Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

سرمایہ دارانہ نظام




سرمایہ دارانہ نظام اور انسانی حقوق کا استحصال
 Capitalism system and their human rights exploitation۔ تحریر محمد سلمان سرمایہ داری نظام کیا ہے؟ وہ نظام جس میں انسانی محنت کا استحصال کرکے انسانوں کو اپنا غلام بنائے رکھنے کیلئے انسانی جسم میں اتنا توانائی برقرار رکھاجائے کہ وہ دوبارہ اسی استحصالی نظام کیلئے کار آمدہوکر اپنے حرکات کو برقرار رکھے۔ ایسا نظام * جس میں صرف سرمائے کو ہی ترجیح دیا جائے۔ * انسانوں کی بجائے سرمائے کو تحفظ دینے کا قانون مرتب کردی جائے۔ * قانون کی بنیاد ہی سرمائے پر رکھی جائے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا اصل چہرہ یہ ہے کہ یہ بدبودار نظام چاہتا ہے کہ انسانوں کا قابل با صلاحیت ،با وقار محنت کشوں کو پیسوں کی بنیاد پر کچھ بے ضمیر ،بے صلاحیت اور بے عقل انسانوں کے آگے جھکایا جائے اور جس کی ہر قسم کی صلاحیت کسی مفاد پرست، خود غرض ، اور انسانیت دشمن لوگوں کیلئے استعمال ہوجائے ۔ کیا انسانی وقار اور عزت دل میں رکھنے والے انسان یہ برداشت کرسکتے ہے؟ سرمایہ داری نظام کے تین نئے سکول آف تھاٹ Three new school of thoughts of capitalism system. 1 کلاسیکل 2 نیو کلاسیکل 3 مارکسٹ 1 کلاسیکل :- کلاسیکل سکول کو جدید معیشت کا سب سے قدیم فلسفہ مانا جاتا ہے اس فلسفے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ دار کو ہر قسم کی بندش سے آزاد ہونا چاہیئے ۔ تاکہ وہ انسانوں کا خون چوس سکے ۔ * کلاسیکل فلسفے میں چیز کی قیمت کا تعین اس پر لگنے والے اخراجات سے کیا جاتا ہے ۔ * کلاسیکل فلسفہ میں : زیادہ سپلائی پیدا کرنے کیلئے سرمایہ دار بے ضمیروں کو زیادہ مزدوروں کی ضرورت ہوگی، اور زیادہ مزدور رکھنے سے لوگوں کے پاس زیادہ پیسے آجائیں گے جس کی وجہ سے خریدنے والے لوگ خود بخود بڑھ جائیں گے۔ یعنی مزدور کے خون سے پروڈکٹ کی پیداوار ہوتی ہے اور اسکا تھوڑا سا معاوضہ دے کر اس پر دوبارہ فروخت کرتے ہے جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ دوبارہ سرمایہ دار کی جیب میں چلا جاتا ہے ۔ * کلاسیکل سکول آف تھاٹ میں آزاد مارکیٹ، آزاد تجارت کا اجازت ہے ۔ * کلاسیکل فلسفے میں معاشی ترقی کیلئے یہ طریقہ بتایا جاتا ہے کہ منافعے کا زیادہ حصہ سرمایہ دار کے پاس جانا چاہئے اس کی وجہ یہ بتاتے ہے کہ اگر مزدور کے پاس زیادہ پیسے جائیں گے تو وہ اِسے اپنے ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ضائع کریں گے اور اگر زیادہ سرمایہ، سرمایہ دار کے پاس جاتا ہے تو وہ یہ سرمایہ دوبارہ انویسٹ کرکے ملک کے ترقی کیلئے استعمال میں لائیں گے۔ * کلاسیکل فلسفے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ معیشت کی ترقی میں ورکز کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے ۔ اس کے پاس منافعے کا زیادہ حصہ جانا پیسے کا ضیاع ہے کیونکہ یہ سرمایہ یہ اپنے ضروریات کو پورا کرنے کیلئے استعمال کرے گا اور ملک کی معیشت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ * اس فلسفے میں ہے کہ معیشت کی ترقی میں مزدوروں کا کوئی کردار نہیں۔ میں بتاؤ تو ملک کی معیشت میں سرمایہ دار کا کہی کردار نہیں یہ ترقی مزدور کی خون سے ہے ۔ 2 نیو کلاسیکل :- اس فلسفے میں سرمایہ دار کو آزاد کرنے کی بجائے خریدنے والے فرد کو آزادی دی جائے۔ *اس فلسفے میں پروڈکٹ کی قیمتوں کا تعین یہ بات کرے گی کہ اس چیز کی مارکیٹ میں کتنی اہمیت ہے بجائے کہ اس کے بنانے میں خرچہ کتنا آیا ہے۔ *اور یہ سمجھتے ہے کہ مزدور کو بھی اس بات پر تنخواہ نہ دی جائے کہ انھوں نے کام کتنا کیا ہے یا محنت کتناکیا ہے بلکہ تنخواہوں کا تناسب مارکیٹ میں بننے والی چیز کی اہمیت پر ہونی چاہیئے ۔ * اس فلسفے میں یہ بھی ہے کہ ورکرز کا معاشی سسٹم کی ترقی میں کوئی کردار نہیں ۔ * اس فلسفے میں توجہ کا مرکز پیداوار کی بجائے مارکیٹ کی ریٹ اور فروخت پر ہے ۔ 3 مارکسٹ :- اس فلسفے کا بھی بنیادی بات یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام سے ہی معیشت ترقی کرسکتی ہے۔ * یہ بھی مزدور کو ان کے کام اور محنت کی بنیادی مراعات دینے سے انکار کرتا ہے * مزدور سے پروڈکٹ بناتے ہے اور بنیادی ضروریات مزدور کا پورا کرنے کیلئے تیار نہیں، زیادہ پروڈکٹ بنانے کیلئے ان کو بھی زیادہ مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے عیاشیوں اور انسانوں کو غلام بنانے کیلئے زیادہ سرمایہ بنا سکے ۔ * یہ فلسفہ کلاسیکل تھیوری کی طرح مزدوروں کو معاشی ترقی کیلئے ایک غیر فعال طبقہ نہیں سمجھتے۔ یہ مزدور کو بھی سرمایہ دار کی طرح معیشت کی ترقی میں یکساں اہم سمجھتے ہے۔ لیکن یہ فلسفہ بھی سمجھتا ہے کہ سرمایہ داری سسٹم کے بغیر معاشی سسٹم کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی یہ فلسفہ صرف مزدور کو معاشی ترقی کا پرزا سمجھتا ہے لیکن مزدور کو اپنے حقوق دینے کیلئے تیار نہیں۔ سرمایہ داری نظام کا کھیل :- Capitalism system how play with honest, working class humans. سرمایہ داری نظام مارکیٹ کیلئے جو چیزیں یا پروڈکٹ بناتی ہے ملکی سطح پر یا بین الاقوامی سطح پر، اس میں اس نظام کیلئے سب سے زیادہ جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ سرمایہ ہے بجائے سماج اور ملک کی ترقی کیلئے۔ ملک کی معاشی نظام میں سرمایہ ایک اہم۔کردار ادا کرتا ہے لیکن سرمایہ دار اگر سرمایہ کماتا ہے تو انسانی استحصال ، انسانی غلامی اور اپنے عیاشیوں کا سامان مہیا کرنے کیلئے۔ سب سے دکھ کی بات یہ ہے جو سرمایہ کمایا جاتا ہے اِن میں سرمایہ دار کا کوئی محنت شامل نہیں ہوتا بلکہ جس کی وجہ سے سرمایہ کمایا جاتا ہے وہ ورکرز طبقہ کبھی اپنے بچوں سمیت سمندر میں کھود کر جان دیتا ہے اور کبھی خود کو پھانسی دے کر پناہ کردیتے ہے۔ کبھی ساری عمر محنت کرکے دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے دربدر ہوکر ذلیل ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام ایسے طریقے سے انسانوں کو بھوکا، ننگا اور غلام رکھتا ہے کہ انھیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ انسانی سوسائٹی کی بربادی، غلامی اور قتل عام کس وجہ سے ہورہا ہے۔ یہ انسانی مخلوق کو اسلئے بھوکا ،ننگااور غلام رکھتے ہیں کہ اسکے سارے اعصاب مفلوج کردئے جائے۔ جب سرمایہ داری نظام اِس مفلوجی کو ختم کرنے کی بجائے انسانی سانس کو اسلئے برقرار رکھتے ہے کہ اِن پر اپنا بدبودار اور گندا نظام چلایا جاسکے تو یہ انھیں اپنے لئے آقا اور بہترین سمجھنے لگتے ہے۔ ایسے جب انسانی عزت ، انسانی وقار مرتبہ اور انسانی آزادی چھین کر جب انسان کے آدھے حصے کا بھوک مٹھائی جائے تو انسان یہ سمجھنےلگتا ہے کہ مجھے زندہ رکھ کر مجھے دوبارہ انسانی وقار رتبہ اور آزادی مل گئی لیکن ایسا نہیں ہوتا بس وہ انسانی سانس کو اپنے مشین کی سرکولیشن کیلئے برقرار رکھ کر انسانوں کو انسانی غلامی میں مبتلا اور ذہن کو مفلوج کرکے بند پنجرے میں رکھا جاتا ہے جس سے نکلنے کیلئے انقلاب کی صدا کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس صدا کی بلندی کیلئے غلام انسانوں کے پاس جو مفلوج اور غلام زہنیت بچ جاتی ہے اِس سے کبھی سر بلند نہیں ہوتی۔ یہ لوگ انھیں اپنے لئے بہتر اور آزادی سمجھتے ہے کہ دیکھو! مجھے زندہ زمیں میں درگور تو کرچکا ہے لیکن مجھے موت سے بچا کر میرا مردہ غلام ذہنیت زندہ زمیں میں درگور نہ کرکے مجھ پر اپنا نظام چلا رہا ہے اسلئے ہمارے لئے یہ نظام بہتر ہے۔ ایسا کھیل کھیلتا ہے سرمایہ دارانہ نظام کہ تمھاری محنت اور صلاحیت سے تمھارا ہی استحصال کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا نظام ہے کہ یہ اپنی قانون سے انسانی سوسائٹی کا استحصال بھی کرتا ہے لیکن اس سوسائٹی سے اپنے لئے زندہ باد کے نعرے بھی بلند کرتا ہے ۔

