Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں

 




                                                کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں  

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے دو سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے پابندیاں لگائیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا، قابض افواج نے ماورائے عدالت قتل، کشمیریوں کے گھر نذر آتش کیے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے کی انتہا کررکھی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج پورے پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا ، اس موقع پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئے ٹریفک بند ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کے حوالے بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے اپنی جانیں قربانیاں دیں، مجھے پورا یقین ہے ایک دن کشمیر کشمیریوں کا ہو گا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارشروع کردی گئی ہے، لوگوں کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ،یہ کمپیوٹر کا دور ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کوانٹرنیٹ کی سہولت سےمحروم کیاگیا۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ آج پورےپاکستان میں یوم استحصال کشمیرمنایا جائے گا، یوم استحصال پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئےٹریفک بندہوگی، آج سے2سال قبل5اگست کوکشمیرمیں مودی نےعذاب مسلط کیا، بھارتی یکطرفہ اقدامات کیخلاف پاکستانی قوم جذبات کااظہارکرےگی  

پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار

 



 پاکستان سے باہر کےلوگوں کے  تعاون اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار تیار کر لی گئی ہے۔  اس کار کا پروٹوٹائپ تیار ہو چکا ہے اور چار ماہ بعد منظرعام پر لایا جائے گا، جس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی جائے گی اور گاڑی 2023ءمیں پاکستانیوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

یہ ’میڈ اِن پاکستان‘ الیکٹرک کار امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں پر مشتمل تنظیم ’ڈائس فاﺅنڈیشن‘ کے پاکستان میں چلائے جانے والے 4میگاپراجیکٹس میں سے ایک ہے۔ ان پراجیکٹس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار تیز تر کرنا ہے۔ ڈائس فاﺅنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی کا کہنا ہے کہ اس الیکٹرک کار کے لیے بیٹری پیک بھی پاکستان ہی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کی ڈیزائننگ اور فیبریکیشن کا عمل آئندہ دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ عہدے سے مستعفی

 


چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے عاصم سلیم باجوہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول کرلیا اور خالد منصور کو معاون خصوصی سی پیک امور تعینات کردیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان نے خالد منصور کو معاون خصوصی سی پیک امور تعینات کردیا

عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے بطور چیئرمین 2 سال مکمل کرلیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اللہ کا شکر گزار ہوں، جس نے سی پیک جیسے اہم ادارے کو چلانے کا موقع دیا








انسدادِ پولیو ٹیمز کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہل کار قتل

 

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ پولیو مہم میں محکمہ صحت کے اہل کاروں اور رضا کاروں کی حفاظت پر مامور ایک اور پولیس اہل کار کو نامعلوم افراد نے پیر کی صبح گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح کلاچی تحصیل میں اس وقت پیش آیا جب ہیڈ کانسٹیبل دلاور خان موٹر سائیکل پر انسدادِ پولیو مہم میں شامل رضا کاروں کے ساتھ ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔

کلاچی پولیس تھانے کے سربراہ خانزادہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فائرنگ سے پولیس ہیڈ کانسٹیبل موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ابتدائی طور پر دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں فی الوقت انسدادِ پولیو مہم روک دی گئی ہے۔

ایک روز قبل پشاور میں انسدادِ پولیو ٹیم کے ساتھ سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور آصف نامی اہل کار نواحی علاقے داؤدزئی کے گاؤں شعالی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا

اتوار ہی کو قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل محکمہ صحت کے اہل کاروں اور رضا کاروں کی حفاظت پر مامور پولیس اہل کاروں کو لے جانے والی گاڑی کو نا معلوم عسکریت پسندوں نے دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا تھا۔

بم دھماکے سے گاڑی کو نقصان پہنچا جب کہ اس میں سوار اہل کاروں میں سے ایک زخمی ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو کے ہنگامی دفتر کے سربراہ عبدالباسط خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے بھر کے 18 اضلاع کے 95 فی صد علاقوں میں انسداد پولیو مہم جاری ہے۔

اُن کے بقول بعض علاقوں میں سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر یہ مہم معطل کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نے دیگر علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم پر تسلی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو صوبے کے 18 اضلاع میں پولیو ویکسی نیشن مہم شروع ہوئی تھی جس کے دوران 37 لاکھ سے زیادہ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

