Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

داؤد فیملی‘ کون ہے؟



داؤد فیملی کے کاروبار کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک یتیم نوجوان احمد داؤد نے پتھارے پر کپڑے کے تھان لگانا شروع کیے اور پھر بمبئی میں یارن کی دکان کھولی۔

داؤد فیملی کا نام گذشتہ دنوں سے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں زیر گردش ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹائٹن آبدوز کے حادثے میں جن پانچ مسافروں کی ہلاکت ہوئی ان میں سے دو کا تعلق اسی خاندان سے ہے۔

شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان اس آبدوز میں سوار تھے جو تفریحی مقاصد کے لیے بحر اوقیانوس میں ڈوبے جہاز ٹائٹینک کا ملبہ دکھانے کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں گئی۔ مگر حکام کے مطابق اس دورے پر زیر آب دباؤ کی وجہ سے آبدوز دھماکے کا شکار ہوئی اور اس میں سوار پانچ مسافر ہلاک ہوگئے۔

داؤد فیملی کا شمار پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔ شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن کے نائب چیئرمین تھے۔ یہ کمپنی کھاد، کھانے پینے کی اشیا اور توانائی کے شعبے میں کام کرتی ہے۔

مگر داؤد فیملی کا کاروبار ملک کے اندر اور باہر وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جس کے علاوہ یہ خاندان صحت اور تعلیم جیسے سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتا ہے۔

داؤد فیملی نے پتھارے پر کپڑے کے تھان لگا کر کاروبار شروع کیا

پاکستان کے سب سے بڑے صنعت کاروں میں شامل داؤد فیملی نے 20ویں صدی کے اوائل میں ایک پتھارے سے کاروبار کا آغاز کیا اور چند دہائیوں میں اس خاندان کا شمار خطے کے امیر ترین گھرانوں میں ہونے لگا۔

آج اس خاندان کی کئی درجنوں صنعتیں و تجارتی ادارے ہیں۔ ان کا کاروبار پاکستان سے برطانیہ تک پھیلا ہوا ہے۔

داؤد فیملی کے سربراہ احمد داؤد کی پیدائش 1905 میں انڈیا کے صوبے کاٹھیاواڑ کے علاقے بانٹوا میں ہوئی۔ ان کے والد تاجر تھے۔ انھوں نے صرف تین جماعتوں تک تعلیم حاصل کی تھیں۔ بچپن میں ہی والد کی وفات ہوگئی جس کے بعد ان کی پروش کی ذمہ داری دادا پر آگئی۔

احمد داؤد ایک پیکر اوصاف‘ نامی کتاب کے مصنف عثمان باٹلی والا لکھتے کہ احمد داؤد نے 16 سال کی عمر میں پتھارے پر کپڑے کے تھان لگا کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا جبکہ داؤد انویسٹمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق یتیم نوجوان احمد داؤد نے 1920 میں بمبئی میں یارن کی دکان کھولی تھی۔

عثمان باٹلی والا، جو احمد داؤد سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ سیٹھ احمد بتاتے تھے کہ ان کی والدہ ذہین اور سمجھدار خاتون تھیں۔ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں جس کی وجہ سے انھیں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا رہا۔

میمن شخصیات پر کتاب کے مصنف عمر عبدالرحمان لکھتے ہیں کہ انھوں نے کاٹن جننگ پریسنگ فیکٹری کے علاوہ تیل کی مِل اور ویجیٹیبل آئل کی فیکٹری قائم کی اور دیکھتے ہی دیکھتے داؤد فیملی کے دفاتر اور ان کی شاخیں کلکتہ، مدراس، کانپور، متھورہ، لدھیانہ اور دلی وغیرہ میں پھیل گئیں۔

عثمان لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے خوردنی تیل کا کارخانہ لگایا تو پھر ان کے کاروبار میں وسعت آئی اور یہ کامیابی سے چل پڑا۔ اس کاروبار میں ان کے بھائی سلیمان داؤد، علی محمد داؤد، صدیق داؤد اور ستار داؤد بھی شریک رہے۔

برصغیر کے بٹوارے اور قیام پاکستان کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے جہاں کچھ عرصہ رہے۔ بعد میں وہاں سے پاکستان آ گئے۔ انھوں نے مانچسٹر اور پاکستان میں داؤد پرائیوٹ لمیٹڈ کے نام سے کمپنی قائم کی۔

پاکستان میں فوجی جرنیلوں کے ابتدائی ادوار اور داؤد خاندان

پاکستان کے فوجی ادوار داؤد فیملی کے لیے سازگار رہے، پھر چاہے فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت ہو یا جنرل ضیالحق کی۔

عثمان باٹلی والا لکھتے ہیں کہ احمد داؤد نے پاکستان میں کاٹن کی بروکری شروع کی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں کراچی میں اور بورے والا میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں غیر فعال ہوگئیں جو سرکاری ادارے پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) کے زیر انتظام تھیں لیکن وہ انھیں چلا نہیں پا رہے تھے۔

لہذا ایوب خان کو مشورہ دیا گیا کہ اگر یہ فیکٹریاں احمد داؤد کو دی جائیں تو اچھا پرفارم کریں گی۔ انھیں یہ پیشکش کی گئی تو انھوں نے اور ان کے بھائیوں نے اس کو قبول کر لیا۔ کتاب میں لکھا ہے کہ حالیہ نجکاری کے طریقہ کار کے مطابق ماضی میں اس کام کے لیے کوئی بولی وغیرہ نہیں لگی نہ نیلامی ہوئی۔ فیکٹریاں انھیں سپرد کی گئیں اور انھوں نے رقم ادا کی۔ اس سے قبل ان کے پاس لانڈھی میں داؤد کاٹن ملز موجود تھیں جو 1952 سے کام کر رہی تھی۔

مغربی پاکستان کے بعد وہ مشرقی پاکستان میں بھی قسمت آزمانے چلے گئے۔ یہ موقع بھی ایوب خان حکومت میں انھیں میسر ہوا۔ وہاں کرنافلی پیپر ملز اور کرنافلی ٹیکسٹائل ملز مزدوروں کے احتجاج اور دیگر معاملات کی وجہ سے غیر فعال ہوچکی تھیں۔

عثمان باٹلی والا کے مطابق نواب آف کالا باغ نے سیٹھ احمد کو پیشکش کی کہ ان کو خرید لیں، انھوں نے اس کو قبول کیا اور محنت کی تو یہ بحال ہوگئیں۔ پیپر ملز اس وقت پاکستان کی واحد مل تھی جس میں بانس سے پیپر بنایا جاتا تھا۔

