمائش صرف 657 x 222 x 700 مائیکرو میٹر ہے۔

آرٹ کا یہ بہترین شاہکار نیویارک میں فن پاروں کے معروف آرٹ گروپ مسچف (MISCHF) کی ملکیت تھا جو اپنے فن پاروں کی نیلامی بھی کرتے ہیں۔

نیلام گھر کے مطابق اس فن پارے کا حجم اتنا چھوٹا ہے جسے سوئی کے سوراخ سے بآسانی گزارا جا سکتا ہے۔

جب ہی اس مختصر ترین پرس کو دیکھنے کے لیے آپ کو ایک خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔

مسچف آرٹ گروپ عجیب و غریب ڈیزائنز پر منبی فن پاروں کے باعث مشہور ہے۔

آرٹ گروپ کی کلیکشن میں ایسے نادر جوتے بھی شامل ہیں جن کے تلوے میں انسانی خون کا قطرہ موجود ہوتا ہے جبکہ ایک ایسا کولون بھی ہے جس کی بو WD-40 جیسی ہوتی ہے جبکہ ربڑ کے لال بڑے بوٹ بھی انوکھی کلیشن کا حصہ ہیں۔

اس بار مسچف نے چھوٹے ہینڈ بیگز کے فیشن کو سامنے رکھ کر اس کی انتہا تک جانے کا فیصلہ کیا۔

آرٹ گروپ نے بیگ کے بارے میں اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بڑے ہینڈ بیگ، نارمل ہینڈ بیگ اور چھوٹے ہینڈ بیگز ہیں لیکن یہ بیگ چھوٹے سائز کی حتمی شکل ہے۔

اس بیگ میں لگژری ہینڈ بیگ ڈیزائنر لوئی ویتوں کی برانڈنگ ہے تاہم اس کا برانڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

اس بیگ کو بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو اکثر چھوٹے میکنیکل ماڈلز اور سٹرکچر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سائنس اور نیچر کے میگزین ’سمتھ سونین‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس ننھنے بیگ کو بنایا جا رہا تھا تو برانڈ کی طرف سے جائزہ لینے کے لیے بھیجے گئے کچھ چھوٹے بیگ کے نمونے اتنے چھوٹے تھے کہ وہ آرٹ گروپ کی ٹیم سے کھو گئے۔

تاہم اس نایاب آرٹ پیس کا کھو جانا نئے بیگ کے مالک کے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خریداری میں ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ ایک خوردبین بھی شامل تھی۔

ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ یہ خصوصی خوردبین آن لائن خریدی جا سکتی ہے، جس کی قیمت 60 ڈالر سے 10 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

نیلامی کی سائٹ نے مائیکروسکوپ کی قیمت بیگ سے الگ نہیں درج کی۔ اس نایاب آئٹم کے لیے بولی 15 ہزار ڈالر سے شروع ہوئی۔

بیگ پر لوئی ویتوں برانڈنگ کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسچف کے چیف کری ایٹیو آفیسر کیون ونسر نے اس ماہ کے شروع میں نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ گروپ نے برانڈ سے اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’جس کام کی اجازت نہ ملنے کا اندیشہ ہو بہتر ہے وہاں کام کر گزریں اور بعد میں معافی مانگ لیں۔

واضخ رہے کہ مسچف کے خلاف 2021 میں جوتے اور سپورٹس کا سامان بنانے والے بین الاقوامی برانڈ نائیکی نے انسانی خون والے جوتوں کی فروخت کا مقدمہ جیتا تھا۔

نائیکی کا مؤقف تھا کہ اس کے جملہ حقوق چوری ہوئے ہیں۔ کمپنی نے نیو یارک کی ایک عدالت میں ان جوتوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور ساتھ ہی عدالت سے ان جوتوں کی فروخت کو روکنے کی بھی درخواست کی تھی

گوگل برڈ آرٹی فیشل انٹیلیجینٹس کیا یے

 



𝙂𝙤𝙤𝙜𝙡𝙚 𝘽𝙖𝙧𝙙 𝘼𝙄

گوکل برڈ  ایک ناقابل یقین حد تک طاقتور ٹول ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹرز کو اعلیٰ معیار کا مواد تخلیق کرنے، گاہکوں کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے مشغول ہونے، کسٹمر کے رویے کے بارے میں قیمتی بصیرت حاصل کرنے، اور وقت بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔ جیسا کہ AI ٹیکنالوجی کا ارتقاء جاری ہے، 𝘽𝙖𝙧𝙙 بلاشبہ ان کاروباروں کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ٹول بن جائے گا جو تیزی سے ڈیجیٹل دورکے منظر نامے میں آگے رہنے اور ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں۔

  یہ کس طرح ڈیجیٹل مارکیٹرز کی مدد کر سکتا ہے؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں

𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐧𝐭 𝐂𝐫𝐞𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: ڈیجیٹل مارکیٹرز کو درپیش سب سے اہم چیلنجوں میں سے ایک پرکشش اور اعلیٰ معیار کا مواد بنانا ہے۔ کے ساتھ، مارکیٹرز

آرٹی فیشن ینگویج ماڈل کی فطری لینگویج پروسیسنگ کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھا کرآپ متعلقہ مواد تیار کر سکتے ہیں ۔ یہ مواد مختلف شکلیں لے سکتا ہے، بشمول سوشل میڈیا پوسٹس، بلاگ آرٹیکلز، ای میل نیوز لیٹر وغیرہ۔

𝐂𝐮𝐬𝐭𝐨𝐦𝐞𝐫 𝐄𝐧𝐠𝐚𝐠𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭: 𝐧𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭: 𝐧𝐧𝐭 اس سے ڈیجیٹل مارکیٹرز کو صارفین کے ساتھ زیادہ ذاتی نوعیت کے اور بامعنی انداز میں مشغول ہونے میں مدد مل سکتی ہے، انہیں ان کے سوالات اور خدشات کے فوری اور درست جوابات فراہم کر سکتے ہیں۔

اسکو مختلف ڈیٹا اینالیٹکس ٹولز کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے تاکہ بصیرت، کسٹمر کے رویے، ترجیحات کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔ اس معلومات کو پھر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی مہمات کو بہتر بنانے اور مجموعی کاروباری حکمت عملیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مختلف کاموں کو خودکار کر سکتا ہے، جیسے کہ مواد کی تخلیق اور گاہک کی مشغولیت، مارکیٹرز کے لیے اپنی مہمات کے دیگر اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے وقت نکال کر۔

کینیڈا اور گوگل کی جنگ

 


یس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اور گوگل نے اپنے پلیٹ فارمز پر کینیڈا کی مقامی خبروں کو بلاک کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

گوگل اور میٹا کا یہ اعلان کینیڈا کی جانب سے ملک میں ایک بل منظور کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت دونوں پلیٹ فارمز کو آن لائن مواد کی نشریات کے لیے ادائیگی پر مجبور کرنا ہے۔