عبدالباسط خان سیکیورٹی خدشات کے علاوہ والدین کی جانب سے قطرے نہ پلوانے کو بھی پولیو کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب کے 11 اور بلوچستان کے اضلاع میں بھی پیر سے انسدادِ پولیو مہم شروع ہو گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو دہائیوں سے انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے محکمۂ صحت کے اہل کاروں، رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملے تواتر سے ہوتےآرہے ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملے صوابی میں ہوئے ہیں۔

نو جون کو صوابی ہی میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل دو اہل کار جب کہ تین جنوری 2020 کو صوابی ہی میں دو خواتین اہل کار نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ میں ہلاک ہو گئی تھیں

آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے الیکشن میں ناکامی نواز لیگ کے بیانیے کی شکست ہے

 

آخری عام انتخابات کے کوئی تین برس بعد بالآخر وہ وقت آ پہنچا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو پورے تین برس اس مقام پر آنے میں لگے ہیں جہاں وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف یہ دعویٰ کر سکیں کہ انھوں نے میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نون کو ان کے اپنے علاقے میں خاصی سنجیدہ مشکلات سے دوچار کیا۔

سیالکوٹ براستہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اتنی شدید چوٹ ہے کہ یہ سہلانے میں نہیں آ رہی۔ نون لیگ کی تمام تر تاویلات کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پھر سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں شکست یہ گواہی دے رہی ہے کہ یا تو میاں صاحب کا کیمپ کمزوری کی طرف مائل ہے یا پھر تحریک انصاف آخر کار اس راز کو پا گئی ہے کہ نون لیگ، جس کی جڑیں عوام میں بہت گہری سمجھی جاتی ہیں، کو کس طرح زیر کیا جا سکتا ہے۔

بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس جانب پسپائی اور عمراں خان کے خیمہ میں اٹھان، یہ دونوں عوامل بیک وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذوں پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

ایسے موقع پر کہا جاتا ہے کہ یہ صورتحال فلاں شخص یا فلاں گروپ یا پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے تو یہ پریشانی تو بہرحال اب ہاؤس آف شریف کو لاحق ہے

نون لیگ میں بہت جان تھی اور اب بھی ہے۔ اس پارٹی نے مخاصمت یا پھر بعض لوگوں کے نزدیک انتقام سے بھری اور اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی دعویدار حکومت کا ایک بڑے عرصے تک اپنے بیانیے پر زور دیتے ہوئے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔

کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا جو حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ جیسی ساخت رکھنے والی پارٹی سے برپا ہوا مگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ناکامی، جہاں پی ایم ایل این محض چھ سیٹیں لے سکی اور اس کے بعد سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست نے واضح کر دیا کہ ماضی کوئی اور ملک تھا اور مستقبل ہاؤس آف شریف کے لیے کوئی اور ہی بستی ثابت ہو سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے لیڈروں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، ٹی وی پروگراموں میں ان کی ہنسی ہے کہ دبائے نہیں جا رہی۔ فتح کے جھنڈے، جو جا بجا انسانی شکل میں دستیاب ہیں، ببانگ دہل نعروں کی گونج میں بجے جا رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب فضا گنڈا پوری ہیبت سے لرز رہی ہے، ہمارے لائلپوری کھوجی گل صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ مسلم لیگ نون میں یعنی شریفوں کے مکان میں اور اتفاق والوں کی پرانی جمی ہوئی دکان میں وہ پھوٹ پڑ گئی ہے جس کی ان کے مخالفین کو عرصے سے تلاش تھی۔

ادھر عمران خان صاحب کہ ساتھ پوری لائل فردوس عاشق اعوان اور ان کے رفقا سیالکوٹ میں میاں صاحب کی غیر اسٹیبلشمنٹوی فوج کو پچھاڑنے کے بعد تحریک انصاف کو ایک تابناک مستقبل کی بشارت دے رہے ہیں

ایک ایسے اہم موقع پر مریم نواز صاحبہ بیماری کی وجہ سے سٹیج سے غائب ہیں۔ ان کے گرو اور والد گرامی خود آج کل ذرا لیے دیے ہی رہتے ہیں اور چچا جان شہباز شریف تو خیر نون لیگ کے اندر ایک معتدل دھڑے کے اتنے نمایاں سر پرست ہیں کہ ان سے پارٹی کے مشہور (اب شاید تیزی سے بدنام ہوتے ہوئے) بیانیہ کو بچانے کی کسی کوشش کی امید ہی بے سود ہے۔

