لیکن کیا انٹرنیٹ پر پیسے کمانا اتنا ہی آسان ہے؟

پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے انٹرنیٹ پر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص فوراً اس میں کامیاب ہوجائے۔

تاہم آمنہ پرامید ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ: ’ہمارے کام کرنے کی صلاحیت ایک وسیلہ ہے۔ پاکستان میں ایسے باصلاحیت لوگ موجود ہیں جو یہاں بیٹھے بیٹھے اپنے ہنر اور کام سے باہر کی دنیا سے پیسے کما سکتے ہیں۔‘

آمنہ کے مطابق پاکستانی لوگ اپنے ملک کے علاوہ پوری دنیا کے فری لانسرز سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت پر معیاری کام کریں تاکہ اپنی اچھی پروفائل بنا سکیں۔

’اچھے فری لانسر کے اندر صلاحیتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ سب سے منفرد کام پیش کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیٹ پر ان کی پروفائل مضبوط ہو جائے گی اور مختلف کلائنٹس ان سے بار بار کام لیں گی جو کہ پیسے کمانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا۔‘

دوسری طرف فری لانسرز کے مطابق پاکستان میں بیرون ممالک سے پیسوں کی ادائیگی کے بھی کچھ موجود مسائل ہیں کیونکہ پے پال کی سروس ملک میں تاحال متعارف نہیں کرائی گئی۔

تاہم فری لانسرز پیسے وصول کرنے کے لیے اس کے متبادل طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

شاہجہان نے بتایا کہ: ’اس وقت سب سے اہم مسئلہ ادائیگیوں کا ہے جن کا سامنا پاکستان میں فری لانسر کر رہے ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ متبادل بھی ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی ادائیگیاں وصول کرسکتے ہیں۔‘