ایسی صورتحال میں اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟

کیوبیک میں فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’لا پریس‘ کے صدر پیری ایلیوٹ لیویسیور کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انھوں نے کئی سالوں تک ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ادائیگی کے لیے معاہدوں پر مذاکرات کی کوشش کی۔ ان کے مطابق انھیں یقین ہے کہ ’ٹیک کمپنیاں خبروں اور مضامین کے زور پر ڈیٹا اوراشتہارات کی مد میں ڈالرز کو ہضم کر رہے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا  کو بتایا، ’ سالہا سال سے وہ صاف انکاری ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آن لائن نیوز ایکٹ کے نام سے جانا جانے والا نیا قانون اس رجحان میں کمی لا کر صورت حال میں بہتری لائے گا اور اس سے حاصل ہونے والا فنڈ کاروبار میں لگایا جا سکتا ہے۔

اس نئے قانون کا مقصد گوگل اور میٹا کو خبر رساں اداروں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے طے کرنے پر مجبور کرنا ہے تاہم اگر دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تو ملک کا براڈکاسٹ ریگولیٹر انھیں ثالثی پر مجبور کر سکتا ہے۔

پارلیمانی بجٹ کے آزاد نگران ادارے کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے سالانہ 300 ملین کنیڈین ڈالرز یا 256 ملین امریکی ڈالرز سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے جو ایک عام نیوز روم کو چلانے کے لیے درکار فنڈنگ کا تقریبا 30 فیصد ہے۔

تاہم اس قانون سے معاہدوں کا راستہ کھلنے کے بجائے لا پریس سمیت کینیڈا کی کم و بیش ہر نیوز آرگنائزیشن کو اب ایک ممکنہ بلیک آؤٹ کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیک کمپنیز نے اس قانون پر عمل کرنے کے بجائے اپنے پلیٹ فارمز پر نیوزآرٹیکلز کے لنکس کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میٹا کی جانب سے ابتدا سے ہی اس تجویز کی مخالفت سامنے آتی رہی ہے اور اب اس کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ میں کینیڈا کے صارفین کے لیے اپنی نیوز سائٹس کو بلاک کرنا شروع کر دے گی۔

دوسری جانب گوگل اس سے قبل یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں خبر فراہم کرنے والوں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے کرتا آیا ہے تاہم رواں ہفتے اس نے کینیڈا کے موجودہ قانون کو ’ناقابل عمل‘ قرار دے دیا اور کہا کہ یہ ایکٹ چھ ماہ میں نافذ ہونے کے بعد ملک میں اپنی سرچ سے کینیڈا کی خبروں کے لنکس کو ہٹا دے گا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اسوقت ان کے تقریباً 150 سے زیادہ کینیڈا کے خبر رساں اداروں کے ساتھ معاہدے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اس کی ٹریفک نے نیوز ویب سائٹس کو سالانہ ڈھائی سو ملین کنیڈین ڈالر کمانے میں مدد کی ہے۔

کمپنی نے ادائیگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم مزید کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ہم اسے اس طریقے سے نہیں کر سکتے جس سے ویب اور سرچ انجن کے کام کرنے کے طریقے متاثر ہوں اور مالی اعتبار سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

اس ماہ قانون کے منظور ہونے سے پہلے، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹیک فرمز کی طرف سے خبروں کو بلیک آوٹ کرنے کی ان دھمکیوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل جون میں ان کا کہنا تھا ’حقیقت یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کمپنیاں ادائیگیوں میں منصفانہ حصہ ادا کرنے کے بجائے مقامی خبروں تک کینیڈا کے باشندوں کی رسائی منقطع کر دیں گی۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہےاور اب وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں لیکن یہ کارگر نہیں ہو گا۔

ٹیک انڈسٹری کی تنظیموں نے اس کوشش کا موازنہ ’شیک ڈاؤن‘ سے کیا ہے لیکن لیواسور کہتے ہیں کہ میڈیا میں کوئی بھی اس کا حل نہیں ڈھونڈ رہا۔

ان کےمطابق ’ہم منصفانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا موقع مانگ رہے ہیں تاہم ان کی اجارہ داری کے باعث ایسا ہو نہیں پا رہا۔

تو پھر آخر یہ تنازعہ کیوں کر حل ہو پائے گا

سینٹر فار جرنلزم اینڈ لبرٹی کی ڈائریکٹر کورٹنی راڈش کا کہنا ہے کہ زیرِ بحث رقوم ہر سال ٹیک کمپنیوں کی طرف سے بنائے گئے دسیوں بلین ڈالر کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن یہی رقم صحافت کے لیے نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ گوگل اور فیس بک کو ان خبروں کے لیے ادائیگی کرنی چاہیے جو وہ اپنے پلیٹ فارم پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کے طور پر صحافت کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

کینیڈا نے اپنے اصول کو اس اقدام کے مطابق بنایا جسے آسٹریلیا نے 2021 میں منظور کیا تھا۔ اس قانون نے اسی طرح کے اعتراضات اور مخالفت کو جنم دیا تھا جس نے میٹا کو وہاں پابندی عائد کرنے پر اکسایا۔

تاہم بل میں بعض تبدیلیوں کے بعد دونوں کمپنیوں کے پبلشرز کے ساتھ تقریبا 30 سے زیادہ سودے طے پائے جن کی مالیت 130 ملین ڈالر سے زیادہ کی تھی۔

اس قانون کو تیار کرنے والی آسٹریلیا کی مسابقتی ایجنسی کی قیادت کرنے والے ماہر اقتصادیات روڈنی سمز کا دعویٰ ہے کہ کمپنیاں اس بار بھی ایسا ہی کریں گی باوجود اس کے کہ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ پلیٹ فارم کو خبروں سے ذیادہ صارفین کے ذاتی مواد کے لیے مفید بنا رہے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’فیس بک کو یہ معاملہ زیادہ پسند نہیں لیکن خبروں کی غیر موجودگی میں سرچ فیچر موثر نہیں ہو سکتا اور میرے خیال میں فیس بک کو جلد پتہ چل جائے گا کہ خبروں کے بغیر آپ کو فیس بک فیڈ دینا بہت مشکل کام ہو گا۔ خبروں سے ہی ان کی سروس مکمل ہوتی ہے۔

گوگل، میٹا، ایپل اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ لائسنسنگ کے معاہدے کرنے والی فرم گلوب اینڈ میل کے چیف ایگزیکٹیو فلپ کرولی، نے سرچ (تلاش) کے لیے موجود وسیع تر تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا مثلاً چیٹ جی پی ٹی اور چیٹ بوٹ جو صارفین کے سوالات پر انھیں لنکس فراہم کرنے کے بجائے خود جواب دیتے ہیں۔

فلپ کرولی نے اس بل کی حمایت میں بات کرتے ہوئے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ کینیڈا کے براڈکاسٹ ریگولیٹر کو دی گئی بعض طاقتوں سے پریس کی آزادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دنیا ایک مختلف جگہ پر ہے لہذا مجھے نہیں لگتا کہ آسٹریلیا میں ماڈل ایسا ہے کہ ہمیں اس سے اب بہت زیادہ رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ وہ تب تھا اور اب یہ ہے۔

اب آپ ایک دن میں کتنے ٹویٹ دیکھ سکتے ہیں؟

 

ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹوئٹر پر صارفین دن میں کتنے ٹویٹ پڑھ سکتے ہیں، اس کی ایک عارضی حد مقرر کی گئی ہے۔