جی ہاں میاں صاحب کا بیانیہ خطرے میں ہے، شاید اس سے بھی زیادہ خطرے میں جس کہ بارے میں ایک پورا مجمع نون لیگ کو خبردار کر رہا ہے۔ شور بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ نہیں چل سکتا، اس کے ساتھ الیکشن نہیں جیتے جا سکتے اور بہت سے ماہرین کا یہی خیال ہے لیکن پی ٹی آئی کے لیے یہ موقع شاید ابھی جشن منانے کا نہیں۔ اسے نا تجربہ کار قیادت کی وجہ سے اپنے اندر خامیوں کو چھپا کہ رکھنا پڑے گا۔

اگر سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی کامیابی نون لیگ کے غلط بیانیے کی وجہ سے ہے تو پھر یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے حق میں ہو گا کہ نون لیگ اور ان سے منسلک چند نمایاں سپرا جرنلسٹس بیانیہ کا یہ راگ الاپتے رہیں، تا وقت کہ بیانیے کی شدت شریفوں کے دربار کو بھسم کر دے

پرانی اور اصلی نون لیگ کے اندر بہت سے لوگ ہوں گے جو یہ اصرار کریں گے کہ بات اس قدر کبھی نہیں بڑھے گی اور یہ راگ اس نہج تک جانے سے پہلے ہی کوئی استاد اس بھیانک سُر کو سنبھال لے گا۔

بہر صورت ابھی اس بحث کو جگایا جا سکتا ہے کہ آیا مسلم لیگ کے ہتھے سے اکھڑا ہوا یہ دھڑا جو فوج مخالف بیانیہ کا بوجھ اٹھائے جگہ جگہ رسوا ہو رہا ہے، اس کی قیادت میاں نواز شریف کے ہاتھ ہے یا بی بی مریم نواز ان پوسٹ ماڈرنسٹ لیگیوں کی لیڈر ہیں۔

وہ تمام اصحاب جو نون لیگ کو بغاوت پر اکساتے چلے آئے ہیں خبردار رہیں کیونکہ یہ سیاست ہے، پاکستانی سیاست۔

میاں صاحب کے پاس اب بھی یہ آپشن موجود ہے جس کے تحت وہ اس تمام بیانیہ کی ذمہ داری مریم بی بی کے سر پر ڈال کر خود اپنے کاروبار کے اعتدال پسند شراکت کاروں سے جا ملیں۔ جی تو یہ چاہتا ہے کہ نعرہ لگائیں اور شامل ہو جائیں اس چھٹتی بھیڑ میں جس میں موجود پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار کے یہ طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں اور تبدیلی کا وقت بس آیا چاہتا ہے

نواز شریف صاحب کا بیانیہ نہ ترک کرنے کے بیان کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے یا کمی؟

چھوٹے بڑے انتخابات میں جیت حوصلہ قائم رکھنے کا ہمیشہ ایک اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔ نون لیگ کو عوام کا جذبہ بر قرار رکھنے کے کوئی دوسرے طریقے بھی سوچنے پڑیں گے، مزید زور لگانا پڑے گا کیونکہ آگے چڑھائی ہے۔

یہ ایک انتہائی فیصلہ کن لمحہ ہے اور اس بات کا مزید ثبوت میاں شہباز کا متحرک ہونا ہے۔ بحیثیت صدر پی ایم ایل این شہباز صاحب دو محاذوں پر لڑتے نظر آتے ہیں۔

ایکُ طرف وہ عمران خان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں اور اپنی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ اس امر کے باوجود کہ خان صاحب کو ان قوتوں کا بھرپور ساتھ حاصل ہے جن کی آشیرباد کے بغیر شہباز صاحب اپنی پارٹی کی سیاست نامکمل سمجھتے ہیں، تحریک انصاف حکومت ترقی کے ضمن میں کچھ نہیں کر پائی ہے۔

ساتھ ساتھ شہباز شریف اپنی پارٹی بلکہ اپنی شریف فیملی کے ناراض سیاستدانوں، نواز شریف اور مریم نواز کو یہ نکتہ سمجھانے کی سخت کوشش میں ہیں کہ مفاہمت کے لفظ کو غلط معنی میں ان سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے سلیم صافی کو ایک انٹرویو کے دوران یہ باور کرانے کی بھرپور سعی کی کہ ان کا مطلب اور مقصد نیشنل رکنسیلی ایشن ہے نہ کہ کوئی عام سی مفاہمت جس سے انُ کی پارٹی کی سبکی ہوتی ہو۔