17 جنوری 1969 میں نیویارک ٹائمز نے اپنی اشاعت میں احمد داؤد فیملی کو پاکستان کا دوسرا سب سے امیر خاندان قرار دیا جس کے اثاثوں کی مالیت اس وقت 200 ملین ڈالرز تھی۔ ان کے پاس کاٹن، وولن، ٹکسٹائل، یارن، کیمکلز، مائننگ، بینکنگ، انشورنس، پیپر اور فرٹیلائزر کے کارخانے تھے۔

1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ سے کرنافلی پیپر ملز، داؤد مائننگ، داؤد شپنگ سمیت کئی کارخانے اور کاروبار متاثر ہوئے۔ عثمان باٹلی والا بتاتے ہیں کہ ان دنوں ان کے نقصان کا تخمینہ 30 سے 35 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔

پاکستان کے امیر ترین‘ بائیس خاندان اور داؤد فیملی

فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں ڈاکٹر محبوب الحق نے بجٹ تقریر کے دوران انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی ’60 سے 80 فیصد دولت پر صرف 22 خاندان قابض ہیں‘ تاہم انھوں نے ان خاندانوں کے نام نہیں بتائے تھے۔

تاہم اس معاملے نے ایک مزاحمتی عنصر کو جنم دیا اور پاکستان کے عوامی شاعر حبیب جالب نے لکھا کہ:

بیس گھرانے ہیں آباد، اور کروڑوں ہیں ناشاد

ہم پر اب تک جاری ہے، کالی صدیوں کی بے داد

صدر ایوب زندہ باد۔

ذوالفقار علی بھٹو سوشلزم کے نعرے کے ساتھ جب برسرِ اقتدار آئے تو انھوں نے ان خاندانوں کی نشاندہی کی اور متنبہ کیا کہ اس وقت پاکستان کو سرمائے کی ضرورت ہے، لہذا یہ خاندان اپنا سرمایہ واپس لائیں ورنہ وہ انھیں گرفتار کر لیں گے۔

بعد میں انھوں نے داؤد فیملی سمیت کئی خاندانوں کی املاک کو قومی تحویل میں لے لیا، یعنی انھیں نیشنلائز کر دیا۔

عثمان باٹلی والا کے مطابق ان بائیس خاندانوں میں سے 14 میمن گھرانے تھے اور داؤد فیملی دوسرے نمبر پر تھی۔ اس عرصے میں سیٹھ داؤد کو نظر بند کر دیا گیا اور جب وہ رہا ہوئے تو امریکہ چلے گئے۔ خیال ہے کہ اس وقت انھیں ’دو ارب روپے کا نقصان‘ ہوا تھا۔

احمد داؤد نے امریکہ میں آئل ایکسپلوریشن کمپنی کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا اور ایک جگہ ڈریلنگ کی تو وہاں سے پیٹرول نکل آیا اور ان کے اچھے دن دوبارہ آگئے جب پاکستان میں جنرل ضیا الحق بھٹو کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہوگئے۔

اس دور میں احمد داؤد واپس پاکستان آگئے اور ان کی صنعتوں اور سرمایہ کاری کا دوبارہ آغاز ہوگیا۔ خیال ہے کہ ان کے جنرل ضیا الحق کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

عثمان باٹلی والا کے مطابق ان کے 20 ایسے منصوبے تھے جو انھوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بھائیوں سلیمان داؤد، علی محمد داؤد، صدیق داؤد اور ستار داؤد میں تقیسم کیے اور ہر ایک کے حصے میں صنعتیں آئیں جن کو انھوں نے آگے بڑھایا۔

داؤد فیملی کے اہم عہدیدار

داؤد فاونڈیشن کے سربراہ اس وقت احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد ہیں۔

پاکستان میں داؤد خاندان کا ایک اور معروف نام رزاق داؤد ہیں جو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں مشیر تجارت رہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بھی وزارت تجارت کا قلمدان ان کے پاس تھا۔

رزاق داؤد سلیمان داؤد کے بیٹے ہیں جو احمد داؤد کے بھائی تھے۔ رزاق داؤد ڈسکن انجیئنرنگ کمپنی کے مالک ہیں۔

دوسری جانب شہزادہ داؤد کے والد حسین داؤد اور ان کا خاندان اینگرو کارپوریشن اور داؤد ہرکولیس کارپوریشن کے مالک ہیں۔

ٹائٹن حادثے میں ہلاک ہونے والے شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن کے نائب چیئرمین تھے۔

اینگرو اور داؤد ہر کولیس کارپوریشن

کاروباری اداروں کی کارکردگی اور ان کی ریٹنگ پر کام کرنے والے ادارے پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (پاکرا) کے جائزے کے مطابق اینگرو کارپوریشن کی بنیاد 1965 میں رکھی گئی تاہم اس وقت اس کا نام ایسو پاکستان فرٹیلائزر کمپنی تھا جو ماڑی گیس فیلڈ کی دریافت پر قائم کی گئی تھی۔

غیر ملکی شراکت داروں کے نکلنے کے بعد اس کا نام اینگرو کیمیکل کر دیا گیا جو فرٹیلائزر کے شعبے میں کام کر رہی تھی اور دوسرے شعبوں میں داخل ہونے کے بعد اس کا نام اینگرو کارپویشن رکھ دیا گیا جس کے تحت دس سے زائد کمپنیاں کام کرتی ہیں۔

اینگرو کارپوریشن پاکستان سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ کمپنی ہے جس میں اکثریتی حصص داؤد فیملی کے اداروں اور افراد کے ہیں۔ شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین تھے جبکہ ان کے والد حسین داؤد اس کے چیئرمین ہیں۔ شہزادہ داؤد کے بھائی صمد داؤد اس کے ڈائریکٹر ہیں۔

حسین داؤد اور ان کے خاندان کی دوسری بڑی کمپنی داؤد ہر کولیس کارپوریشن ہے جو اینگرو کارپوریشن میں بھی حصص رکھتی ہے۔

داؤد ہرکولیس کارپوریشن کے چیئرمین حسین داؤد ہیں جبکہ ان کے بیٹے حسین داؤد اس کے وائس چیئرمین ہیں اور شہزادہ داؤد اس کے ڈائریکٹر تھے۔

اگرچہ حسین داؤد اور ان کے خاندان کی ملکیتی اینگرو کارپوریشن اور داؤد ہر کولیس کارپوریشن سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ کمپنیاں ہیں جس میں عام عوام کے علاوہ اداروں کے بھی حصص ہیں تاہم ان کے اکثریتی حصص داؤد فیملی کے پاس ہی ہیں۔