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

قربانی: تاریخ اور مذاہب کے پس منظر میں




 قربانی: تاریخ اور مذاہب کے پس منظر میں

قربانی کا تصور جہاں بھی پایا جاتا ہے اس کے گرد عام طور پر تقدس کاایک ہالہ موجود ہوتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے قربانی کے ذریعے اپنے اور اپنے مقدسات کے مابین ایک ارتباط قائم کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔
راغب اصفہانی کا قول
راغب اصفہانی نے قربانی کی جو تعریف کی ہے وہ دراصل توحید پرستی کے تصور پر مبنی ہے۔کہتے ہیں:
قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور(بعدازاں) عرب میں قربانی کا جانور ذبح کرنے کا نام ہو گیا۔(مفردات)
مذاہب و اخلاقیات کے انسائیکلو پیڈیا سے
ایڈورڈ بارنٹ ٹالور(۱۹۱۷۔۱۸۳۲) کی رائے ہے:
قربانی موجودات ماورائے طبیعات کے لیے ایک ہدیہ ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے ان کی توجہ حاصل کی جاسکے یا ان کی ناراضی کو کم کیا جاسکے۔
(vss sarifice. Encyclopaedia of religion and ethics 1947)
قدیم زمانوں سے
قربانی کی رسم قدیم ترین زمانوں سے جاری ہے۔ مختلف قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں میں قربانی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں رہا ہے۔ قربانی بھی طرح طرح کی رہی ہے۔ جمادات، نباتات اورحیوانات سب کی قربانی ہوتی رہی ہے۔ کبھی تو انسانوں کی قربانی بھی ہوتی رہی ہے۔ قربانی کی بعض صورتیں تو غیرعاقلانہ رہی ہیں۔ معقول و نامعقول قربانیوں کی صورتیں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
بعض انسان طبیعی عوامل مثلاً آسمانی بجلی یا زلزلے کے خوف سے خداؤں کی خدمت میں ہدیے پیش کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی پناہ یا خوشنودی حاصل کر سکیں۔ وہ انہی طبیعی مظاہر کے لیے خدائی کے قائل بھی رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں گوشت، غلہ، پھل، شراب اور گھی وغیرہ بھی قربانی کے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے انسانوں نے سورج، حیوانات یا بتوں کی پوجا شروع کردی۔ بعض انسان اپنے اموال بتوں کے قدموں میں رکھ دیتے تھے۔ بعض لوگ اپنے معصوم بچوں کو خداؤں کے نام پر قربان کر دیتے تھے۔
مختلف اقوام کے ہاں قربانی کا تصور اور روایت
آشوری اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے۔ ہندوؤں کے ہاں بھی تطہیر اور پاکی کے لیے یہ کا م انجام دیا جاتا تھا۔ زیادہ تر عرب سامی اقوام کی طرح اپنی قربانیوں کے خون کا چھڑکاؤ کرتے تھے یا پھر فنیقیوں کی طرح دودھ کاچھڑکاؤ کرتے تھے۔ بعض لوگ خون کے بجائے شراب کا چھڑکاؤ کرنے لگے اور وہ اسے انگور کا خون قرار دیتے تھے۔ بعض قوموں میں خود خداؤں کی قربانی کا بھی رواج رہا ہے۔ ہندوؤں کی بعض قدیم کتابوں کے مطابق خدا قربانی دے کر بہشت حاصل کرتے تھے۔
دومۃ الجندل کے لوگ ہر سال خاص انداز سے ایک شخص کا انتخاب کرتے اور اپنے خداؤں اور بتوں کے حضور اسے قربان کر دیتے پھر اس کا جسم قربان گاہ کے قریب دفن کر دیتے۔
عبدا لصبور شاکر اپنے ایک مقالے ’’مذاہب عالم میں قربانی کا تصور‘‘میں مختلف ملکوں اور قوموں کے ہاں قربانی کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
۔۔۔ افریقا، جنوبی امریکا، انڈونیشیا،جرمنی اور سکینڈے نیویا کے بعض قبائل اپنے دیوتاؤں کے غضب سے بچنے، ان کی خوشنودی حاصل کرنے، کسی نئی عمارت، پُل یا بادشاہ کی موت، یا ناگہانی آفت کے وقت انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق قدیم یونانی بھی انسان کی قربانی کے قائل تھے جس کی تصدیق ان ہڈیوں سے ہوتی ہے جنھیں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران برآمد کیا ہے۔ کریٹ کے قلعے سے ملنے والی بچوں کی ہڈیاں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ انھیں ذبح کیا گیاتھا۔
شکرانے کے لیے: کہا جاتا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں روم میں کنسولی کامیل کے زمانے میں سینٹ اور عوام میں اختلاف کے خاتمے پر جشن برپا کیا گیا اور تمام عبادت گاہوں میں خداؤں کے شکرانے کے لیے قربانیاں پیش کی گئیں۔
شہزادے کی قربانی: مغربی ایشیا کے سامی بادشاہوں میں سے ایک کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ موآب(جو شام کا علاقہ تھا) کے بادشاہ نے جب اپنی سلطنت کو بنی اسرائیل سے خطرے میں محسوس کیا تو اپنے بڑے بیٹے کو خداؤں کے حضور فدیہ کردیا۔ یہ اس کا وہی بیٹا تھا جسے اس کا جانشین ہونا تھا۔ بادشاہ کے حکم پر اسے شہر کی قربان گاہ پر لے گئے جہاں اسے فدیہ کے نام پر قتل کردیا گیا اور اس کے جسم کو جلا دیا گیا۔
خوبصورت قیدی کی قربانی: عرب کے بہت سے قبیلے جب کسی جنگ میں کامیاب ہو جاتے تو مغلوب قوم کے اموال لوٹ لیتے اور ان کے لوگوں کو قیدی بنا لیتے۔ اس فتح کے شکرانے میں وہ جو کام انجام دیتے ان میں سے ایک یہ تھا کہ قیدیوں میں سے خوبصورت ترین شخص کو اپنے بتوں کے حضور قربان کر دیتے۔ اس کے خون کو کامیابی کے تسلسل کے لیے اپنے سر اور چہرے پر ملتے۔
غیر خونی قربانی: بعض قدیم ادیان میں غیر خونی قربانی کی سلسلہ بھی رائج رہا ہے مثلاً پھلوں، سبزیوں، اناج کے دانوں، مائعات خصوصاً پانی اور شراب کو قربانی کے عنوان سے پیش کیا جاتا تھا۔ چیزوں اور حیوانوں کو قربانی کے لیے وقف کردیا جاتا تھا ۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ نباتات کی قربانی تازہ اتارے گئے پھلوں کو ہدیے کے طور پر پیش کرنے سے شروع ہوئی۔ یہ زمین کے مالک کی طرف سے ایک طرح کی مالی قربانی یا ٹیکس کی ادائیگی شمار ہوتی تھی۔