شہباز شریف کی اپنی پارٹی راہ راست پر لانے کی یہ ایک اور مہم ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کارکنان اور لیڈر عمران خان کے سپاہیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ زیادہ واضح طور ہر سن سکتے ہیں۔ یہ بات شہباز شریف اور ان کی پسندیدہ سیاست کے حق میں جاتی ہے


نور مقدم قتل کیس

 


پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کو 10 دن سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اب تک قتل کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں اور موقع واردات سے قاتل گرفتار ہونے کے باوجود بھی اس ہولناک قتل کی کئی گتھیاں اب تک سلجھنا باقی ہیں۔

مبینہ قاتل ظاہر جعفر کا لاہور میں پولی گرافک ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے۔ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اپنی قریبی دوست کو اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل کیوں کیا۔ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سنگین واردات رونما ہوئی۔ ان تمام سوالات کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں۔

بیس جولائی کی شام ہوا کیا تھا؟

گزشتہ ماہ 20 جولائی کو عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل شام سات بجے کے قریب پولیس کو ایک کال موصول ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں ایک گھر میں ہنگامہ آرائی جاری ہے اور یہاں ایک قتل بھی ہو گیا ہے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو سنگین واردات دیکھ کر پولیس اہل کار بھی سکتے میں آگئے اور پولیس نے ملزم کو قابو کیا جو کسی طور قابو میں نہیں آ رہا تھا اور پولیس اہل کاروں پر ہی حملہ آور ہو رہا تھا۔

فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی گئی اور مقتولہ کے ایک سابق سفارت کار کی صاحبزادی ہونے کے انکشاف پر اور بھی کھلبلی مچ گئی اور تمام اہم افسران اور فرانزک ماہرین موقع پر پہنچ گئے۔

ظاہر جعفر کو وہاں موجود پولیس نے ہاتھ اور پاؤں سے باندھ رکھا تھا اور اسی حالت میں اسے تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مقتولہ نورمقدم کی لاش اٹھانے سے پہلے پورے کمرے کی تصویر کشی کی گئی اور فرانزک ماہرین سمیت پولیس کے تفتیشی افسران نے کمرے کی تصویریں بنائیں۔ قتل میں استعمال ہونے والی چھری ملزم ظاہر جعفر کے ہاتھ میں تھی، وہ قبضہ میں لی گئی جس پر ظاہر کے فنگر پرنٹس بھی موجود تھے۔

تفتیش سے منسلک بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کے دوران ایک سے زائد چھریاں استعمال کی گئیں کیونکہ قتل کے بعد گردن الگ کرنے کے لیے ایک چھری کارآمد نہیں تھی جس کے بعد ملزم نے دوسری چھری استعمال کی۔ کمرے میں موجود پستول قبضے میں لیا گیا جس میں گولی پھنسی ہوئی تھی

کمرے سے ہی نور مقدم کا موبائل فون اس کے کپڑے اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئیں جنہیں قبضہ میں لے لیا گیا اور موقع واردات کو سیل کر دیا گیا۔

اگلے روز دوبارہ فرانزک ماہرین موقع واردات پر پہنچے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ فریج اور کچن میں موجود کھانے پینے کی اشیا کے نمونے لیے گئے۔ کمرے میں موجود گلاس، بیڈ شیٹس اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔

اس روز ہوا کیا تھا؟

پولیس اب تک اس کیس میں اس روز رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں تفتیش کررہی ہے اور ملزم کے بیانات سمیت سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد بھی لی جارہی ہے۔ ظاہر جعفر کے خانساماں اور گارڈ کے بیانات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

پولیس حکام نے شبہہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک کے بیانات اور شواہد کے مطابق یہ دونوں ملازمین بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ جنہوں نے ایک نہتی لڑکی کو مار کھاتے اور ملزم کی طرف سے اس پر تشدد کرتے دیکھ کر بھی پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نور مقدم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر باہر گیٹ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن گیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا سکی۔ اس کے بعد اس نے گھر کے اندر موجود گارڈ کے کیبن کے اندر پناہ لینے کی کوشش کی۔