انھوں نے اپنے ہی ٹویٹ میں بتایا کہ غیر مصدقہ اکاؤنٹ اب سے دن میں صرف ایک ہزار پوسٹیں پڑھ سکیں گے۔ جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹس کے لیے یہ حد 500 ہوگی

البتہ فیس دے کر بلیو ٹک حاصل کرنے والے مصدقہ اکاؤنٹس دن میں 10 ہزار ٹویٹ پڑھ سکیں گے۔

 ٹوئٹر کے مالک نے ابتدائی طور پر ان حدود کو سخت رکھا مگر اعلان کے کچھ دیر بعد ان میں رد و بدل کیا۔

 وہ کہتے ہیں کہ عارضی حد بندی کا مقصد ’ڈیٹا سکریپنگ (کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ویب سائٹ سے معلومات لینا) اور سسٹم مینی پولیشن (نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) کی انتہائی بلند سطح‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔

 انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے کس سیاق و سباق میں سسٹم مینی پولیشن کا ذکر کیا ہے۔

ایلون مسک نے جمعے کو کہا کہ ’ڈیٹا کی چوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ عام صارفین کے لیے بھی سروس خراب ہونے لگی تھی۔‘ اس دوران صارفین سے ٹوئٹر کا مواد دیکھنے کے لیے دوبارہ لاگ ان کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

 

اس اقدام کو ’عارضی ہنگامی اقدام‘ کہا گیا ہے۔

 

یہ واضح نہیں کہ ڈیٹا سکریپنگ سے مسک کا کیا مطلب ہے تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیاں اپنے نظام یا لینگویج ماڈل کو بہتر کرنے کے لیے معلومات جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی معلومات کے ذریعے اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور گوگل بارڈ جیسے چیٹ باٹ کام کر پاتے ہیں۔

 

عام الفاظ میں ڈیٹا سکریپنگ سے مراد ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنا۔ بڑے لینگویج ماڈل کو مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے اصل انسانوں کی گفتگو سے سیکھنا پڑتا ہے۔

 

لیکن کسی چیٹ باٹ کی کامیابی کا راز اس کے معیار میں ہے۔ ریڈ اِٹ اور ٹوئٹر کے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ انھی وسائل سے اے آئی کمپنیاں اپنی سروسز کو بہتر بناتی ہیں

 

مگر ٹوئٹر اور ریڈ اِٹ جیسے پلیٹ فارم چاہتے ہیں کہ انھیں اس ڈیٹا کے بدلے ادائیگی کی جائے۔

 

اپریل میں ریڈ اِٹ کے سربراہ سٹیو ہفمین نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے اقدام سے ناخوش ہیں۔ ’ریڈ اِٹ کا ڈیٹا بہت قیمتی ہے۔ لیکن ہم یہ قیمتی ڈیٹا دنیا کی بڑی کمپنیوں کو مفت میں نہیں دینا چاہتے۔

 

اپنی سروس اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) تک رسائی کے لیے ٹوئٹر نے پہلے ہی صارفین سے رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کوئی ایپ، محقق یا اے آئی کمپنی ٹوئٹر کے مواد سے متعلق معلومات لے سکتی ہے۔

 

 

اس اقدام کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

 

مسک لوگوں کو ٹوئٹر بلیو میں شمولیت کا کہہ رہے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی وہ سروس ہے جس میں پیسے دے کر ایک شخص بلیو ٹک اور مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا ماڈل لا رہے ہوں جس میں ٹوئٹر کی مکمل سروس کے لیے صارفین کو پیسے دینا پڑیں اور اسی صورت انھیں لامحدود پوسٹوں تک رسائی مل سکے۔

 

مسک کے آنے سے قبل ٹوئٹر کا بلیو ٹک صرف معروف شخصیات کو مل پاتا تھا۔ اب محض آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا صارف کی پروفائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

ویب سائٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ٹول ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق برطانیہ اور امریکہ میں سنیچر کو ٹوئٹر تک رسائی میں ہزاروں صارفین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اس سے قبل مسک نے اعلان کیا تھا کہ مصدقہ اکاؤنٹ دن میں چھ ہزار، غیر مصدقہ 600 جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹ دن کی 300 پوسٹیں ہی دیکھ سکیں گے۔ مگر پھر مسک نے یہ حدیں بڑھا دیں۔

 

مسک کا خیال ہے کہ سینکڑوں ادارے ٹوئٹر کا ڈیٹا انتہائی تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر اس کا بوجھ ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اچانک بہت زیادہ سرورز کا بندوبست کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سرور اس بڑے کمپیوٹر کو کہا جاتا ہے جہاں صارفین کی فائل اور ویب پیج محفوظ ہوتے ہیں۔

 

برطانوی ماہر ایڈم لیون سمتھ نے کہا کہ یہ اقدام ’کافی غیر معمولی‘ ہے کیونکہ صارفین کی مواد تک رسائی محدود ہونے سے کمپنی کی اشتہاروں سے ہونے والی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔

 

مسک نے گذشتہ سال 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کو خرید لیا تھا۔ وہ سابقہ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

 

انھوں نے آتے ہی قریب آٹھ ہزار کے عملے کو کم کر کے 1500 کر دیا تھا۔ . کو دیے انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ عملے کو نوکریوں سے نکالنا آسان نہیں تھا۔

 

ٹوئٹر کے کئی انجینیئروں کو فارغ کیا گیا جس نے پلیٹ فارم کے موجودہ استحکام پر سوال اٹھائے ہوئے ہیں۔

 

اگرچہ مسک نے اس کے نظام میں خامیوں کو تسلیم کیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ٹوئٹر کی بندشیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہیں اور اب ویب سائٹ صحیح کام کر رہی ہے۔

UAE Freelancers Visa


 


 

 

 

Are you a freelancer looking for a UAE Visa? Those seeking virtual work residence visas will greatly benefit from the announcement made by the Federal Authority for Identity, Citizenship, Customs, and Port Security (ICP) in the UAE. Freelancers who are interested in applying for the visa will no longer be required to be physically present in the UAE during the application process. They can easily apply online.

 With this new change, those who wish to work remotely from the UAE can now complete the application process from their current location. This visa (virtual work residence) is only valid for one year (365 days) and can be renewed further under the revised terms and conditions of the visa by the UAE Government.

For visa applications, individuals can use the ICP’s website or the smart application (UAEICP). After the visa is approved, the applicant must enter the UAE within 60 days to complete the residence visa application process. In case of failure to enter UAE within the permitted timeframe, the permit will come invalid.

 The virtual work residence visa is only available to applicants who hold a passport with a minimum validity of six months, have a recent photograph, and have a valid health insurance policy.

 However, to be eligible, the freelancer needs to provide a bank statement showing an earning of a minimum of Dh360,000 for the last two years or the equivalent amount earned in any other currency. An applicant must also provide a salary slip from the previous month and three months’ worth of bank statements.

If an applicant does not meet the requirements, their application is declined automatically online after 30 days. It is important to note that the fee and financial guarantees are refundable if the request is declined by the ICP, in case the application is returned thrice for the same reason.

The fee for the virtual working program is AED350 per person. All applicants will receive the entry permit and all details in their email.

 The new policy provides advantages for both employees and companies, as it allows individuals to be in control of the work they take up and companies to avoid the risks of retaining employees.