دریا کی روانی کے لیے دوشیزہ کی قربانی: قبل ازاسلام کے مصری لوگ دریائے نیل کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ایک خوبصورت اور کنواری دوشیزہ کی قربانی دیتے تھے جسے زیورات وغیرہ سے سجا سنوار کر دریا کے عین وسط میں چھوڑ دیا جاتا جس کے بعد دریائے نیل رواں ہو جاتا۔
بعض ادیان میں جانور کی قربانی ممنوع ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ادیان میں جانور کی قربانی اصلاً ممنوع ہے۔ مثلاً بدھ مت اور ہندومت کے ہاں جانور کی قربانی منع ہے۔ بدھ مت میں تو اب بھی یہی تصور پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زرتشت کے ہاں بھی جانور کی قربانی کا تصور نہ تھا اور بعد میں ان کے ماننے والوں کے ہاں درآیا۔
ستی کی رسم
ہندوؤں کا مسئلہ بہت عجیب ہے کہ ان کے ہاں جہاں ایک طرف جانور کی قربانی منع ہے وہاں انسانوں کی قربانی کا تصور اب بھی پایا جاتا ہے۔ ستی کی رسم تو کچھ عرصہ پہلے تک رائج رہی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ہم وکی پیڈیا سے پیش کرتے ہیں:
ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوہ کا شوہر کی چتا میں جل کر مرنا ستی کہلاتا ہے۔ جو ہندو مردے کو جلانے کی بجائے دفن کرتے تھے وہ بیوہ کو بھی زندہ دفن کرکے ستی کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب شوہر کی موت کہیں اور ہوتی تھی اور لاش موجود نہ ہوتی تھی تو ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے بیوہ کو شوہر کی کسی استعمال شدہ چیز کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔
ہندوستان میں ستی کا رواج بنگال میں زیادہ عام تھا۔ ستی ہونے والی خاتون کو ماتمی لباس کی بجائے شادی کے کپڑے پہنائے جاتے تھے اور ستی کی کافی ساری رسمیں شادی کی رسومات سے ملتی جلتی ہوتی تھیں۔ سمجھا جاتا تھا کہ ستی ہونے سے جوڑے کے تمام گناہ دھل جائیں گے، انھیں نجات حاصل ہوگی اور وہ موت کے بعد بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
ستی کی رسم مذہب میں کیسے داخل ہوئی اس پر ایک بہت قابل توجہ پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس زمانے میں امیر اور با اثر عمررسیدہ لوگ جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے تھے مگر انھیں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کی جوان بیوی کاکسی ہم عمر مرد سے معاشقہ نہ ہو جائے اور بیوی شوہر کو زہر نہ دے دے۔ ستی کی اس رسم کو مذہبی رنگ دینے سے بیوی اپنے شوہر کو کبھی بھی زہر دینے کی جرأت نہیں کرے گی تاکہ خود بھی جل مرنے سے محفوظ رہے۔
قربانی کے عمومی مقاصد
قربانی کے مقاصد عام طور پر اس طرح سے رہے ہیں:
۱۔ اللہ کی حمد اور شکر کے اظہار کے لیے
۲۔ طلب حاجت کے لیے
۳۔ حصول رضا کے لیے
۴۔ خدا یا خداؤں کے غضب کو ٹالنے کے لیے
۵۔ گناہوں کے کفارے کے لیے
۶۔ دنیا کی بہتری کے لیے
۷۔ خداؤں کے ساتھ مل کر غذا کھانے کے لیے
۸۔ مستقبل کے واقعات کی پیش بینی کے لیے
۹۔ مجالس کی برکت کے لیے، وغیرہ
گاہے ایک قربانی کے متعدد مقاصد بھی ہوتے تھے۔
قرآن کا بیان۔۔۔تمام امتوں میں قربانی
قرآن حکیم نے بھی یہ بات بیان کی ہے کہ قربانی کی رسم تمام قوموں اور امتوں میں موجود رہی ہے۔ تاہم قرآن کا قربانی کا تصور تاریخ کے بہت سے انحرافی تصورات سے مختلف ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۴میں ہے:
ترجمہ: قربانی ہم نے ہر امت کے لیے مقرر کی تھی تاکہ جن چوپایوں کا گوشت انھیں کھلایا جاتا تھا اس پر اللہ کا نام لیں پس تمھارا الٰہ وہ ایک ہی معبود ہے لہٰذا اس کے حضور سر تسلیم خم کرو اور عجزگزاروں کو بشارت دو۔
اس آیت سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے انبیا کی طرف سے ان کی امتوں کو قربانی کا پیغام دیا گیا البتہ یہ قربانی جانوروں کی تھی، وہ جانور جو لوگ خود چوپایوں کے طور پر استعمال کرتے تھے اور جن کا گوشت ان کے ہاں کھایا جاتا تھا۔مَا رَزَقَھُمْ سے یہی معنی مترشح ہوتا ہے کہ یہ ان چوپایوں کی قربانی تھی جو ان کے ہاں غذا کے طور پر کھائے جاتے تھے۔ نیز یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ یہ قربانی خالص اللہ کے لیے تھی اور اللہ ہی کے نام پر کی جاتی تھی۔ سورہ حج ہی کی ایک اور آیت ۶۷میں ہے:
ترجمہ: ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی تھی اور وہ لوگ اس کی قربانی کرتے تھے۔ پس وہ لوگ اس معاملے میں آپ سے جھگڑا نہ کریں اور آپ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں آپ یقیناً راہ راست پر ہیں۔
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ امتوں میں رائج جس طرح کی قربانی کا تصور پیش کرتے تھے بعض اہلِ ادیان اس کی مخالفت کرتے تھے اور اس تصور کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اگر ہم آنحضرتؐ کے زمانے کے مشرکین اور اہل کتاب کے ہاں جاری قربانی کے دستوروں کا مطالعہ کریں تو اس اختلاف کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے ’’نسیکہ‘‘ ، ’ ’نسک‘‘ اور ’’منسک‘‘ کے الفاظ پہلے قربانی کے مفہوم ہی میں استعمال ہوتے تھے بعد میں عمومی طور پر شریعت یا شرعی اعمال کے لیے استعمال ہونے لگے۔ اس طرح یہاں منسک کا معنی قربانی اس کے ایک بنیادی مصداق کے طور پر کیا گیا ہے۔
حج اور قربانی