پاکرا کے مطابق اینگرو کارپوریشن کے بورڈ میں سپانسرنگ فیملی یعنی داؤد خاندان کے افراد غالب ہیں۔

پاکستان میں داؤد خاندان کی کمپنیاں اور اثاثے

حسین داؤد اور ان کے بچے داؤد ہرکولیس کارپوریشن اور اینگرو کارپوریشن میں اکثریتی حصص مالک ہیں۔ یہ دونوں کارپوریشن معیشت کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔

داؤد ہر کولیس گروپ کی سالانہ رپورٹ ک مطابق یہ گروپ اپنی مختلف ایسوسی ایٹ کمپنیوں اور ذیلی اداروں کے ذریعے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ جیسے اینگرو فرٹیلائرز میں اینگرو کارپویشن کے 56 فیصد حصص ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2022 سے لے کر اب تک یہ گروپ توانائی، فوڈ اینڈ ایگری کلچر، پیٹرو کیمیکل، کیمیکل سٹوریج، قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں میں سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

اینگرو ایگزمپ ایگری‘ میں کارپویشن سو فیصد حصص کی مالک ہے۔ اینگرو انرجی ٹرمینل میں اس کے 56 فیصد حصص ہیں جبکہ اینگرو انرجی لمٹیڈ میں یہ سو فیصد حصص کی مالک ہے جس کے تحت اینگرو پاور جن قادر پور اور اینگرو پاور جن تھر پاور پلانٹس ہیں۔

جبکہ سندھ حکومت کی اینگرو کول مائئگ کمپنی میں حسین داؤد کے خاندان کی ملکیت اینگرو کارپوریشن گیارہ فیصد حصص کی مالک ہے۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اسی طرح کیمیکل کے شعبے میں اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکل میں کارپوریشن 56 فیصد حصص کی مالک ہے۔

اینگرو کارپوریشن کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یہ مجموعی طور پر تقریباً 750 ارب روپے کے اثاثوں کی مالک ہے۔

اینگرو کارپویشن کے 2022 کے سالانہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق اس نے پورے سال میں 46 ارب روپے کا منافع کمایا۔ داؤد ہر کولیس کارپوریشن کے سالانہ مالیاتی نتائج کے مطابق اس کا 2022 میں منافع ساڑھے تین ارب روپے سے زائد رہا۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق داؤد ہرکولیس کارپوریشن مختلف شعبوں میں دو ہزار سے زائد افراد کو ملازمت دی رہی ہے جبکہ دوسری جانب اینگرو کارپویشن کی مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہے۔

اینگرو کارپوریشن کے مطابق اس نے سنہ 2022 میں سماجی شعبے میں 84 کروڑ روپے خرچ کیے جن میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ماحولیات کی بہتری وغیرہ شامل ہیں۔

کارپوریشن کے مطابق اس نے حکومت کو ٹیکس کی مد میں 2022 میں ساڑھے 29 کروڑ ڈالر جمع کرائے جبکہ اس کی ذیلی کمپنی اینگرو انرجی نے ملک کے نوے لاکھ افراد کے گھر میں توانائی کی ضرورت پوری کی۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق داؤد گروپ کے ملکیتی ادارے اینگرو کارپویشن کی کارکردگی مسلسل بہتر رہی ہے۔ اس کی لانگ ٹرم کارکردگی پلس اے اے ہے اور اس کا آؤٹ لُک (مجموعی حالت) مستحکم ہے۔

داؤد خاندان کی تعلیم، سائنس اور صحت کے شعبوں میں خدمات

پاکستان میں 1961 میں داؤد فاؤنڈیشن قائم کی گئی جس کا افتتاح جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔ داؤد فیملی نے تعلیم کے فروغ پر توجہ دی۔

فاونڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیٹھ احمد خان نے بتایا تھا کہ مشرقی پاکستان کے شہر میسور میں انھوں نے سکول کی عمارت قائم کی ہے، اس کے ساتھ بورے والا میں گورنمنٹ کالج میں سائنس بلڈنگ کی تعمیر کرائی گئی اور کراچی کے دیہی علاقے درسانو چھنو میں سکول تعمیر کیا گیا۔

داؤد فاونڈیشن نے 1962 میں کراچی میں داؤد کالج آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی قائم کیا جو پاکستان کے نجی شعبے میں انجینیئرنگ کی تعلیم فراہم کرنے والا پہلا پروفیشنل کالج تھا۔ یہاں کیمیکل انجینیئرنگ، میٹالرجی اور میٹریلز انجینیئرنگ کے شعبوں میں تعلیم دی جاتی تھی۔

بعد میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں اس کو نیشنلائز کر دیا گیا اور اس کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس آگیا۔

کراچی میں 1983 کے دوران احمد داؤد گرلز پبلک سکول کی بنیاد رکھی جو اس وقت بھی فاونڈیشن کے زیر انتظام ہے جہاں 2500 سے زیادہ لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لمس لاہور، کراچی یونیورسٹی میں بھی داؤد فیملی کے نام سے بزنس سکول موجود ہیں۔

کراچی میں 1991 سے قائم پاکستان میں گردوں کے سب سے بڑے ہسپتال انسٹیٹوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ یعنی ایس آئی یو ٹی میں بھی داؤد فیملی کا بڑا کردار ہے۔

ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر گوہر کے مطابق بشیر داؤد انھیں اربوں روپے کے عطیات کر چکے ہیں جن سے تین بڑی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ یہاں بچوں اور کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈائلاسز اور ٹرانسپلانٹ کی مشنری کی خریداری میں بھی معاونت کی جاتی ہے۔

سائنس کے فروغ کے لیے کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس میوزیم قائم کیا گیا۔ میگنیفائی سائنس نامی اس میوزیم میں سائنس کی نمائشیں اور تعلیمی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

ریلوے کے گودام کو تین منزلہ سائنسی میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں سائنس، فزکس اور ریاضی کی تھوریز کے حوالے سے تجربات اور مشقیں کی جاتی ہیں۔

داؤد فاونڈیشن نے کراچی میں پبلک سپیس کے فروغ کے لیے ٹی ڈی ایف گھر بنایا۔ 1930 میں تعمیر کیے گئے اس گھر میں کراچی کی تاریخ اور پرانی یادوں سے وابستہ فرنیچر، گراموں فون سمیت دیگر اشیا موجود ہیں اور یہاں سے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کا نظارہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ٹی ڈی ایف گھر کراچی میں متوسط طبقے کے لیے بنائی گئی پہلی کوآپریٹو سوسائٹی جمشید کواٹرز میں واقع ہے جو کراچی کی ثقافتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے۔