اس دوران گارڈ گھر سے باہر موجود رہا اور ملزم ظاہر جعفر اوپر سے دوڑتا ہوا آیا اور نور مقدم کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اوپر لے گیا۔

کمرے کے اندر ظاہر جعفر نے اس لڑکی کو کیسے قتل کیا، یہ ملزم نے پولیس کو بتایا تو ہے لیکن اس کی ہولناک تفصیلات اب تک پولیس نے میڈیا سے شیئر نہیں کیں۔ تاہم قتل سے پہلے اور بعد میں اس کے کئی دوست جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہ اس کے گھر آئیں لیکن انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔

گارڈ کی طرف سے ظاہر کے والدین کو آگاہ کیے جانے کے بعد ‘تھیراپی ورکس’ نامی ادارے کے تین اہل کار موقع پر پہنچے جنہیں ظاہر نے گھر کے ٹیرس پر آ کر سختی سے منع کیا اور کمرے کے اندر چلا گیا

اس پر امجد نامی ایک اہل کار سیڑھی لگا کر ٹیرس سے گھر کے اندر پہنچا تو ظاہر کے بیڈروم کی حالت دیکھ کر سکتے میں چلا گیا اور اسی دوران ظاہر نے اس پر بھی چھری سے حملہ کیا، شدید زخمی ہونے کے باوجود امجد نے مزاحمت کی اور ظاہر کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران دیگر دو ساتھیوں کے آنے پر انہوں نے ظاہر جعفر کو کنٹرول کیا اور رسیوں سے باندھ لیا۔

اس دوران ہنگامہ آرائی کی آوازیں سن کر پڑوسیوں نے پولیس کو کال کردی اور شام ساڑھے سات بجے کے قریب پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

زخمی امجد ابھی بھی اسپتال میں داخل ہے اور اس کی حالت کے پیشِ نظر پولیس اب تک اس کا بیان حاصل نہیں کر سکی۔

امکان ہے کہ اس کے بیان کے بعد اس قتل کی ایف آئی آر میں اقدامِ قتل کی دفعہ بھی شامل کر دی جائے گی کیونکہ صرف نور مقدم کا قتل نہیں ہوا بلکہ ایک اور شخص کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اب تک کی عدالتی کارروائی

اندراجِ مقدمہ کے 10 روز بعد ملزم ظاہر جعفر اب تک پولیس کے جسمانی ریمانڈ پر ہے۔

اس دوران اسے چار مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے چاروں مرتبہ مزید تفتیش اور شواہد جمع کرنے کا کہہ کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور تفتیش اب تک جاری ہے۔

اس دوران پولیس نے ایف آئی آر میں ملزم کے والدین اور دو ملازمین کو اعانتِ جرم کے الزام میں دفعات شامل کر کے گرفتار کر لیا۔

دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے لیکن جمعرات کو حراست میں موجود ملزم کے والد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ کی طرف سے انگریزی اخبار 'ڈان' میں ایک اشتہار بھی شائع ہوا۔ جس میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نور کے والد شوکت مقدم اور اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور قانون اپنا راستہ بناتے ہوئے انصاف فراہم کرے

ولیس حراست میں ہوتے ہوئے قتل اور اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار افراد کی طرف سے یوں تعزیتی اشتہار شائع ہونے پر بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

عدالتی کارروائی میں اب تک پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے مطابق وہ مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ انکار کر رہی تھی۔ جس کی وجہ سے اشتعال کے باعث یہ قتل ہوا۔

آخری مرتبہ عدالت میں پیشی پر پولیس نے تین دن کا ریمانڈ لیا اور کہا کہ اب اس ریمانڈ کے بعد بیشک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔

ملزم ظاہر جعفر نے پولیس کے سامنے تو بیانات دیے ہیں لیکن ان کی اب تک کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ملزم کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے دیے گئے بیان کی اہمیت ہے جسے مستند قانونی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض ملزمان مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیانات کو بھی اعلیٰ عدالتوں میں پولیس کے زیر اثر دیے گئے بیان کا کہہ کر مکر جاتے ہیں۔

اس کیس میں ظاہر جعفر کا بیان ابھی ریکارڈ ہونا باقی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ کیس چلانے کے لیے پولیس اپنے چالان عدالت میں جمع کرائے گی جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوسکے گی۔

