Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» » آخری وقت کی توبہ


!!! آخری وقت کی توبہ!!!

انسانیت کی بھلائی کے لئے،
نصیحت کے لئے
اور انتہائی خیر خواہی کے جذبے سے جب بھی کسی طاغوت کے بارے میں چند الفاظ لکھ کر شیئر کئے جاتے ہیں
تو بعض لوگ کہتے ہیں

"ہو سکتا ہے اس نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو"

اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے "ہو سکتا ہے" والے مفروضے کی وضاحت کر دی جائے تو مناسب رہے گا.

اللہ کے بندو!
"ہو سکتا ہے" کا فائدہ صرف اپنی پسندیدہ شخصیات ہی کو  کیوں دیتے ہو اگر اس مفروضے کا فائدہ دینا ہے تو پوری انسانیت کو دو.

مثلاً آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے
فلاں ہندو نے، فلاں سکھ نے فلاں یہودی نے، فلاں عیسائی نے، فلاں قادیانی نے، فلاں فرقہ پرست نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو،

حسن ظن بہت اچھی بات ہے  لیکن یہ ضابطہ اخلاق اہل ایمان کے لئے ہے، یعنی اہل ایمان کو  ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہئے اور بد گمانی سے حتی المقدور اجتناب کرنا چاہئے.

صحیح البخاری کی حدیث ہے،

.... عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ الّنَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا.....

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما ینھی من سب الاموات)

"... ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی. صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا"

اس کے فوراً بعد امام بخاری نے یہ حدیث نقل کرکے ازالہ اوہام کر دیا
حدیث ملاحظہ ہو،
‏‏‏‏‏‏
..... عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ""قَالَ أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ،‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ.

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ذکر شرار الموتی)
"عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو لھب لعنۃ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا سارا دن تیری خرابی ہو تو اللہ تعالٰی نے یہ سورۃ نازل کی
تَبَّتۡ یَدَاۤ  اَبِیۡ  لَہَبٍ وَّ  تَبَّ، ابو لھب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں"

قرآن و حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ ہر مردے کی برائی بیان کرنا جائز نہیں وہیں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جن لوگوں کی موت کفر و شرک اور نفاق کی حالت میں واقع ہوئی ہو ان کی برائی بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے تاکہ زندہ لوگ عبرت حاصل کریں،

حسن ظن والی بات کی اتنی وضاحت کافی ہے.

اب اصل موضوع

"آخری وقت کی توبہ"

قرآن میں اس مسئلے کو بھی بہ بسط تمام واضح کر دیا گیا ہے اگر کوئی قرآن نہیں جانتا تو اس میں کسی کا کیا قصور؟

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،

(سورۃ المومن کی مسلسل دو آیات)

فَلَمَّا رَاَوۡا  بَاۡسَنَا  قَالُوۡۤا  اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ  وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ*

(سورۃ المومن آیت 84 )

(پہلی قوموں کی بات ہے)

"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لے آئے ہیں اور جن جن کو ہم شریک مان رہے تھے ان کا انکار کرتے ہیں"

فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ  اِیۡمَانُہُمۡ  لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ  الۡکٰفِرُوۡنَ*

(المومن 85)

"جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو اس وقت ان کا ایمان  ان کے لئے  فائدہ مند ثابت نہ ہوا یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے پہلے بندوں میں جاری رہی ہے اور اس وقت کافر لوگوں نے نقصان اٹھایا"

اس ضمن میں فرعون کی موت کا واقعہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ  بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ  اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ  لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ*

(سورۃ یونس آیت 90)

"ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر (بحر احمر) سے پار کیا پس فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور تعدی سے ان کا پیچھا کیا. یہاں تک کہ جب اس  کو غرق (کے عذاب نے) آ پکڑا تو کہنے لگا میں اس رب پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں"

اللہ تعالٰی نے اس کے دعوی ایمان کو رد کر دیا اور فرمایا،

آٰلۡئٰنَ  وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ*

(یونس 91)

"اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ پہلے تو (عمر بھر) نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا"

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ  لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ  اٰیٰتِنَا  لَغٰفِلُوۡنَ*

(یونس 92)

"آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو اور لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے بے خبر ہے"

یہ آیات پڑھنے کے بعد کسی کو یہ کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے کہ ہو سکتا ہے فلاں شخص موت کے وقت ایمان لے آیا ہو، ہو سکتا ہے فلاں شخص نے آخری وقت میں توبہ کر لی ہو

قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے ہاں وہی ایمان قابل قبول ہے جس کا اعلان آدمی موت سے پہلے بقائمی ہوش و حواس کرے. ورنہ آخری وقت کا ایمان اور توبہ کا معاملہ فرعون جیسا ہو سکتا ہے.

shahjahan

ہ۔ یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
جدید تر اشاعت
»
Previous
قدیم تر اشاعت

کوئی تبصرے نہیں:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Hi ! if you have any Question . Let me know