اس سوسائٹی کی بنیاد 1920 میں جمشید نسروانجی نے رکھی تھی اور یہاں مسلمان، ہندو، مسیحی، پارسی اور یہودی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

 

سلطنت عثمانیہ میں طاقتور لونڈیاں

 

سلطنت عثمانیہ کے حرم کی بدولت تاریخ کی چند طاقتور ترین خواتین دنیا کے سامنے آئی تھیں۔

ییل یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ایلن میخائل نے بتایا کہ ’عثمانی تاریخ کے 600 سے زائد برسوں میں، تقریباً تمام سلطانوں کی مائیں تکنیکی اعتبار سے غلام تھیں‘ اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک میں سیاسی طاقت کے کھیل میں خواتین کا اثر و رسوخ قابل ذکر تھا۔

ایبرو بویار نے اپنی کتاب ’عثمانی خواتین اِن پبلک سپیس‘ میں لکھا کہ ان میں سے بہت سی خواتین اس کوشش میں کامیاب ہوئیں کہ وہ حرم میں اپنا وجود نہ کھو بیٹھیں یا سلطانوں کے لیے محض جنسی اشیا یا بچے پیدا کرنے والی عورتیں ہی نہ بن کر رہ جائیں۔

وہ مختلف سطحوں اور مختلف کرداروں میں نظر آنے والی سیاسی کردار تھیں۔

اگرچہ سلطنت عثمانیہ کے کچھ شہزادوں اور سلطانوں نے محبت کی شادیاں کیں جبکہ بہت سے تعلق سیاسی اور سٹریٹیجک وجوہات کی بنا پر قائم ہوئے۔

مثال کے طور پر عثمانی حکمران سیاسی اتحاد قائم کرنے یا اسے مضبوط کرنے کے لیے خطے کے دیگر رہنماؤں کی بیٹیوں سے بھی شادیاں کرتے تھے۔

اس نکتے کی نشاندہی ایبرو بویار نے کی ہے، جو ترکی میں مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں۔

مگر پھر وقت کے ساتھ ایک نمایاں رجحان اُبھر کر سامنے آیا۔

میخائل کہتے ہیں کہ ’سلطان کی ترجیح ہوتی تھی کہ ان کے بچے، یعنی شہزادے اور مستقبل کے سلطان، ان کی بیویوں کے بجائے ان کی لونڈیوں کے بطن سے پیدا ہوں۔

یعنی اولاد پیدا کرنے کے لیے انھوں نے حرم میں سے ہی کسی ایک عورت کا انتخاب کیا۔ بویار کہتے ہیں کہ اس طرح وہ آزاد خواتین، جو ایک مخصوص خاندان یا اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں ایک طرف رہ گئیں۔

سلطانوں نے اپنے وارث کی ماں کے طور پر ایسی خواتین کا انتخاب کرنا شروع کیا جن کا کوئی سیاسی تعلق نہیں تھا۔

بویار کہتے ہیں کہ اس دور میں ’اگر ایک بیٹا بیوی سے ہوا اور دوسرا لونڈی سے، تو دونوں کو تخت پر بیٹھنے کا یکساں حق تھا۔

ان کے مطابق حکمرانوں نے اس فکر کے بغیر لونڈیوں سے اولاد پیدا کی کہ انھیں ان سے شادی کرنی ہے۔

بہت سے امیدوار

عثمانی فتوحات کے نتیجے میں بہت سی خواتین کو زبردستی شاہی دارالحکومت لے جایا گیا۔

میخائل وضاحت کرتے ہیں کہ ’اگر ہم سلطنت کے کلاسیکی دور کی بات کریں تو ان میں سے بہت سی خواتین جنوبی اور مشرقی یورپ سے آئی تھیں۔ یعنی موجودہ رومانیہ اور یوکرین، نیز جنوبی روس، بحیرہ اسود کے علاقے اور قفقاز سے۔

جب وہ ایک بار حرم میں آ جاتیں تو وہ سلطان کی ملکیت بن جاتیں جن کے ساتھ اسے جنسی تعلق قائم کرنے کا حق حاصل تھا۔

بویار کا کہنا ہے کہ لیکن جس چیز نے ایک عام لونڈی کو طاقتور بنا دیا وہ بچہ پیدا کرنا تھا، ’خاص طور پر اگر وہ لڑکا ہوتا۔

ایک ایسے وقت میں جب بہت سے بچے صحت کے مسائل کی وجہ سے کم عمری میں ہی وفات پا جاتے تھے، زیادہ مرد وارث پیدا کرنا اہم اور ضروری سمجھا جاتا تھا۔

میخائل کہتے ہیں کہ ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ ایک خاص عمر کے بعد شہزادے کو میدان جنگ میں جانا ہوتا جہاں اس کی ہلاکت کا امکان موجود ہوتا۔

سلطنت عثمانیہ کی بنیاد موروثیت تھی اور اگر مرد وارث نہ ہوتے تو یہ ختم ہو جاتی۔

اس لیے یہ ضروری تھا کہ مرد بچوں کی زیادہ تعداد موجود ہوتی تاکہ اگر کسی ایک کو کچھ ہو بھی جائے تو دوسرا بچہ اقتدار کرنے کے لیے موجود ہو۔

حرم سے اقتدار تک

پروفیسر میخائل کہتے ہیں کہ حرم میں ماں اور بیٹا ’ایک ٹیم‘ کی طرح ہوتے تھے۔

سلطان کا جانشین بننے کی دوڑ میں، مائیں اہم اس لیے ہوتی تھیں کہ وہ اپنے بچوں کو اس رتبے تک پہنچنے میں مدد فراہم کر سکتی تھیں۔

کون سا بیٹا اپنے باپ کی طرف سے سب سے زیادہ پسند کیا جائے گا؟ کس کو بہترین تعلیم ملے گی؟ کون سا بیٹا بڑا ہو کر سلطنت میں اہم مقام حاصل کرے گا؟

اس طرح نہ صرف ورثا کے درمیان بلکہ ان کی ماؤں کے درمیان بھی ایک قسم کے مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔

جب یہ بچے بڑے ہوتے، 10 اور 15 سال کی عمر کے درمیان، تو انھیں خود کو جانشینی کا اہل ثابت کرنے کا موقع ملتا اور انھیں ہونے مختلف عہدے یا کام سونپے جاتے: مثال کے طور پر، کسی ایک چھوٹے سے شہر پر حکومت۔

یہ بچے اپنے ماؤں کے ہمراہ جاتے تھے جبکہ اُن کے ساتھ مشیروں کا ایک دستہ بھی موجود ہوتا۔