 The minister stated that this would lead to an increase in productivity in the labor market, making individuals more valuable in the workforce. The introduction of the flexible work permit is expected to create up to 24,000 job opportunities by 2024, with businesses attracting and retaining a more diverse workforce.

 The UAE aims to support this trend and attract a more diverse workforce and capital by having a supportive legal framework.

You can apply for UAE Freelance VISA here.

ٹک ٹاک پر پابندی لگانے والی پہلی امریکی ریاست




 مونٹانا

امریکہ کی ریاست مونٹانا کے گورنر گریک جین فورٹے نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد مونٹانا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں اس ویڈیو ایپ کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

اس قانون کے بعد مونٹانا میں گوگل اور ایپل کے ایپ اسٹورز کے لیے یہ غیر قانونی ہوگا کہ وہ اس کی حدود میں ٹک ٹاک ایپ کی پیش کش کریں۔

اس پابندی کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔

ٹک ٹاک کے 15 کروڑ امریکی صارفین ہیں لیکن امریکی قانون سازوں اور ریاستی حکام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اس پلیٹ فارم پر چینی حکومت کے ممکنہ اثرورسوخ کے خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مارچ میں کانگریس کی ایک کمیٹی نے ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شاؤ زی چیو سے اس بارے میں سوال جواب کیے تھے کہ آیا چینی حکومت صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہے یا ایپ پر امریکی جو دیکھتے ہیں اس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

مونٹانا کے ری پبلکن گورنرگریک جین فورٹے نے کہا کہ یہ بل مونٹانا کے شہریوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی سے بچانے کی ہماری مشترکہ ترجیح کو مزید آگے بڑھائے گا۔

دوسری جانب ٹک ٹاک کی مالک کمپنی 'بائیٹ ڈانس' نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بل ٹک ٹاک پر غیرقانونی طور پر پابندی لگا کر مونٹانا کے لوگوں کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ مونٹانا کے اندر اور باہر اپنے صارفین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

کمپنی پہلے ہی چینی حکومت کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کرچکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ اگر اس سے ایسا کہا بھی گیا تو وہ نہیں کرے گی۔

دس لاکھ سے زیادہ آبادی والی ریاست مونٹانا کا کہنا ہے کہ ہر خلاف ورزی پر ٹک ٹاک کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ اگر اس نے پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے 10 ہزار ڈالر یومیہ اضافی جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایپل اور گوگل بھی پابندی کی خلاف ورزی پر 10 ہزار ڈالر یومیہ جرمانے کا سامنا کرسکتی ہیں۔

دوسری جانب اس پابندی کو ممکنہ طور پر متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ یہ صارفین کے آزادانہ اظہارِ رائے کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2020 میں محکمۂ تجارت کے ایک حکم کے ذریعے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی کی کوشش کی تھی جسے متعدد عدالتوں نے روک دیا تھا اور یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا تھا۔


کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

اب آپ انسٹاگرام صارفین پر ڈیسک ٹاپ سے بھی پوسٹ تخلیق کر سکیں گے

 



انسٹاگرام کے بہت سے فیچرز صرف موبائل فون پر ہی استعمال ہو سکتے ہیں، ان میں سب سے اہم فیچر پوسٹ تخلیق کرنا اور پوسٹ ایڈٹ کرنا بھی ہے۔ تاہم بہت سے انسٹاگرام صارفین اب ڈیسک ٹاپ سے بھی انسٹاگرام کی سائٹ کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ اسی وجہ اب انسٹاگرام ڈیسک ٹاپ سے بھی صارفین کو پوسٹ تخلیق کرنے اور پوسٹ ایڈٹ کرنے کی سہولت دےگا

س حوالے سے ایک مخبر نے ٹوئٹر پر چند تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ انسٹاگرام صارفین کس طرح سے ڈیسک ٹاپ سے پوسٹ تخلیق کر سکیں گے۔

صارفین تصاویر یا ویڈیو کو ڈریگ اینڈ ڈراپ سے انسٹاگرام سائٹ پر اپ لوڈ کریں گے اور پھر فلٹر شامل کر کے  اس پوسٹ کر سکیں گے۔ صارفین اپنی  پوسٹ  کو  لوکیشن اور لوگوں کو ٹیگ بھی کر سکیں گے۔ ڈیسک ٹاپ پر پوسٹ تخلیق کرنے کا انٹرفیس بھی بالکل ایپلی کیشن جیسا ہی ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ فیچر کب تک صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے

واٹس ایپ پر بھیجی جانے والی تصویر یا ویڈیو ایک بار دیکھنے پر ازخود غائب ہوجائیں‌ گ

 



یغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک اور زبردست فیچر متعارف کرادیا۔

واٹس ایپ کی جانب سے دنیا بھر کے دو ارب سے زائد صارفین کے لیے آئے روز نت نئے اور دلچسپ فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں، جس کا مقصد صارفین کو بہتر اور اچھی سہولت فراہم کرنا ہے۔

واٹس ایپ نے رواں سال کے تیسرے ماہ میں پیغامات از خود غائب ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کوئی بھی پیغام صارف کے پاس 7 روز بعد از خود غائب ہوجائے گا

اس فیچر کے بعد واٹس ایپ کے صارف کی جانب سے دوست کو بھیجی جانے والی ویڈیو یا تصویر ایک بار دیکھنے کے بعد خود بہ خود غائب ہوجائے گی اور یہ ماضی کی طرح گیلری میں محفوظ نہیں ہوگی۔

فیس بک کی زیرملکیت کمپنی واٹس ایپ نے بتایا کہ اس فیچر کا مقصد صارفین کی جانب سے بھیجی جانے والی حساس معلومات کو تحفظ فراہم کرنا ہے

واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر رواں ہفتے کے اختتام تک دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا

فیس بک اور انسٹاگرام پر خصوصی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ایک ارب ڈالر مختص


 فیس بک ایک پروگرام تشکیل دے رہا ہے جس کے تحت 2022 کے آخر تک ان تخلیق کاروں کو دینے کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے، جو فیس بک اور انسٹاگرام کے پلیٹ فارمز کے لیے خصوصی مواد تخلیق کریں گے۔

مارک زکربرگ نے مزید لکھا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فیس بک کو "لاکھوں تخلیق کاروں کے روزگار کا بہترین پلیٹ فارم" بنانا ہے۔

فیس بک کی جانب سے یہ اقدام انفلوئینسرز، یعنی انسٹاگرام اور فیس بک پر ہزاروں یا لاکھوں کی تعداد میں فالورز رکھنے والے صارفین کے لیے ہے یا پھر ان مشہور شخصیات کے لیے ہوگا جو اپنے سوشل نیٹ ورک کے ذریعے دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ادارے کی جانب سے ایسے افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کی وسیع تر کاوشوں کا ایک حصہ ہوگا۔

سوشل نیٹ ورک نے کہا ہے کہ ایک بلین ڈالر کی رقم کو ہر قسم کے تخلیق کاروں کے لئے مختص کیا جائے گا، خاص کر وہ جو فیس بک پر اصل مواد ڈالتے ہیں۔