حج کے موقع پر بھی جس قربانی کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ چوپایوں ہی کی قربانی ہے۔ البتہ یہ قربانی حج کے اعمال کا ناگزیر حصہ ہے۔ علاوہ ازیں حج کے موقع پر مختلف کوتاہیوں اور کمیوں یا خلاف ورزیوں کی صورت میں بھی کفارے کے طور پر قربانی کا تصور موجود ہے۔ یہ قربانی بھی جانوروں ہی کی قربانی پر مشتمل ہے۔ بعض احکام کی عدم تعمیل پر بھی جانوروں کی قربانی کا حکم موجود ہے، اس سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۶ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سورہ حج کی آیت۳۷سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں گوشت اور خون رکھنے والے جانوروں کی قربانی کا حکم دیاگیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
ترجمہ: اللہ تک ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اس کے پاس صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
فرزندان آدم اور قربانی
قرآن حکیم نے جس قدیم ترین قربانی کا ذکر کیا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ قربانی حضرت آدمؑ کے دو فرزندوں ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھی چنانچہ اس واقعہ کی طرف قرآن نے سورۃ مائدہ آیت ۲۷،۲۸ میں ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
ان سے آدم کے دونوں بیٹوں کی خبر سچائی سے بیان کردیں کہ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، جس کی قبول نہ ہوئی، اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں تمھیں قتل کردوں گا۔ بھائی نے (قربانی کی قبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میری طرف میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تیرے قتل کے لیے تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
ان آیات میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ قربانی کس چیز کی کی گئی تھی اور اس کی قبولیت کی علامت کیا تھی۔ اس سلسلے میں جو کچھ منقول ہے وہ زیادہ تر اسرائیلیات پر مبنی ہے۔ تاہم ان آیات سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ اول قربانی کی قبولیت کی شرط تقویٰ ہے، ثانیاً متقی شخص کسی کو ناجائز قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ اس لیے انسانی خون کا بہایا جانا اور وہ بھی اللہ کی خوشنودی کے نام پر، اللہ کو منظور نہیں۔
قربانی کے لیے شرائط
مختلف قوموں میں قربانیوں کے لیے خاص چیزوں ،خاص اوقات، خاص مقام اور خاص شرائط کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ قربانی کے لیے اوقات اور جگہ کا تعین تو بہت ملتا ہے۔ حج کے موقع پر مسلمانوں کے ہاں بھی ان امور کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حج کے موقع پر منیٰ میں مخصوص شرائط کے حامل مخصوص جانوروں کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔ جانوروں کو قربان کرنے کے طریقے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک عید قربان کے موقع پر پوری دنیا میں عام مسلمانوں کی طرف سے قربانی پیش کرنے کا سلسلہ ہے وہ بعض دینی مکاتبِ فکر میں واجب کی حیثیت رکھتا ہے اور بعض میں مستحب ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان ملکوں میں عید قربان کے موقع پر قربانی کی رسم کم یا محدود دکھائی دیتی ہے۔
مختلف ادیان میں قربان گاہوں کا تصور بھی موجود ہے۔ مسلمانوں کے ہاں منیٰ کا مقام دراصل قربان گاہ ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ اسے یہ حیثیت اسلام سے پہلے بھی حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اسی مقام پر قربانی پیش کی گئی تھی لہٰذا یہ ایک قدیم ترین قربان گاہ سمجھی جا سکتی ہے۔
اسماعیل ؑ کی قربانی
قربانی کے حوالے سے سب سے عجیب اور عظیم واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کرنا ہے۔ یہودیوں کے ہاں بھی حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند کی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند حضرت اسحاق ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے نزدیک آپ نے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ خانہ کعبہ اور اس کے اردگرد کی یادگاریں یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ قربانی کے لیے حضرت اسماعیل ؑ ہی کو پیش کیا گیا تھا۔ صفاومروہ کے مابین حضرت حاجرہ کا اپنے بیٹے کی پیاس بجھانے کے لیے بے قراری سے سعی کرنا اور دیگر بہت سی یادگاریں اس نقطۂ نظر کو درست ثابت کرتی ہیں۔ تاہم اصل موضوع یہاں حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے۔ قرآن حکیم نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
ترجمہ: جب اسماعیل اُن کے ساتھ دوڑ کر چلنے کی عمرکوپہنچ گئے تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں تو سوچ کر کہو کہ تمھاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا :ابا جان! جس چیز کا آپ کو حکم ملا ہے وہ کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھرجب دونوں اللہ کی رضا کے سامنے جھک گئے تو ابراہیم نے انھیں پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! تم نے واقعی اپنا خواب سچ کردکھایا ہے۔ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک بہت کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک ذبح عظیم کو اس کا بدل قراردیا۔
                