میخائل کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ 11، 12، 13 سال کا بچہ، جسے کسی شہر کا گورنر مقرر کیا جاتا ہے، ایسی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہو گا، اس طرح یہ واضح ہے کہ ان چھوٹے شہروں کے انتظام میں مائیں بہت اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

اگرچہ سرکاری طور پر، شہزادہ شہر کا گورنر ہوتا تھا، لیکن حقیقت کچھ اور تھی اور تاریخ دان اسے دستاویزات، عدالتی ریکارڈ اور اس دور میں لکھے گئے خطوط سے جانتے ہیں کہ درحقیت اُن کی ماں شہر کا انتظام سنبھالتی تھیں۔

لیکن سب سے بڑا انعام سلطنت کے دارالحکومت میں تھا۔

یقیناً، اگر آپ کا بیٹا سلطان بن جاتا ہے، تو خاندان میں آپ کا مقام بدل جاتا ہے، آپ شاہی ماں ہیں، آپ خاندان کے اندر ایک اعلیٰ شخصیت بن جاتی ہیں۔

یہ ایک بہت طاقتور عہدہ ہوتا اور عثمانی تاریخ کے مختلف اوقات میں ایسی ماؤں نے محل میں بہت زیادہ طاقت حاصل کی۔

عثمانی تاریخ کے 600 سال سے زیادہ میں، تقریباً تمام سلطانوں کی مائیں تکنیکی طور پر غلام تھیں، جن کی ابتدا عام طور پر سلطنت عثمانیہ میں نہیں ہوئی تھی اور غالباً وہ کسی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں اور پھر حرم میں داخل ہونے پر اسلام قبول کر لیا۔

استنبول میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک توپکپی محل ہے، جو تقریباً 1478 سے 1856 تک عثمانی شاہی دربار کا انتظامی مرکز اور رہائش گاہ تھا۔

جب آپ محل میں داخل ہوتے ہیں، تو آپ دیکھتے ہیں کہ حرم عثمانی سلطنت کے سرکاری دفاتر کے بالکل ساتھ ہے۔

اس طرح یہ خواتین ’طاقت کے مرکز‘ میں موجود تھیں۔ سلطان، ان کے مشیر اور سینیئر وزرا کے بھی بہت قریب جو سلطنت کا ایسے اہم سیاسی عہدے تھے جو آج کے وزیر اعظم کے برابر ہیں۔

میخائل کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومتی کارروائی کو قریب سے دیکھ کر ہی وہ خود بھی اس میں ملوث ہوئیں ہوں گی۔

اس طرح ایک ایسا منظر نامہ وجود میں آیا جسے میخائل ’سب سے بہتر کی بقا‘ کا نام دیتے ہیں۔

وہ ماں جو تیزی سے سیکھنے کے قابل تھی اور جو کچھ وہ اپنے بیٹے تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئی، وہ دنیاوی اعتبار سے مفید ثابت ہوتا۔

اس کے بعد حرم مستقبل کے سلطانوں کی تربیت کے لیے ایک جگہ بن گیا، جیسا کہ ایک محقق نے 1470 سے 1520 تک راج کرنے والے سلطان سلیم اول کی سوانح حیات ’گاڈز شیڈو‘ میں بیان کیا ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’تمام تر آسائشوں سے مزین حرم، جسے افسانوی حیثیت دی جاتی ہے، کسی عام مسلمان گھرانے کی نسبت ایک سکول جیسا تھا۔

درحقیقت، وہ کہتے ہیں، سلطان بایزید دوم کے بعد تین مضبوط ترین امیدوار لونڈیوں کے بیٹے تھے اور سب نے حرم میں ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کی: زبانیں، فلسفہ، مذہب، عسکری فنون۔

ان میں سے سلیم اول غالب رہے جن کے دور میں سلطنت کی توسیع ہوئی۔

جانشینی کی دوڑ میں اکثر سوتیلے بھائی حریف بن جاتے تھے، کچھ ایک دوسرے کے دشمن تک بن جاتے۔

یہ ممکن ہے کہ ان کے درمیان بہت گہرے رشتے نہ ہوں، کیوںکہ اگرچہ ان کے والد ایک تھے، لیکن وہ ہمیشہ حریف رہیں گے۔

یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کے طور پر، حرم میں، انھیں تربیت دی گئی تھی کہ وہ خود کو تخت کے دعویدار کے طور پر دیکھیں۔

برسوں بعد، نوعمروں کے طور پر، انھیں مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا، جس سے ان کے کبھی قریبی تعلقات قائم کرنے کے امکانات کو مزید کم کر دیا گیا۔

ایک بار جب ایک بیٹے نے تخت حاصل کر لیا، تو یہ عام بات تھی، خاص طور پر سلطنت کے ابتدائی ادوار میں، کہ وہ اپنے حریفوں کو ختم کر دیتا۔

مثال کے طور پر سلیم اول نے تخت سنبھالنے کے فوراً بعد اپنے دو سوتیلے بھائیوں کو قتل کر دیا۔

پروفیسر میخائل اپنی کتاب میں بتاتے ہیں کہ عموماً بڑے بیٹے کو تخت وراثت میں ملتا تھا مگر تکنیکی طور پر کوئی بھی مرد وارث اس کا حقدار تھا۔ لہذا، زیادہ تر جانشینوں میں خونریزی ہوا کرتی تھی۔

پروفیسر بویار کا کہنا ہے کہ سچ یہ ہے کہ جو لونڈیاں ’سلطان کی پسندیدہ‘ بنتی تھیں، وہ ’اپنے پیشروؤں سے زیادہ سیاسی طاقت‘ رکھتی تھیں۔

سلطان کے دل میں داخل ہو کر، وہ سیاسی اقتدار میں داخل ہو گئیں۔

اور اس کی ایک مثال یوکرائنی نژاد غلام روکسیلینا ہے جس نے سلطان سلیمان کی محبت جیتی اور تاریخ میں ایک عظیم ملکہ کے طور پر گردانی گئیں۔

اغوا ہو کر غلامی میں بیچے جانے کے بعد، وہ نوعمری میں سلیمان کے حرم میں آئیں اور پھر پہلے سلطان کی پسندیدہ بنیں، پھر اس کی بیوی اور پھر ان کے کئی بچوں کی ماں۔

لیکن سلیمان، جس نے 1520 اور 1566 کے درمیان حکومت کی، کا پہلے ہی ایک اور عورت سے ایک بیٹا مصطفی تھا اور مصطفیٰ جانشینی کے لیے مضبوط امیدوار تھے۔

لیکن روکسیلینا، جو خود بھی کافی طاقتور بن چکی تھیں، چاہتی تھیں کہ اگلا سلطان ان کا بیٹا بنے اور اسی لیے انھوں نے سلطان سلیمان کو قائل کیا کہ مصطفیٰ ان کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہا ہے۔