فیس بک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ انفلوئینسرز فیس بک اور انسٹاگرام کی مخصوص خصوصیات کا استعمال کرکے یا کچھ سنگ میل طے کرکے رقم کما سکیں گے۔ مثال کے طور پر انسٹاگرام پر موجود فیچر ریئلز پر مقبول ویڈیوز بنانے اور آئی جی ٹی وی ویڈیوز پر اشتہارات چلانے پر معاوضہ مل سکتا ہے اس کے علاوہ تخلیق کار مستقل بنیاد پر لائیو سٹریم کرکے بھی نقد رقم کما سکتے ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ رقم تخلیق کاروں کو صرف انویٹیشن، یعنی کمپنی کی جانب سے خصوصی دعوت نامے کی بنیاد پر دستیاب ہوگی، جب کہ پیسہ کمانے کے مزید آپشنز کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ سال کے آخر میں مزید تخلیق کاروں تک رسائی یقینی بنائے گا۔

سوشل نیٹ ورکس کی جانب سے تخلیق کاروں کو براہ راست ادائیگی ایک عام طریقہ کار بنتی جا رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ جیسی ایپس نے تخلیق کاروں کو اپنے پلیٹ فارم پر وائرل ویڈیوز شائع کرنے کے لئے بھرپور ادائیگی کی پیش کش کی ہے۔ نومبر میں سنیپ چیٹ نے ایپ کی اسپاٹ لائٹ فیچر پر پوسٹ کرنے والے تخلیق کاروں کو ایک دن میں 10 لاکھ ڈالر دینے شروع کر دیے تھے۔

وینچر کیپیٹل فرم سگنل فائر کی ایک رپورٹ کے مطابق، کم از کم دنیا بھر میں 50 ملین افراد خود کو کانٹنٹ کرئیٹر، یعنی تخلیق کار سمجھتے ہیں اور یہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا کاروبار بنتا جا رہا ہے۔

وہی ملازم دفتر میں داخل ہوسکیں گے،جو ویکسین لگوا چکے ہوں



  

کورونا وائرس کی انتہائی متعدی قسم، ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنوں گوگل اور فیس بک نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا کہ ان کمپنیوں کے امریکہ میں موجود ملازمین کو دفاتر میں داخل ہونے کے لئے کووڈ ویکسین لگوانا لازم ہوگا۔

آئندہ مہینوں کے دوران گوگل اپنی ویکسی نیشن مہم کو دوسرے ممالک میں بڑھانے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے بھی اپنی تمام پروڈکشنز کے امریکی اداکاروں اور عملے کے لئے ویکسین لگانے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا ہے۔

بلومبرگ نیوز نے خبر دی ہے کہ ایپل کمپنی اپنے امریکی اسٹورز پر خریداروں اور عملے کے لئے ماسک پہننے کی پالیسی کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، چاہے وہ کورونا وائرس کی ویکسین لگا چکے ہوں یا نہیں۔

ایپل اور نیٹ فلکس نے رائٹرز کی جانب سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مائیکروسافٹ کارپوریشن اور اوبر سمیت متعدد کمپنیوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے کیا جانے والا لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد ملازمین اپنے دفتروں میں واپس آجائیں گے۔

اپریل میں سیلز فورس کمپنی نے کہا کہ وہ ان ملازمین کو اپنے کچھ دفاتر میں واپس جانے کی اجازت دے گی، جو ویکسین لگوا چکے ہوں۔

گوگل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے پیش نظر 18 اکتوبر تک عالمی سطح پر گھر سے کام کرنے کی پالیسی برقرار رکھے گا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ، "ہم اعداد و شمار کو محتاط انداز سے دیکھنا جاری رکھیں گے اور دفتر میں واپسی سے متعلق ہمارے مکمل منصوبوں میں تبدیلی سے پہلے ملازمین کو کم از کم 30 دن پہلے آگاہ کریں گے۔"

امریکہ میں کئی ماہ تک کرونا وائرس کے سبب اموات اور اس وائرس کے ساتھ اسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح میں کمی آئی تھی۔ تاہم، گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیلٹا ویرینٹ کے سبب یہ رجحان تبدیل ہوا ہے اور کرونا کے کیسز کا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے، سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے تجویز دی ہے کہ ملک کے مخصوص حصوں میں جن لوگوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لے رکھی ہیں، ان کو بھی اس وقت ماسک پہننے کی ضرورت ہے جب وہ بند کمروں میں موجود ہوں


فالج کے مریضوں کے لیے بولنے والا آلہ ایجاد

 


فالج کا حملہ یا دماغی چوٹ انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔ جان بچ بھی جائے تو اکثر صورتوں میں چلنے پھرنے اور بعض واقعات میں مریض جسم کو حرکت دینے، کروٹ بدلنے اور حتیٰ کہ بولنے تک سے معذور ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے یہ جاننا بہت دشوار ہوتا ہے کہ مریض کیا سوچ رہا ہے اور کیا کہنا چاہتا ہے۔

اب سائنس دانوں اور طبی ماہرین نے اس مشکل کا ایک حل ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ ایک ایسا آلہ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو دماغ میں اٹھنے والی لہریں پڑھ کر انہیں کمپیوٹر کی سکرین پر اس انداز میں پیش کر دیتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ بولنے سے معذور فالج زدہ شخص کیا کہنا چاہتا ہے۔

اگرچہ اس سلسلے میں ابھی بہت سا کام کیا جانا باقی ہے جس پر برسوں لگ سکتے ہیں، لیکن اس حالیہ کامیابی نے دماغی چوٹ یا کسی بیماری کے سبب بولنے سے معذور شخص کا مافی الضمیر جاننے کا راستہ کھول دیا ہے۔

سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے نیورو سرجن ڈاکٹر ایڈورڈ چانگ کہتے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ ہم کتنی آسانی سے بات چیت کے ذریعے اپنا مقصد دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں؛ جب کہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کا مقام ہے کہ ہم ان لوگوں سے بات چیت کی جانب ایک قدم آگے بڑھانے میں کام یاب ہو گئے ہیں جو کسی وجہ سے بول نہیں سکتے۔

اس وقت تک جو لوگ بیماری، فالج یا دماغی چوٹ کے باعث بول یا لکھ نہیں سکتے، ان کے لیے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے ذرائع بہت ہی محدود ہیں

اس وقت ایسے افراد سے بول چال کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، وہ دشوار بھی ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف بہت کم ہوتی ہیں بلکہ اس میں وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جو مریض اپنے سر کو حرکت دینے کے قابل ہوتے ہیں، انہیں ایک ایسی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے جس پر ایک پنسل نما چیز لگی ہوتی ہے۔ اس کے سامنے ایک سکرین رکھی جاتی ہے جس پر حرف لکھے ہوتے ہیں۔ وہ سر کو جنبش دے کر حروف کی جانب اشارہ کرتا ہے جس سے دیکھ بھال کرنے والوں کو پتا چل جاتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔

ایسے مریض جو اپنا سر ہلانے کے بھی قابل نہیں ہوتے، ان کے لیے ایک دوسری قسم کا آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی ایک سکرین ہوتی ہے جو آنکھ کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتی ہے۔ مریض جس حرف پر اپنی نظر جماتا ہے، آلہ اسے نوٹ کر لیتا ہے۔