       سید ثاقب اکبر،چیئرمین البصیرہ اکیڈمی



آخری وقت کی توبہ


!!! آخری وقت کی توبہ!!!

انسانیت کی بھلائی کے لئے،
نصیحت کے لئے
اور انتہائی خیر خواہی کے جذبے سے جب بھی کسی طاغوت کے بارے میں چند الفاظ لکھ کر شیئر کئے جاتے ہیں
تو بعض لوگ کہتے ہیں

"ہو سکتا ہے اس نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو"

اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے "ہو سکتا ہے" والے مفروضے کی وضاحت کر دی جائے تو مناسب رہے گا.

اللہ کے بندو!
"ہو سکتا ہے" کا فائدہ صرف اپنی پسندیدہ شخصیات ہی کو  کیوں دیتے ہو اگر اس مفروضے کا فائدہ دینا ہے تو پوری انسانیت کو دو.

مثلاً آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے
فلاں ہندو نے، فلاں سکھ نے فلاں یہودی نے، فلاں عیسائی نے، فلاں قادیانی نے، فلاں فرقہ پرست نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو،

حسن ظن بہت اچھی بات ہے  لیکن یہ ضابطہ اخلاق اہل ایمان کے لئے ہے، یعنی اہل ایمان کو  ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہئے اور بد گمانی سے حتی المقدور اجتناب کرنا چاہئے.

صحیح البخاری کی حدیث ہے،

.... عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ الّنَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا.....

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما ینھی من سب الاموات)

"... ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی. صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا"

اس کے فوراً بعد امام بخاری نے یہ حدیث نقل کرکے ازالہ اوہام کر دیا
حدیث ملاحظہ ہو،
‏‏‏‏‏‏
..... عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ""قَالَ أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ،‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ.

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ذکر شرار الموتی)
"عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو لھب لعنۃ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا سارا دن تیری خرابی ہو تو اللہ تعالٰی نے یہ سورۃ نازل کی
تَبَّتۡ یَدَاۤ  اَبِیۡ  لَہَبٍ وَّ  تَبَّ، ابو لھب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں"

قرآن و حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ ہر مردے کی برائی بیان کرنا جائز نہیں وہیں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جن لوگوں کی موت کفر و شرک اور نفاق کی حالت میں واقع ہوئی ہو ان کی برائی بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے تاکہ زندہ لوگ عبرت حاصل کریں،

حسن ظن والی بات کی اتنی وضاحت کافی ہے.

اب اصل موضوع

"آخری وقت کی توبہ"

قرآن میں اس مسئلے کو بھی بہ بسط تمام واضح کر دیا گیا ہے اگر کوئی قرآن نہیں جانتا تو اس میں کسی کا کیا قصور؟

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،

(سورۃ المومن کی مسلسل دو آیات)

فَلَمَّا رَاَوۡا  بَاۡسَنَا  قَالُوۡۤا  اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ  وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ*

(سورۃ المومن آیت 84 )

(پہلی قوموں کی بات ہے)

"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لے آئے ہیں اور جن جن کو ہم شریک مان رہے تھے ان کا انکار کرتے ہیں"

فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ  اِیۡمَانُہُمۡ  لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ  الۡکٰفِرُوۡنَ*

(المومن 85)

"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو اس وقت ان کا ایمان  ان کے لئے  فائدہ مند ثابت نہ ہوا یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے پہلے بندوں میں جاری رہی ہے اور اس وقت کافر لوگوں نے نقصان اٹھایا"

اس ضمن میں فرعون کی موت کا واقعہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ  بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ  اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ  لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ*

(سورۃ یونس آیت 90)

"ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر (بحر احمر) سے پار کیا پس فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور تعدی سے ان کا پیچھا کیا. یہاں تک کہ جب اس  کو غرق (کے عذاب نے) آ پکڑا تو کہنے لگا میں اس رب پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں"

اللہ تعالٰی نے اس کے دعوی ایمان کو رد کر دیا اور فرمایا،

آٰلۡئٰنَ  وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ*

(یونس 91)

"اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ پہلے تو (عمر بھر) نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا"

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ  لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ  اٰیٰتِنَا  لَغٰفِلُوۡنَ*

(یونس 92)

"آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو اور لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے بے خبر ہے"

یہ آیات پڑھنے کے بعد کسی کو یہ کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے کہ ہو سکتا ہے فلاں شخص موت کے وقت ایمان لے آیا ہو، ہو سکتا ہے فلاں شخص نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو

قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے ہاں وہی ایمان قابل قبول ہے جس کا اعلان آدمی موت سے پہلے بقائمی ہوش و حواس کرے. ورنہ آخری وقت کا ایمان اور توبہ کا معاملہ فرعون جیسا ہو سکتا ہے.