سلطان نے اپنے بیٹے کو غداری کے الزام میں قتل کر دیا اور یوں سیلم دوم، جو روکسیلینا کا بیٹا تھا، نے تخت سنبھال لیا۔

بویار کا کہنا ہے کہ 16ویں صدی کے وسط سے لے کر تقریباً 17ویں صدی کے وسط تک، محل میں ایسی خواتین نمایاں تھیں جن کی حرم میں زندگی کی شروعات تو بطور غلام ہوئی لیکن پھر وہ سیاسی اعتبار سے طاقت ور بنیں۔

تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں غلام کا تصور کافی مختلف تھا۔

میخائل کہتے ہیں کہ جب ہم غلام کا لفظ سنتے ہیں، تو ہم ٹرانس ایٹلانٹک غلاموں کی تجارت کے بارے میں سوچتے ہیں، جو افریقہ سے امریکہ تک لے جائے گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں غلامی موروثی نہیں ہوتی تھی اور غلام آزاد ہو سکتا تھا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ یقینا یہ خواتین آزاد نہیں تھیں۔ ’ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ، انھیں سلطان کے لیے جنسی طور پر دستیاب ہونا تھا۔

لیکن ان کے بچے آزاد پیدا ہو سکتے تھے۔

اپنی کتاب میں، میخائل نے بتایا ہے کہ سلیم اول کی والدہ گلبہار خاتون کے والد نے عثمانی فوج میں شامل ہونے کے لیے اسلام قبول کیا، لیکن ساتھ ہی اپنی بیٹی کو، ایک لونڈی کے طور پر، سلطان کو دے کر ایک بڑا سماجی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔

گلبہار یہ جانتی تھیں کہ وہ اپنے آبائی شہر کی نسبت محل میں زیادہ آرام دہ زندگی گزاریں گی اور یہ کہ ان کو ایک سلطان کی ماں بننے کا موقع بھی ملے گا اور اس وجہ سے وہ سلطنت کی سب سے اہم خاتون ہوں گی۔ دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں سے ایک۔

اور ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے حکومت میں اپنا اثر و رسوخ پھیلایا، جو کہ عثمانی شاہی ماؤں کی پہچان ہے۔

خواتین اپنے کریئر کے مقابلے اپنے ؟ شوہر کے کریئر کو زیادہ ترجیح کیوں دیتی ہیں

 



بہت سی خواتین دانستہ یا لاشعوری طور پر اپنے شوہر یا پارٹنر کے کریئر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنےکیریئر کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔

جب کیری 20 کے پیٹے میں تھیں، تو بطور سوشل ورکر کام کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی رقم کمائی اور کچھ رقم سیوِنگ اکاؤنٹ میں بھی رکھ دی۔ ان کے پارٹنر ایک گریجویٹ طالب علم تھے جو پارٹ ٹائم کام کرتے تھے، اور کیری، اپنی کمائی سے زیادہ تر بل ادا کرتی تھیں۔ لیکن جب ان کے پارٹنر نے گریجویشن مکمل کی اور انھیں نوکری کی پیشکش ہوئی تو حالات بدل گئے۔

شکاگو میں مقیم کیری، جو اب 30 کے پیٹے میں ہیں، کہتی ہیں، ’میرے پارٹنر کو ملک کے دوسرے کونے پر نوکری ملی، میں نے اپنا کام چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ چلی گئی۔ اگرچہ میں اپنے کیریئر اور اپنی زندگی میں واقعی خوش تھی، میں نے بنیادی طور پر اپنا کام ایک ایسی جگہ کے لیے چھوڑ دیا جہاں میں کسی کو نہیں جانتی تھی اور وہاں مجھے نوکری بھی نہیں ملی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ، کیری کو احساس ہوا کہ انھوں نے اپنے ساتھی کے کیریئر کو اپنی ذات پر پوری طرح ترجیح دی ہے۔ کیری کو لگا کہ اس اقدام سے ان کی کمائی اور ان کا کریئر پیچھے چھوٹ گیا۔

اگرچہ امریکہ میں خواتین تعلیم میں مردوں سے آگے ہیں اور وہاں نصف سے زیادہ لیبر فورس خواتین کی ہے پھر بھی بہت سی خواتین کا تجربہ کیری جیسا ہے۔

ڈیلوئٹ وومن ایٹ ورک 2023 کے محققین نے سروے کے لیے 10 ممالک میں 5,000 خواتین کا سروے کیا، جن میں سے 98 فیصد شوہر یا پارٹنر کے ساتھ رہتی تھیں۔ اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 40 جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ اس رشتے میں ان کے ساتھی کے کریئر کو فوقیت حاصل ہے۔ انھوں نے مالی اور سماجی عوامل سے لے کر دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ سمیت کئی وجوہات کا حوالہ دیا۔

لیکن ڈیلوئٹ سروے میں خواتین نے اپنے ساتھی کے کیریئر کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے مرد پارٹنرز نے زیادہ پیسہ کمایا۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے، اس کے پیش نظر، دنیا بھر میں، کچھ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین آج بھی ہر ایک ڈالر کے عوض 77 سینٹ کماتی ہیں۔

لندن میں مقیم ڈیلوئٹ میں عالمی تنوع، مساوات اور شمولیت کی افسرایما کوڈ کہتی ہیں ’قدرتی طور پر، کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو کہتے ہیں، ’اچھا، یہ شخص سب سے زیادہ کماتا ہے،خاص طور پر اس وقت جب کوئی وقت مشکل ہوتا ہے، آپ کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں کم کمانے والا شخص سوچتا ہے کہ ٹھیک ہے، میرا کیریئر پیچھے رہ جائے تو کوئی بات نہیں، اب چاہے یہ فیصلہ شعوری طور پر ہو یا لاشعوری۔

نیو یارک سٹی کے ہنٹر کالج میں سماجیات کی پروفیسر پامیلا سٹون کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح سے، یہ انتخاب معقول ہے، پامیلا خواتین کے کام چھوڑنے سے متعلق کتاب ’اوپٹِنگ آوٹ‘ کی شریک مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دو کتابوں کے لیے انھوں نے جن خواتین کا انٹرویو کیا تھا ان میں انھوں نے دیکھا کہ مردوں نے تیز رفتار ترقی کی اور آگے بڑھے لیکن جب خواتین کے اپنے اندرونی فیصلے کرنے کی بات آتی ہے، تو وہ ایسی باتیں کہیں گی کہ ’مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ کمائی کے قابل ہو جائے گا۔

