Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» » » پاکستان کے دفتر خارجہ کا کینیڈا کے سابق سفارت کار کے افغان امن عمل سے متعلق بیان پر سخت مذمت

 


پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کینیڈا کے سابق وزیر اور سفارت کار کرس الیگزینڈر کے افغان امن عمل سے متعلق پاکستان اور وزیر اعظم عمران کے کردار سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔

کرس الیگزینڈر نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں عمران خان پر طالبان کے مؤقف کو فروغ دینے کا سنیگن الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پر تعزیرات عائد ہونی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں قابلِ افسوس ہیں جب دنیا پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ مؤقف کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کا حل ایک جامع سیاسی تصیفے کے ذریعے وسیع حکومت کی ضرورت ہے

ترجمان زاہد حفیظ نے مزید کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ کینیڈا کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم نےکینڈئن حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان کےبقول پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس مہم کو روکیں۔

یادرہے کہ الیگزینڈر ماضی میں افغاستان میں کینڈا کے سفیر کے کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور قبل ازیں بھی وہ پاکستان کے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں تنقید کرتے رہے ہیں ۔ ان کا تازہ بیان بیا ن ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا جب دوسری جانب طالبان کی کاروائیوں میں شدت دیکھی جارہی ہے اور افغانستان کے بعض جنوبی شہروں کو کنڑول حاصل کرنے کے لیے افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے ۔

افغان حکومت کے بعض ر ہنما پاکستان پر الزام عائد کررہے ہیں کہ پاکستان طالبان کی مدد کررہا ہے۔ افغانستان کے نائب صر امراللہ صالح نے بھی اتوار کو پاکستان پر طالبان کی کھل کر حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔

لیکن پاکستان ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں غیر جانبدار ہے اسلام آباد کسی فریق کا حامی نہیں ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم کے سامنے آنے والے مختلف بیانات میں عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قراردینے باعث افسوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کس طور افغانستان کے صورتحال کا ذمہ دار نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان جو کچھ کررہے ہیں پاکستان اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کےبقول پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کوششوں کی حمایت کی ہے۔

الیگزینڈر نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اعطم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او ر پاکستان کے دفتر خارجہ کے موقف کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار یتے ہوئے انہیں ان تمام لوگوں کی توہین قرار دیا ہے جو افغانستان کے امن و استحکام کے کام کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے صدر امر اللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں کینڈا کے سابق وزیر کے ٹوئٹ سراہتے ہوئے کہا کہ الیگزینڈر نے ان دسیوں لاکھوں افغانوں او ر لاکھوں سابق خاموش مغربی ممالک کے فوجیوں کی طرف سے بات کی ہے۔ جن کی سفارت کار اور سرکاری سطح پر کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔

shahjahan

ہ۔ یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
جدید تر اشاعت
»
Previous
قدیم تر اشاعت

کوئی تبصرے نہیں:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Hi ! if you have any Question . Let me know