اسلام اور شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ


اسلام اور شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ



  غیر ذمہ دار الیکٹرانک میڈیائی رویے اور اسلامی اقدار کے منافی مطبوعہ مواد نے ایک اسلامی  
معاشرے میں شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ والی بحثوں کو فروغ دے دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ نا صرف مغربی ثقافت کو اپنا رہا ہے بلکہ ان مغربی تصورات کو بھی اپنانا چاہ رہا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ شادی جو کہ زندگی کا اہم فیصلہ ہوتا ہے اس کے لیے اضافی احتیاط لازمی سمجھی جاتی ہے تاکہ آئندہ زندگی نہایت خوشگوار ٹھہرے۔ ایک شادی شدہ عمدہ زندگی کے لیے شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کا ہونا لازمی عنصر گردانا جاتا ہے۔
اگر آپ سورۃ الروم کی آیت نمبر 21 کا مطالعہ کریں تو اس میں ارشاد ہوتا ہے۔
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ۔ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی۔ یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔” (القرآن۔30:21)
ایک مسلمان کے لیے اللّہ تعالیٰ کا حکم، اس کا ارشاد، اس کی بتائی بات ہی دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہوتی ہے۔ بیشک اللّہ تعالیٰ قادر ہے وہ کُن فیکون کا مالک ہے۔ جب اللّہ تعالیٰ نے بتا دیا شوہر اور بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے لئے محبت ڈال دی ہے تو پھر کسی مغربی اور مشرقی نظریے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔” (القرآن۔2:187)
اب ان واضح احکامات کے بعد بھی میاں بیوی کی محبت اور رشتے میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔ مگر کئی جوڑوں میں تعلقات کشیدہ بھی رہتے ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔اس کے لیے بھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم موجود ہے کہ ایسے جوڑے اپنی کشیدگی کس طرح دور کر سکتے ہیں۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر 19 میں ارشاد ہے۔
“ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر  کرو اگر وہ تمہیں ناپسند بھی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللّہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہے۔” (القرآن۔4:19)
اس آیت کریمہ کی روشنی سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ جس ایک وجہ سے حالات کشیدگی کی طرف جا رہے ہیں اس کو اگنور کر کے اور بہت سی مثبت چیزیں مدنظر رکھ کر زندگی خوشگوار بنائی جا سکتی ہے۔ یعنی گھریلو ناچاقیاں ختم کرنے کا نسخہ کیمیا اس آیت میں موجود ہے۔
واضح قرآنی آیات کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور نظریے اور تحقیق کی ضرورت بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ جوان لڑکا لڑکی انڈرسٹینڈنگ کی بجائے معاشرے کی بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نامحرم کی قید و بند سے آزاد یہ جوڑے شرح طلاق میں اضافے کے علاوہ کہیں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک میں شرح طلاق اور اسلامی ممالک میں شرح طلاق آپ سب کے سامنے موجود ہے۔
شادی کے اس موضوع میں مرد کو چار چار شادیوں کی اجازت پر بھی میں بات کرتا چلوں کہ کس طرح اس کی غلط تشہیر کی جاتی ہے۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر 3 میں ارشاد ہے۔
” اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ کر سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو۔ دو دو،تین تین، چار چار سے لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک کافی ہے۔” (القرآن۔4:3)
اس آیتِ کریمہ میں جہاں چار چار شادیوں کی اجازت دی گئی ساتھ ہی واضح شرط رکھی گئی ہے کہ برابری رکھنی ہے۔ اگر تمام بیویوں میں برابری نہیں رکھ سکتے تو ایک ہی بیوی کافی ہے۔
سورۃ النساء میں ہی ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“تم سے یہ تو کبھی نہ ہو سکے گا کہ اپنی تمام بیویوں میں ہر طرح عدل کرو۔” (القرآن۔4:129)
اس واضح ارشادِ باری تعالیٰ کے بعد یہ حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو پھر بھی واضح حکم موجود ہے کہ ایک ہی کافی ہے۔ مرد کے اس اجارہ دار معاشرے میں مرد صرف چار چار شادیوں کی اجازت کو تو سینہ تان کر بیان کرتا ہے مگر اس کے ساتھ جڑے احکامات کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر اس کی یہ شرط ہے کہ آپ پہلے اسلام کو پڑھیں۔ دوسرے نظریات، فلسفے اور تحقیقات کا مطالعہ ضرور کریں مگر اس سے پہلے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ضرور آشنائی ہونی چاہیے۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات کا سب سے بہترین مآخذ قرآن مجید ہے جو کہ آخری رسول حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی۔ 
اللّہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ تعالیٰ کی توحید


 توحید



اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اس نے کائنات کو بنایا پھر بندوں کو بنا کر اس میں بسایا پھر ان سب کو موت دیتا رہے گا حتیٰ کہ جب ساری کائنات فنا ہوجائے گی تو اپنی وحدت کا اعلان فرمائے گا رب تعالیٰ کی واحدانیت پر کثیر آیات کریمہ ہیں مگر سب کو یہاں پر بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ موضوع طویل ہوجائے گا اس لیے رضاالہٰی کی خاطر چیدہ چیدہ آیات پیش کرتا ہوں۔
دلیل نمبر:1 قرآن مجید میں ہے: ”اگر آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ متعدد خدا ہوتے تو ضرور ان کا نظام فاسد ہوجاتا“
دلیل نمبر:2 قرآن مجید میں ہے: ”بے شک تمہاری عبادت کا مستحق ضرور ایک ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور ان تمام چیزوں کا رب جوان کے درمیان ہیں وہی تمام مشارق کا رب ہے“
دلیل نمبر:3 قرآن مجید میں ہے: ”کیا وہ اپنے نفسوں میں(اس پر) غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو صرف حق کے ساتھ اور مقررہ مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے اور بے شک اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کے ضرور منکر ہیں ۔
کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا پس وہ اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے زیادہ قوت والے تھے اور انہوں نے زمین میں ہل چلایا اور اس کو آباد کیا اورا نہوں نے زمین کو ان سے زیادہ آباد کیا تھا ان کے پاس رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے تو اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے پھر برے کام کرنے والوں کا برا انجام ہواکیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے“
دلیل نمبر:4 قرآن مجید میں ہے: ”عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں اس کائنات میں اور ان کے اپنے نفسوں میں دکھائیں گے حتیٰ کہ ان پر منکشف ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق ہے“
دلیل نمبر:5قرآن مجید میں ہے: ”اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم بشرہوکر پھیلتے جارہے ہو“
دلیل نمبر:6قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم کو ان سے سکون حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم فرمادی بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:7 قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش ہے اورتمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے اور بے شک اس میں عالموں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:8 قرآن مجید میں ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہاری نیند ہے اور تمہاری اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے بے شک اس میں غور سے سننے والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں۔