سٹون کا کہنا ہے کہ جب یہ ڈالر اور سینٹ کے بارے میں ہو تو انتخاب کے معاملے میں جذبات کہیں کھو جاتے ہیں، وہ کہتی ہیں، ’یہ خواتین کے بصارت سے محروم، یا آزاد خیال، ترقی پسند نہ ہونے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ اس بارے میں ہے کہ کس کے پاس بہتر موقع ہے۔ اگر آپ جوا کھیلنے والے شخص ہیں، تو آپ مرد کے کیریئر کے مضبوط ہونے پر شرط لگائیں گے کیونکہ مارکیٹ میں صنفی امتیاز موجود ہے۔

دنیا کے سب سے وفادار کتے سے ’عقیدت‘ کیا اگلے سو برس بھی رہے گی؟

 

اگر آپ کا شمار بھی جانوروں سے محبت یا ان کی زندگی کے بارے میں جاننے والوں میں ہوتا ہے تو یقیناً آپ بھی کتوں کی مالک سے وفاداری سے بخوبی واقف ہوں گے۔

اور ہچیکو کی سچی کہانی بھی مالک سے وفاداری اور محبت سے متعلق ہے جس نے اپنے مالک کی موت کے بعد بھی جاپان کے ایک ٹرین سٹیشن پر اپنی ساری زندگی اس کے انتظار میں گزاری۔

سو سال پہلے پیدا ہونے والے اس دودھیا سفید نسل کے کتے کی یاد کو کتابوں اور فلموں سے لے کر سائنس فکشن تک میں امر کر دیا گیا ہے۔

ہچیکو پر بنائی گئی  چینی ورژن فلم 1987 کی ایک جاپانی ورژن کے بعد تیسری بار فلمائی گئی اور رچرڈ گیئر کے 2009 کی ہالی وڈ فلم کے بعد باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی ہے۔

یقیناً ایسی دوسری کہانیاں بھی ہیں لیکن کسی کی بھی ہچیکو جیسی عالمی پذیرائی نہ مل سکی۔ ہچیکو کا کانسی کا چمکدار مجسمہ ٹوکیو کے شیبویا سٹیشن کے باہر نصب ہے جہاں وہ بہت صبر و امید کے ساتھ دہائیوں سے اپنے مالک کا منتظر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

جاپانی بچوں کو سکول میں ہچیکو کی کہانی وفاداری اور بے لوث محبت کے سبق کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

ہچیکو کا یہ مجسمہ پہلی بار 1934 میں بنایا گیا تھا تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران اس مجسمہ کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اس کو 1948 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

جاپانی شہری بے لوث محبت اور وفاداری کے لیے ہچیکو کی مثالیں دیا کرتے ہیں۔ ہوائی یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹین یانو کا ہچیکو کے لیے کہنا ہے: ’وفادار، قابل اعتماد، مالک کے فرمانبردار، سمجھدار اور قابل بھروسہ ۔۔۔ اس کی خصوصیات کے لیے یہ الفاظ بھی کم ہیں۔‘

ہچیکو کے اپنے پہلے مالک تک پہنچنے کا سفر

اکیتا نسل سے تعلق رکھنے والا ہچیکو نومبر 1923 میں جاپان کے شہراوداٹے میں پیدا ہوا تھا۔ اکیتا جاپان میں بڑے سائز کے کتے کی ایسی نسل ہے جو وہاں کی قدیم اور مقبول نسلوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

1931 میں جاپانی حکومت نے اکیتا کو بطور قومی نشان بھی نامزد کیا تھا اور اسے جنگلی سؤر اور بارہ سنگھے جیسے جانوروں کا شکار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔

بچوں کے لیے انگریزی ادب لکھنے والے مصنف ایتسو ساکورابا لکھتے ہیں، ’اکیتا کتے پرسکون، مخلص، ذہین، اور بہادر ہوتے ہیں، جو اپنے مالک کےانتہائی فرمانبردار ہوتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ ایک ضدی شخصیت بھی رکھتے ہیں اور اپنے مالک کے علاوہ کسی کے قریب نہیں ہوتے۔‘

جس سال ہچیکو پیدا ہوا اس وقت زراعت کے ایک مشہورپروفیسر اور کتوں سے محبت کرنے والے ہائیڈیسابورو یوینو نے اپنےایک طالب علم سے کہا کہ وہ انھیں اکیتا نسل کے کتے کا بچہ ڈھونڈ دے۔

اس طرح ڈاکٹر یوینو کی فرمائش پر ٹرین کے ایک مشکل سفر کے بعد مخصوص نسل کے کتے کا چھوٹا سا بچہ 15 جنوری 1924 کو ضلع شیبویا میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچایا گیا۔

اس طویل سفر کے بعد ننھا ہچیکو جب اپنے مالک تک پہنچا تو اس کی طبیعت بگڑ چکی تھی۔ ابتدائی طور پر اسے مردہ سمجھا گیا۔ ہچیکو کی سوانح عمری لکھنے والے میومی ایتوہ کے مطابق یوینو اور ان کی اہلیہ یئی نے اگلے چھ ماہ تک چھوٹے سے ہچیکو کی اس کی دیکھ بھال کی تاکہ وہ مکمل صحت یاب ہو سکے۔

یوینو نے اس کا نام ’ہچی‘ (جاپانی زبان میں آٹھ) رکھا اور اس کے آگے ’کو‘ ان کے طالب علموں کی جانب سے دی گئی اضافت تھی۔

’وہ ہر شام ٹرین سے نکلنے والے ہر مسافر کو بغور دیکھتا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو‘

پروفیسر یونیو ہفتے میں کئی بار کام کرنے کے لیے ٹرین پر سفر کیا کرتے تھے۔ انھیں شیبویا سٹیشن تک کمپنی دینے ان کے ساتھ ہچیکو سمیت تینوں پالتو کتے جایا کرتے تھے اور پھر شام کو ان کی واپسی تک وہیں انتظار کرتے۔

21 مئی 1925 کو یونیومحض 53 سال کی عمر میں دماغ کی شریان پھٹ جانے کے باعث فوت ہو گئے۔ اس وقت ہچیکو صرف 16 ماہ رہا تھا۔

پروفیسرایتوہ لکھتے ہیں، ’جب لوگ ہشیکو کی آخری رسومات کے لیے ان کے جنازے پر جمع تھے اس وقت ہچیکو کو تابوت میں رکھے ڈاکٹر یوینو کے بدن کی خوشبو محسوس ہو گئی اور وہ تابوت کے پاس فرش پر اپنی تھوتنی(منھ کا اگلا حصہ) رکھ کر بیٹھ گیا اور وہاں سے ہلنے سے انکاری ہو گیا۔‘