سائنس دان بول چال اور حرکت کرنے سے معذور افراد کی مشکلات حل کرنے کے لیے بہت عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے ربوٹک بازو بنائے اور مریضوں کو لگائے بھی جا رہے ہیں جو دماغ کی لہروں پر کام کرتے ہیں۔ جیسے فالج زدہ مریض جب یہ سوچتا ہے کہ مجھے یہ کپ اٹھانا ہے تو روبوٹک بازو حرکت میں آتا ہے اور کپ اٹھا لیتا ہے۔

لیکن ڈاکٹر چانگ کی ٹیم نے ایک بالکل مختلف آلہ تیار کیا ہے۔ اس کا کام مریض کے دماغ میں ابھرنے والے لفظوں کو سکرین پر عبارت کی شکل میں پیش کرنا ہے جسے پڑھ کر دوسرے لوگ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں

ڈاکٹرچانگ کا آلہ بولنے کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ جب ہم کوئی لفظ بولنا چاہتے ہیں تو ہمارے دماغ کا وہ حصہ جس کا تعلق بولنے سے ہے، ہماری زبان، جبڑوں، ہونٹوں اور گلے کے اندر آواز پیدا کرنے والے اعصاب کو حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ہر لفظ کے لیے منہ کے یہ حصے اور اعصاب مختلف انداز میں حرکت کرتے ہیں جس سے مختلف آواز پیدا ہوتی ہے اور مختلف لفظ بنتے ہیں۔ ڈاکٹر چانگ کا آلہ دماغ کے اس حکم کی لہروں کو ریکارڈ کر کے لفظوں کی شکل میں سکرین پر پیش کر دیتا ہے۔

اس آلے کا پہلا تجربہ جس رضاکار پر کیا گیا، اس کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ 15 سال سے فالج کی وجہ سے حرکت کرنے اور بولنے سے معذور تھا۔ سائنس دانوں کی ٹیم نے اس کے دماغ کے اس حصے کی سطح پر تاریں نصب کر دیں جس کا تعلق بول چال سے ہے۔

پھر اسے ایسے 50 لفظ دماغ میں دوہرانے کے لیے کہا گیا جو ہماری روزمرہ بول چال میں استعمال ہوتے ہیں اور جن کی مدد سے ایک ہزار سے زیادہ ایسے جملے بن جاتے ہیں جو ہم عمومی طور پر بولتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی، اچھا، چائے وغیرہ۔

جب رضاکار نے ان لفظوں کو دوہرایا تو آلے نے دماغ کی لہروں کے انداز کو اس لفظ کے ساتھ اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیا۔ یاداشت کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد جب بھی رضاکار نے ان میں سے کوئی بھی لفظ سوچا ، آلے نے اپنی سکرین پر پیش کر دیا۔

ڈاکٹر چانگ کے پراجیکٹ کے ایک رکن اور انجنیئر ڈیوڈ موسز نے بتایا کہ فی الحال رضاکار کے سوچنے اور اس لفظ کو سکرین پر نمودار ہونے میں تین سے چار سیکنڈ لگتے ہیں، جو بظاہر زیادہ وقت ہے، لیکن جیسے جیسے ہم اپنے آلے کی یاداشت اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے، یہ وقت بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا۔

ڈاکٹر چانگ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کا ایجاد کردہ آلہ مریض کی سوچ کو لفظوں کی شکل میں سکرین پر پیش کرتا ہے، لیکن وہ دن دور نہیں جب وہ لکھنے کی بجائے بول کر بتایا کرے گ


فیس بک اور مذہبی طبقات تک رسائی

 





دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو صارفین کی مزید توجہ چاہئے ۔ فیس بک نے حال ہی میں امریکہ میں رہنے والے فیس بک صارفین کے لئے مذہبی رہنماؤں کی مدد کے لیے ایک نیا ٹول یا سہولت متعارف کروائی ہے، جس کا مقصد مذہب اور عقائد کی بنیاد پر قائم کمیونٹیز تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

میڈیا کو اس بارے میں جاری کی گئی معلومات کے مطابق، فیس بک عبادت گزاروں کو ایک اہم ترین صارف کمیونٹی سمجھتا ہے، جو فیس بک کے لئے انگیجمنٹ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
2017 کے اوائل میں، فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے ایک طویل دستاویز میں گرجا گھروں کو دنیا کو جوڑنے کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا تھا۔ اور زکر برگ کی کمپنی نے ایک ایسی ٹیم تشکیل دی، جس کے ذمے فیتھ پارٹنرشپ یعنی "عقائد پر مبنی شراکت داری" کا کام لگایا گیا۔


فیس بک کی 'فیتھ پارٹنرشپ' کے سربراہ، نونا جونز نے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کوویڈ کے باعث اس کوشش کو فوری عمل میں لانے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اجتماعات پر پابندیوں کے باعث پوری دنیا میں مذہبی رہنماؤں کو اپنے پیروکاروں سے جڑے رہنے میں غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جونز نے، جو فلوریڈا میں ایک پادری بھی ہیں، بتایا کہ کمپنی کی طرف سے وبائی امراض کے دوران دوسروں سے دعا کروانے کے لئے لوگوں کی درخواستوں میں اضافہ ہونے کے بعد اس سلسلے میں ایک سہولت متعارف کرانے کا خیال آیا۔

جس کے بعد گزشتہ ماہ کمپنی نے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ پہلا اجلاس منعقد کروایا۔

اس اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر شیریل سینڈبرگ نے ایک ایسے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا، جہاں مذہبی قائدین اور ان کے پیروکاروں کو ورچوئل رئیلیٹی ٹولز کے ذریعے آپس میں منسلک کیا جا سکے۔

فیس بک نے اس ٹول کو، جس کی جانچ وہ مئی کے آخر میں مختلف عقائد پر مبنی گروپس کے ساتھ کر رہا تھا، اب تمام امریکی فیس بک گروپوں کی رسائی کے لئے کھول دیا ہے۔

رائٹرز کے ذریعے دکھائے گئے ایک نجی گروپ میں، ایک خاتون اس فیس بک ٹول کا استعمال کرتے ہوئے کرونا وائرس میں مبتلا اپنی ایک قریبی رشتے دار کی صحت یابی کے لئے دعاؤں کی درخواست کر رہی تھی۔ جب کہ دوسرے کئی لوگوں نے اس ٹول کو استعمال میں لاتے ہوئے 'بیٹی کے ٹوٹے ہوئے دل'، بیٹے کے ڈرائیونگ ٹیسٹ اور انشورنس کمپنی کے ساتھ درپیش مسائل کے حل کے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔

گروپ میں موجود لوگ ایک بٹن پر کلک کرکے جواب دے سکتے ہیں کہ "میں نے دعا کی"، اور ان کے نام دعا کرنے والوں میں شمار کر لیے جاتے ہیں۔

صارفین اگلے دن دوبارہ دعا کی درخواست کرنے کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔

ایک جانب جہاں بہت سے مذہبی رہنماؤں نے رائٹرز سے اپنی گفتگو میں اپنے پیروکاروں سے منسلک کرنے کے لیے فیس بک کے اس نئے ٹول کا خیرمقدم کیا ہے تو دوسری جانب کچھ صارفین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے رازداری متاثر ہو گی اور ان کی روحانی سرگرمیوں کے آن لائن استحصال کا خدشہ ہے۔