دلیل نمبر:9 قرآن مجید میں ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اورامید پر قائم رکھنے کے لئے بجلیوں کی چمک دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے پھر اس سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کرتا ہے بے شک اس میں عقل والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں“
دلیل نمبر:10 قرآن مجید میں ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین و آسمان اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب تم کو وہ زمین سے بلائے گا تو تم فوراً(قبروں سے)باہر نکل آؤ گے“
دلیل نمبر:11 قرآن مجید میں ہے: ”اور آسمانوں اور زمینون میں جو کچھ ہے وہ سب اس کی ملکیت ہے اور سب اس کے اطاعت شعار ہیں“
دلیل نمبر:12 قرآن مجید میں ہے: ”اور وہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس کی سب سے بلند صفات ہیں اور وہی بہت غلبہ اور بہت حکمت والا ہے“
دلیل نمبر:13 قرآن مجید میں ہے: ”کیا ہم نے تم کو حقیر پانی(منی) سے نہیں پیدا کیا“
دلیل نمبر:14 قرآن مجید میں ہے: ”سو تم کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جس کی صورت اور شکل واضح بنی ہو یا نہ بنی ہو“
دلیل نمبر:15 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو پیدا کیا پھر تم کو روز دیا پھر تم کو موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا گیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرسکے اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک اور بلند ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں“
دلیل نمبر:16 قرآن مجید میں ہے: اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے“
دلیل نمبر:17 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر وہ اس بادل کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلادیتا ہے اور وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہوکہ اس کے درمیان سے پانی نکلتا ہے پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان تک وہ پانی پہنچادیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں“
دلیل نمبر:18 قرآن مجید میں ہے: ”پس اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“
دلیل نمبر:19 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ بہت علم والا ہے بے حد قدرت والا ہے“
دلیل نمبر:20 قرآن مجید میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان بنائے جنہیں تم دیکھتے ہو اور زمین میں مضبوط پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ وہ تمہیں لرزانہ سکے اور اس زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلادئیے اور آسمان سے پانی نازل کیا سو ہم نے زمین میں ہر قسم کے عمدہ غلے(اور میوے) پیدا کیے یہ ہے اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا پس مجھے وہ دکھاؤ جو اللہ تعالیٰ کے ماسوا دوسروں نے پیدا کیا ہے بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں“

اسوہ رسول ﷺ کے روشن معیار

” اسوہ رسول ﷺ کے روشن معیار“


اللہ تعالیٰ نے اخلاق وعادات کی تمام خوبیاں وکمالات اور اعلیٰ صفات حضورﷺ کی ذات گرامی میں جمع فرمادی تھیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے علوم عطا فرمائے تھے حالانکہ آپ ﷺ ”امی “ تھے کچھ پڑھ لکھ نہ سکتے تھے۔ نہ انسانوں میں کوئی آپ کا معلم تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسے علوم عطا فرمائے تھے جو کائنات میں کسی اور کو نہیں دیئے گئے۔
آپ ﷺ کو کائنات کے خزانوں کی کُنجیاں پیش کی گئیں مگر آپ ﷺ نے دنیا وی مال وجاہ کے بدلے ہمیشہ آخرت کو ترجیح دی۔ آپﷺ علم وحکمت کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے، سب سے زیادہ محترم سب سے زیادہ مصنف، سب سے زیادہ حلیم وبردباد، سب سے زیادہ پاک دامن وعفیف اور لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے اور لوگوں کی ایذار رسانی پہ سب سے زیادہ صبرو تحمل کرنے والے تھے دیکھنے والوں کی نظر میں آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت رعب ودبدبہ والا روشن چمکدار ایسا کہ چودھویں کا چاند چمکتا ہے۔
جب آپﷺ مسکراتے تو گویا دیواروں پر مسکراہٹ کی چمک پڑتی تھی۔ شاعر حسان بن ثابت کہہ اٹھے ”میری آنکھوں نے کبھی آپ سے زیادہ کوئی صاحب جمال نہیں دیکھا، عورتوں نے آپ سے زیادہ کوئی صاحب جمال نہیں جنا، آپ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا، جیسے آپ ﷺ اپنی مرضی کے مطابق پید اکئے گئے ہوں۔“ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن کریم تھا، اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو اخلاق وصفات ِمحمودہ مذکورہ ہیں آپ ﷺ میں وہ تمام موجود تھیں۔
آپﷺ نے کبھی اپنی ذاتی معاملے اور مال ودولت کے سلسلے میں کسی سے انتقام نہیں لیا اور کسی سے بدلہ لیا تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے لیا۔ کفار، منافقین اور مشرکین نے آپ ﷺ سے جنگ وجدل کی آپ کو شدید رنج والم پہنچایا مگر اس حال میں بھی آپ ﷺ عفو درگرزر کی اعلیٰ مثال بنے رہے اور کفار کے لئے بدُعا کرنے کے بجائے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اشرف ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ بہادر اور فیاض تھے۔
آپﷺ کے مزاج میں اعتدال تھا، سخت گونا تھے اور نہ بازاروں میں گھومنے والے اور خلاف وقار باتیں کرنے والے تھے اور کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے بلکہ معاف فرما دیتے تھے۔ حیاسے آپ ﷺ کی نگاہ کسی شخص پہ نہ ٹھہرتی تھی اور کسی نامناسب بات کا اگر کسی ضرورت سے ذکر کرنا پڑتا تو کنایہ فرماتے۔ کشادہ دل بات کے سچے اور طبیعت کے نرم تھے۔ امیرو غریب آزاد وغلام کسی کو خاص ناکرتے بلکہ سب کی دعوت اور حقیر سے حقیر ہدیہ بھی قبول فرما لیتے تھے نا صرف یہ بلکہ خود بھی ہدیہ دیا کرتے۔
لوگوں کی عیادت کیلئے جایا کرتے معذرت کرنے والے کا عذر قبول فرمالیتے اور کبھی اپنے اصحاب کے درمیان پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھے نہیں دیکھے گئے جس سے اوروں پر جگہ تنگ ہوجائے اورجوآپ کے پاس آتا اس کی خاطر تواضع کرتے حتیٰ کے بعض اوقات آنے والے مہمان کیلئے اپنا کپڑا خود بچھاتے اور تکیہ خود اٹھا کر پیش کرتے کسی کی بات درمیان سے نا اچکتے اور جب خود کسی سے ہم کلام ہوتے تو آہستہ اور ٹھہر کر ہر لفظ ادا کرتے یعنی گفتگو میں بھی جلد بازی سے کام نا لیتے اکثر تبسم فرماتے۔
آقائے دوجہاں، سرور کائنات، ختم الرسل ، پیلر حسن اخلاق حضرت محمد مصطفی ﷺ صداقت، امانت اور سادگی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ آپ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں، آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی قیامت تک آنے والے نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ کائنات کے ہر انسان کیلئے مشعل راہ ہے، آپ ﷺ ابتداء ہی سے عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ سب سے محبت ، عاجزی اونکساری سے ملتے قبل از اظہارِ نبوت بھی کفار مکہ آپﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے اور اپنے فیصلے کرواتے ۔
آپ ﷺ نے تاریخ انسانی میں جو زبردست، بے مثال اور حیرت انگیز کارہائے نمایا سر انجام دیئے اس میں بنیادی کردار آپ ﷺ کے دل موہ لینے والے اخلاق اور روحوں کے سحر کرلینے والی شرافت کا ہے۔ آپ ﷺ کے خلق عظیم نے دشمنوں کو دوست کیا اور اپنے خون کے پیاسوں کو اپنا جاں نثار بنایا۔ جب آپﷺ کے پاس حکومت نہ تھی تب بھی صادق وامین اور سادہ طرز زندگی اور جب مکہ فتح ہوا تب بھی طرز حیات نہ بدلا اور سب کو معاف فرمایا اور عدل و انصاف کیا۔ آپ ﷺ نے بنی نوع انسان کو آداب معاشرت سیکھائے طبقاتی ، معاشرتی اور رنگ ونسل کے مصنوعی امتیازات کو ختم کرکے عملی درس مساوات دی
ا