اپنے مالک کی وفات کے بعد ہچیکو نے اگلے چند ماہ شیبویا شہر سے باہر مختلف خاندانوں کے ساتھ گزارے لیکن آخر کار 1925 کے موسم گرما میں وہ اپنے پہلے مالک کے باغبان کوبایشی کیکوسابورو کے پاس پہنچ گیا۔ اس علاقے میں واپسی کے بعد ہچیکو نے روزآنہ سٹیشن جانا اپنا معمول بنا لیا اور آندھی آئے یا طوفان موسم کی تمام سختیاں بھی ہچیکو کو اس معمول سے نہ روک سکیں۔

پروفیسر ایتوہ لکھتے ہیں ’ہچیکو کا معمول تھا کہ وہ ہر شام اپنی پرچاروں ٹانگوں پر کھڑا ٹرین سے نکلنے والے ہر مسافر کو بغور دیکھتا جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔‘

سٹیشن کے ملازمین ابتدا میں اس صورتحال سے کچھ پریشان ہوئے۔ کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے اس پر پانی پھینکتے تو چھوٹے لڑکے اسے پتھر مارتے مگر کوئی چیز ہچیکو کو روک نہ سکی۔ تاہم اکتوبر 1932 میں جب جاپانی روزنامہ ٹوکیو آساہی شمبن نے ہچیکو کے اس معمول کو خبروں کی زینت بنایا تو اس کہانی نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔

اس کے بعد ٹرین سٹیشن سے ہر روز ہچیکو کے لیے کھانا دیا جانے لگا جبکہ وفاداری کے خمیر سے گندھے اس کتے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔

امریکہ کا دیوالیہ ہونا



امریکی حکومت اس وقت تاریخ کا سب سے اہم اور پرخطر داؤ کھیل رہی ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز امریکہ کو مزید قرض لینے کی اجازت نہیں دیتے یا سادہ الفاظ میں قرض حاصل کرنے کی بالائی حد میں مزید اضافہ نہیں کرتے تو 31.4 کھرب ڈالرز کی مقروض دنیا کی سب سے بڑی معیشت دیوالیہ ہو جائے گی۔

امریکہ کو دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے یکم جون تک قرض کی حد بڑھانے سے متعلق حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتے ہیں تو امریکی چانسلر جرمی ہٹ کے بقول اس کے اثرات ’بہت تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

مگر امریکہ کو درپیش اس صورتحال کا امریکی و عالمی معیشت اور آپ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

معیشت پر اثرات

ماہرین نےبتایا کہا کہ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ امریکہ قرض کی وجہ سے دیوالیہ نہیں ہو گا۔

تاہم اگر ایسا ہو جاتا ہے تو انوسٹمنٹ بینک پانمور گورڈن کے چیف اکنامسٹ سائمن فرنچ سنہ 2008 میں عالمی سطح پر بینکنگ کی شعبے میں بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’تو یہ عالمی معاشی بحران کو ایک ٹی پارٹی بنا دے گا۔‘

اگر امریکہ اپنے قرض حاصل کرنے کی حد کو نہیں بڑھاتا تو وہ مزید قرض نہیں کر سکے گا اور اس کے بعد اسے حکومت کے خرچے پر اپنی عوام کو دی جانے والی مراعات، سہولیات اور دیگر ضروری ادائیگیوں کے لیے پیسوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اے جے بیل میں انوسٹمنٹ ڈائریکٹر روس مولڈ کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں امریکہ لوگوں کو ویلفیئر کے تحت رقوم کی ادائیگی بند کر دے گا اور لوگوں کی مالی مدد روک دی جائے گی جو ان کی خرچ کرنے کی صلاحیت اور اپنے بلوں کی ادائیگی کو متاثر کرے گی، لہذا اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔‘

وائٹ ہاؤس کی اقتصادی امور کے مشیروں کی کونسل نے تخیمنہ لگایا ہے کہ اگر طویل عرصے تک حکومت قرض حاصل کرنے کی حد بڑھانے کے کسی معاہدے ہر نہیں پہنچتی تو اس سے امریکی معیشت اپنے موجودہ حجم سے 6.1 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی میں کوئنز کالج کے صدر اور ماہر اقتصادی امور محمد ال ایرین کا کہنا ہے کہ ’دیوالیہ پن شاید امریکی کسادبازاری کا صرف نقطہ آغاز ہو۔‘

جس کے امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار یعنی برطانیہ سمیت دنیا بھر پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس صورت میں یہ دنیا بھر سے کم چیزیں خریدے گا۔‘

ال ایریان نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں کساد بازاری برطانیہ میں بھی معیشت کو سست کر دے گی لیکن سائمن فرنچ کو اس کا ’100 فیصد‘ یقین ہے۔

شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا دیوالیہ ہونا نہ صرف تجارت کو نقصان پہنچائے گا بلکہ برطانیہ میں رہن کی شرح سود میں بھی مزید اضافہ کرے گا اور اس سے برطانیہ میں بے روزگاری میں اضافہ بھی سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کافی تباہ کن ہو گا۔‘

لیکن امریکہ میں معاشی مسائل برطانیہ میں گھر کے لیے جانے والے قرضوں کو مزید مہنگا کیوں کریں گے؟

جو کوئی حکومت مزید قرض لینا چاہتی ہے تو وہ مارکیٹ میں ایک بانڈ یا آئی او یو جاری کرتی ہے۔ امریکہ میں اس قسم کے حکومتی بانڈ کو ٹریریئری بانڈ کہا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں اسے گلٹ کہتے ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ دار حکومت سے گلٹ یا ٹریرئیری بانڈ خریدتا ہے تو وہ حکومت سے اس پر سود وصول کرتا ہے۔

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکی حکومت اپنا قرض واپس نہ کر سکے یا حتی کہ اس پر سود کی رقم کی ادائیگی بھی نہ کر سکے تو سرمایہ کار اس کو دیکھتے ہوئے کہیں گے کہ اگر امریکہ دیوالیہ ہو سکتا ہے تو برطانیہ بھی ہو سکتا ہے۔

ایسے میں سرمایہ کار برطانیہ کے قرض کے لیے جاری کردہ گلٹ کو خریدتے وقت زیادہ شرح سود کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’قرض پر شرح سود میں اضافہ ، چاہے یہ رہن کا قرض ہو یا دوسرا قرض، وہ (سرمایہ دار) اس میں حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اور معاشی صورتحال اور ممکنہ دیوالیہ ہونے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حصے ضرور لیں گے۔ لہذا تما تر قرض کی سہولیات راتوں رات بہت مہنگی ہو جائیں گی۔