کچھ مذہبی رہنماؤں اور گروپ ارکان نے کہا کہ جس طرح فیس بک نے کرونا وائرس کی پابندیوں کے دور میں دعاؤں کا ٹول متعارف کرایا ہے، وہ اپنی برداریوں کو ہدف بنانے والی زیادتیوں کے تدارک سے متعلق بھی اسی طرح کا ٹول لائے جانے کے خواہش مند ہیں

انسان کے آسمان سے زمین پر بھیجے جانے کے سائنسی دلائل

انسان کے آسمان سے زمین پر بھیجے جانے کے سائنسی دلائل

(نظریہ ارتقاء کو ایک اور سائنسی جھٹکا)
شروع ہی سے کئ سائنسدانوں کو نظریہ ارتقاء کی صحت اور اسکی سچائ پر شک تھا۔یہی وجہ ہے کہ نظریہ ارتقاء کے پیش کیے جانے سے اب تک کئ سائنسدانوں نے اس نطریے کو ماننے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا اور ہے کہ زمین پر انسان اور زندگی ارتقا پذیر نہیں ہوئ بلکہ اپنی خاص حالت میں تخلیق کی گئ۔حال ہی میں انسان کے بن مانس جیسے کسی جاندار سے ارتقا کے نظریے پر سائنسدانوں نے مزید سوال اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انسان زمین پر ارتقاء پذیر نہیں ہوا بلکہ کسی اور سیارے یا خلا سے زمین پر بھیجا گیا جیسا کہ مذہب کا تصور ہے کہ اللٰہ تعالٰی نے آدم و حوا علیہ السلام کو جنت سے زمین پر بھیجا۔
ایک امریکی ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ انسان کی کمر کے نقائص،سورج کی روشنی سے جلد پر پڑنے والے زخم یا Sun burns ظاہر کرتے ہیں کہ انسان زمین پر ارتقاء پذیر نہیں ہوا۔اس امریکی ماہر ماحولیات کا نام ڈاکٹر ایلس سلور۔۔۔۔Dr Ellis Silver....ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی خلائ مخلوق نے آج سے اندازہ ایک لاکھ سال پہلے انسان کو آسمان سے زمین پر اتارا۔۔۔جیسا کہ مذہب کا تصور ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ایلس سلور خود ارتقا کے حامی ہیں لیکن وہ انسان کے بارے میں خود کہ رہے ہیں کہ انسان زمین پر ارتقاء پذیر نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ کائنات میں زمین کی حیثیت ایک قیدی سیارے کی ہے۔چونکہ انسان ایک تندخو مخلوق ہے لہذا اسے اس کی اصلاح کے لیے یہاں رکھا گیا ہے۔
اس پر ایلس سلور نے ایک پوری کتاب لکھی ہے جس کا نام Humans are not from earth ہے۔اس کتاب کو ایمیزون نے شائع کیا ہے۔ڈاکٹر ایلس سلور ماہر ماحولیات ہیں اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انسان کی کمر کی کمزوری اور کمر کے نقائص ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کسی کم کشش ثقل یا گریویٹی والی جگہ پر پیدا ہوا لیکن زمین پر ارتقاء پذیر نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ سورج کی روشنی سے جلد پر پڑنے والے زخم اور بچے کی پیدائش میں ہونے والی تکلیف ،پرانی بیماریاں،قدرتی خوراک کی ناپسندیدگی اس بات کے مزید دلائل ہیں۔اس بارے میں ان کی کتاب کا پورا نام HUMANS ARE NOT FROM EARTH: A SCIENTIFIC EVALUATION OF THE EVIDENCE ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں پائے جانے والے یہ نقائص انسان کے زمینی مخلوق ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
مزید ان کا کہنا ہے کہ انسان نشوونما کے اعتبار سے زمین کی اعلٰی ترین مخلوق ہے لیکن یہ مکمل طور پر زمین کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ انسان کے بچے کا پیدائش کے وقت سر بڑا ہوتا ہے جس سے پیدائش کا عمل مشکل ہوجاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ خاصیت ہے جو زمین پر اور جانوروں میں نہیں پائی جاتی۔
ان کا کہنا ہے کہ انسان کو زمین کے ماحول کے مطابق بنایا ہی نہیں گیا جیسا کہ دوسرے جانور ہیں۔وہ دوسرے جانوروں جیسا کہ سوسمار یا لیزرڈ کے برعکس ایک سے دو دن سے زیادہ دھوپ برداشت نہیں کر سکتا۔
مزید ان کا کہنا ہے کہ انسان اکثر بیمار رہتا ہے کیونکہ اس کی جسمانی ساخت صرف پچیس گھنٹے کے حیاتیاتی دورانیے۔۔۔بیالوجیکل کلاک۔۔۔کے مطابق بنی ہے جیسا کہ نیند پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے۔
دوسرے سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کا وراثتی مادہ یا ڈی این اے زمین سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ کسی اور سیارے یا خلا سے آیا ہے جیسا کہ مذہب کا تصور ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ انسان کسی کہکشاں پر پیدا ہوا اور آج سے چار ارب سال پہلے کسی دمدار ستارے کے ذریعے زمین پر اتارا گیا۔جیسا کہ مذہب کا تصور ہے کہ آدم و حوا کو جنت سے زمین پر اتارا گیا۔
سائنسی نظریہ جس کے مطابق انسانی وراثتی مادہ یا ڈی این اے خلا یا کسی اور سیارے سے تعلق رکھتا ہے،پین سپرمیا۔۔۔۔Panspermia.....کہلاتا ہے۔یہ نظریہ 1871ء میں پیش کیا گیا اور جدید تحقیقات نے اس کو مزید پختگی دی ہے۔
Dailymail.co.uk کی رپوٹ کے مطابق ابھی تک اس کی براہ راست کوئ گواہی نہیں پای گئ لیکن یہ نظریہ اب حقیقی سائنس سے اتنا دور نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پیٹر وارڈ۔۔۔۔Peter Ward....کے مطابق ہو سکتا ہے کہ انسان زمین پر ارتقاء پذیر ہونے کی بجائے مریخ پر پیدا ہوا۔
کافی سارے سائنسدانوں نے آج سے 8•3بلین سال پہلے زندگی کے زمین پر اچانک شروع ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔کچھ سائنسدانوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ پوری ملکی وے کہکشاں پر زندگی موجود ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف بوکنگھم کے حیاتیاتی فلکیات دان۔۔۔آسٹرو بیالوجسٹ۔۔چندرا وکراما سنگھ۔۔۔Chandra Wikramasinghe کے مطابق زمین لمبا عرصہ دوسرے سیاروں سے نامیاتی و حیاتیاتی مادے کا تبادلہ کرتی رہی ہے۔جیسا کہ مذہب کا تصور ہے کہ آدم کی تخلیق کے لیے زمین سے مٹی لی گئی۔اس نے کئ ایسے سائنسی آرٹیکل پبلش کیے ہیں جس کے مطابق دمدار ستاروں میں خلائ جانداروں کے فوسل اور الجی کی طرح کے جاندار پائے گئے ہیں جو کہ خلا سے زمین پر ان کے ذریعے لائے گئے۔پروفیسر وکرام سنگھ کا کہنا ہے کہ پہلے یہ ایک نظریہ تھا بس لیکن اب ہمارے پاس اس کی سائنسی دلیل موجود ہے۔اس کا کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ بات ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