فرعون اور سجدے کرنے کا حکم دینا

 فرعون اور سجدے کرنے کا حکم دینا               

           جب فرعون نے تخت پر بیٹھتے ہی سجدہ کا حکم دیا تو سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا
فرعون نے تخت پر بیٹھتے ہی اپنی رعایا کو حکم دیا کہ مجھے سجدہ کیا کریں۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:اس نے تخت پر بیٹھتے ہی اعلان عام کیا کہ لوگ مجھے سجدہ کیا کریں۔ سب سے پہلے وزیر ہامان کا فرعون کو سجدہ کرنا پھر امیروں اور سرداروں کے ذریعے لوگوں سے سجدہ کروانا:
جب فرعون نے تخت پر بیٹھتے ہی سجدہ کا حکم دیا تو سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا اور پھر دوسرے امیروں اور سرداروں کے ذریعے مصر کے لوگوں سے خود کو اپنے سجدہ کراتا تھا۔
فرعون کا دور والوں کے لئے اپنے نام کے بت بنوا کر سجدہ کروانا: جو فرعون کے قرب وجوار میں رہتے تھے وہ فرعون کو سجدہ کرتے تھے مگر جو دور رہتے تھے ان کے لئے اس لعین نے اپنے نام کے بت بنوائے جن کے آگے لوگ سجدہ کرتے تھے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں: اور دور والوں کے لئے اس نے اپنے نام کے بت بناکر بھیج دئیے تھے کہ وہ ان بتوں کو سجدہ کیا کریں۔ تمام اہل مصر کو فرعون کی پرستش میں گرفتار ہونا مگر بنی اسرائیل کا انکار کردینا:
تمام اہل مصر فرعون کی پرستش میں گرفتار ہوگئے مگر بنی اسرائیل نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:تمام اہل مصر فرعون کی پرستش میں گرفتار ہوگئے مگر بنی اسرائیل نے اس سے انکار کیا۔ فرعون کا بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلا کر ڈرانا دھمکانا مگر ان کا اس کی پرستش کرنے سے انکار کردینا: جب بنی اسرائیل نے فرعون کی پرستش سے انکار کردیا تو فرعون نے بنی اسرائیل کو بلوایا اور ان کو ڈرایا دھمکایا کہ میری پرستش کرو مگر بنی اسرائیل کے سرداروں نے بھی اس کی پرستش سے انکار کردیا۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں: فرعون نے اس کے سرداروں کو بلا کر بہت ڈرایا دھمکایا، مگر انہوں نے کہا ہم تیری عبادت نہیں کرسکتے۔
بنی اسرائیل کا فرعون کو رب تعالیٰ کی عبادت کرنے کا جواب دینا:
جب فرعون نے بنی اسرائیل کو اپنی پرستش کرنے کا کہا تو بنی اسرائیل نے اس کی پرستش کرنے سے انکار کردیا اور کہا ہم تیری عبادت نہیں کرسکتے صرف رب تعالیٰ کی عبادت کریں گے تو نے جو ہمارے خلاف کرنا ہے کرلے جو بگاڑنا ہے بگاڑلے ۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں: مگر انہوں نے کہا:ہم تیری عبادت نہیں کرسکتے صرف رب تعالیٰ کی عبادت کریں گے جو چاہے سو کر۔
فرعون کا غصے میں آکر دیگوں میں زیتون کا تیل اور گندھک کھول کر بنی اسرائیل پر ڈالنا:

جب بنی اسرائیل نے فرعون کی پرستش سے انکار کردیا تو اس نے دیگوں میں زیتون کا تیل اور گندھک کھولا کر بنی اسرائیل پر ڈالنا شروع کیا تاکہ یہ لوگ خوف کی وجہ سے میری پرستش کریں۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391 ھ لکتے ہیں:فرعون غصے میں آگیا اور دیگوں میں زیتون کا تیل اور گندھک کھولا کر بنی اسرائیل کو ڈالنا شروع کیا۔