ناسا اور یورپین سپیس ایجنسی اس بات پر تحقیق کا اردہ رکھتے ہیں کہ کس طرح زندگی خلا یا کسی اور سیارے سے زمین پر لائ گئی۔
آج کل کئ سائنسدان اس بات پر تحقیق میں مصروف ہیں کہ انسان زمین پر ارتقاء پذیر نہیں ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت انسان کا بچہ ماحول اور زمین سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ان کا کہنا ہے کہ اس۔ حوالے سے انسان بن مانس اور گوریلا سے بھی بہت مختلف ہے جن کے بچے آٹھ سے دس سال کی عمر میں مکمل جوان ہوجاتے ہیں۔مزید ان کا کہنا ہے کہ اگر زمین کی کشش ثقل یا گریویٹی موجودہ حالت سے 6•0 جتنی ہوتی تو کرے اور بلی کی طرح انسان کو بھی گرنے سے چوٹ نہ لگتی۔لیکن ایک انسان کا بچہ جو نیا نیا پیدا ہوتا ہے وہ اس کشش ثقل کی وجہ سے روتا چیختا چلاتا ہے جو اس کے جسم میں درد کا احساس پیدا کرتی ہے۔
1972ء میں غاروں کے علوم کے ماہر ۔۔۔۔Peleologist..ایک فرانسیسی مائیکل سیفر۔۔۔Ciffre...نے زمین کے نیچے چھ ماہ گزارے اور اپنے آپ کو دنیا سے بالکل قطع تعلق کر لیا۔اس دوران اس نے اپنے تجربات کا سارا ریکارڈ رکھا۔اسے غار میں اپنے قیام کا 179 واں دن 151 دن لگا۔جس کا مطلب تھا کہ اس نے پورا ایک شمسی نہیں کھو دیا۔اس پر یہ گمان کیا گیا کہ اس کا حیاتیاتی دورانیہ یا بیالوجیکل کلاک زمین کے دن رات کی بجائے کسی اور سیارے سے مطابقت رکھتا تھا۔
انسان واحد زمینی جاندار ہے جس کو سورج کی شعاعوں سے حفاظت نہیں دی گئی۔نہ ہی اس مقصد کے لیے اس کے جسم میں پای جانے والی چکنائ یا فیٹ کی تہہ موٹی ہے۔
1984ء میں سائنسدانوں نے انسانی ڈی این اے پر تحقیق سے دریافت کیا کہ دنیا کے سب انسانوں کی ایک مشترک ماں ہے جو آج سے تین لاکھ پچاس ہزار سال پہلے زندہ تھی لیکن زمین پر انسانی آثار ایک لاکھ سال پرانے ہیں۔اس پر سائنسدان یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ باقی دو لاکھ پچاس ہزار سال انسان کسی اور سیارے پر مقیم گیا جیسا کہ مذہب کا تصور ہے کہ آدم و حوا علیہ السلام جنت میں رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ باقی دو لاکھ پچاس ہزار سال انسان جس سیارے پر رہا اس کی گریویٹی یا کشش ثقل زمین کی کشش کا نصف ہے اور اس کی محوری گردش کا دورانیہ تیس گھنٹے ہے۔اس سیارے کا محوری جھکاؤ زیرو تھا اس لیے اس سیارے پر موسم ہمیشہ ایک رہتا۔ وہاں کوئ برفانی یا گلیشیل دور نہیں آیا۔اس کا موسم معتدل تھا۔یہی وجہ ہے کہ انسان اسی سیارے کی خاصیت رکھتے ہیں اور زمین پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔
دنیا کے کچھ دیگر نامور سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کے لیے شروع میں دو عناصر نہیں تھے جو زندگی کے لیے لازمی ہیں۔یہ بات ویستھیمر انسٹٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنولوجی فلوریڈا امریکا کے نامور سائنسدان سٹیون بینر نے کی۔ان کا کہنا ہے کہ آر این اے کو زندگی کی تخلیق کی زمین پر ابتدا کا نظریہ نہیں مانا جا سکتا کیونکہ یہ پانی میں تحلیل ہوجاتا ہے۔اس طرح وہ خود زمین کے شروع میں گرم پانی و بالائے بنفشی شعاعوں سے زمین پر زندگی کے آغاز کے نظریے کی تردید کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آر این اے کی تخلیق کے لیے ایک عنصر بورون لازمی ہے اور یہ زمین پر شروع میں نہیں تھا جب کہ مریخ پر موجود تھا۔یہ بعد میں شہابیوں کے ذریعے زمین پر اترا۔بینر کا کہنا ہے کہ پری بائیوٹک گرم شوربے میں زندگی کے آغاز کا نظریہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ جب حیاتیاتی عناصر گرمی یا شعاعوں سے متاثر ہوتے ہیں تو یہ آر این اے بنانے کی بجائے ٹار میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب سائنسدانوں نے زمین پر زندگی کی ابتدا کے نظریے پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ نظریہ ارتقاء کم سے کم قابل اعتماد ہوتا جارہا ہے۔بینر کا کہنا ہے کہ زمین پر زندگی مریخ سے آئ۔اب ارتقا کو زمین کی بجائے مریخ پر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اب تک کی ساری تحقییق یہ بات ظاہر کر رہی ہے کہ زندگی زمین پر خود بخود پیدا ہونے کی۔ جائے زندگی کے لیے موزوں خلا میں کسی اور مقام پر پیدا ہوئ اور بعد میں اسے زمین پر اتارا گیا جیسا کہ مذہب کا تصور ہے۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے پروفیسر وینرائیٹ کا کہنا ہے کہ زمین پر پیدا نہ ہونے والی زندگی مسلسل خلا سے زمین پر اتر رہی ہے۔
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات کے ساتھ ساتھ نظریہ ارتقاء کم سے کم قابل اعتماد ہوتا جارہا ہے اور اب سائنسدان زندگی کی ابتدا کو زمین کی بجائے خلا یا کسی اور سیارے سے واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایلس سلور کے نظریے پر اعتراضات ھو سکتے ہیں لیکن یہ بحث ظاہر کر رہی ہے کہ سائنس دان ارتقا کی بجائے زندگی کے دوسرے نظریات پر غور کرنے لگے ہیں۔

یہ زمین سیارہ انسان کا نہیں ہے



یہ زمین سیارہ انسان کا نہیں ہے

ڈاکٹر ایلیس سِلور نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور آرکیالوجسٹ ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔

تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی۔ اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر زمین سیارے پر پھینک دیا گیا تھا ۔ جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا تھا ۔۔۔ لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔

نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔

نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔

نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔

نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے، یہ تمہارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے ، جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔ اچشھے اعمال پر تم کو وہ جنت ملے گی جہاں کی زندگی انتہائی خوبصورت پرسکون اور عیاشی سے بھرپور ہوگی ۔نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا جنت کہاں ہے تو آپ ﷺ نے جواب دیا آسمانوں میں۔۔ اس نے پوچھا جہنم کہاں ھے آپ ﷺ نے جواب دیا اسی زمین پر ۔۔۔