کیس میں اتنی کنفیوژن کیوں ہے؟

اس کیس میں اب تک سامنے آنے والے شواہد اور قتل کی وجوہات ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باعث کئی سوالات جنم لے رہے ہیں اور دس دن کے بعد بھی پولیس اس کیس میں حتمی طور پر کوئی بھی جواب دینے سے گریزاں ہیں

مقتولہ نورمقدم کے والدکے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ کے مطابق ملزم نے ابتدائی بیان میں شادی سے انکار کا کہا لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ مقتولہ کا ملزم کے ساتھ کئی ماہ کے بعد رابطہ ہوا تھا۔

ملزم ظاہر جعفر کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ جن کے مطابق تھیراپی ورکس نامی ادارے کا نام سامنے آنے سے سمجھا جارہا تھا کہ ملزم کو ذہنی مریض بتا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، لیکن ملزم اسی ادارے میں لیول فور کا کاؤنسلنگ ماہر تھا اور اسلام آباد کے مہنگے اسکولوں کے بچوں کی کاؤنسلنگ کررہا تھا۔

پولیس کے ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کے لیے بھی یہ چیز حیران کن ہے کہ اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل شدید نفرت کے تحت کیا جاتا ہے۔

تفتیش کار کے مطابق عموماً اس انداز میں قتل کرنے والے یا تو ذہنی مریض ہوتے ہیں جو مقتول کو تکلیف دے کر لطف حاصل کرتے ہیں یا پھر شدید نفرت یا انتقامی جذبے کے تحت کی جانے والی قتل کی واردات میں ایسی سفاکی دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن اب تک ملزم جو وجوہات بتا رہا ہے وہ قتل کے اس انداز سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اُن کے بقول اس قتل کے بارے میں ملزم کے والدین کا رویہ بھی حیران کن رہا ہے جن کے ساتھ ملزم کا رابطہ رہا کیوں کہ قتل سے پہلے انہیں آنے والی ٹیلی فون کال کے بعد انہوں نے تھیراپی ورکس کو تو کال کی لیکن خود بیٹے کو کال نہیں کی۔ البتہ قتل کے بعد ملزم نے پہلی کال والد کو کی جنہوں نے اپنے ایک دوست کو موقع پر جانے کا کہا۔

ملزم نے بعد میں والد کے دوست سے ٹیلی فون پر بات کی۔اس دوران وہ اپنے دوستوں سے بھی ٹیلی فون پر بات کرتا رہا۔

اس کیس میں اہم سوال نور مقدم اور ظاہر جعفر کے دوستوں کے کردار کا بھی ہے جو سوشل میڈیا پر ان دونوں کے بارے میں مختلف بیانات تو دے رہے ہیں لیکن پولیس کو کوئی بیان نہیں دے رہے۔

پولیس نے ظاہرجعفر کا فون ریکور کرنے کے بعد اس میں ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی ہے اور اب بہت سے دوستوں کو بلایا جا رہا ہے۔ ان میں خاص طور پر ان دوستوں کو بلایا جا رہا ہے جنہیں ظاہرجعفر نے کال کی یا پھر وہ ظاہر کو کالز کرتے رہے۔

مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو مل چکی ہے لیکن کئی سوالات کے جواب حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہی ملیں گے۔ جس کا پولیس انتظار کررہی ہے۔ فرانزک لیبارٹری لاہور سے اس بارے میں رپورٹ آئندہ چند روز میں آنے کا امکان ہے

ملزم کی ذہنی صحت سے متعلق تھیراپی ورکس کو سیل کر کے وہاں کی انتظامیہ سے تفتیش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جس وقت ملزم کو گرفتار کیا گیا وہ اس وقت کسی نشے کے زیر اثر نہیں تھا اور مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھا۔ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے جس کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

ملزم ظاہر جعفر کو ہفتے کے روز دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ملزم کے وکیل انصر نواز ملک نے ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے۔ تمام ریکوری ہو چکی اب مزید ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔ جس پر مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 40 گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے۔ جس میں اس کیس سے جڑے مزید کردار سامنے آئے ہیں اور ایسے میں پولیس کو مزید ریمانڈ کی ضرورت ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شعیب نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے


پاکستان کے دفتر خارجہ کا کینیڈا کے سابق سفارت کار کے افغان امن عمل سے متعلق بیان پر سخت مذمت

 


پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کینیڈا کے سابق وزیر اور سفارت کار کرس الیگزینڈر کے افغان امن عمل سے متعلق پاکستان اور وزیر اعظم عمران کے کردار سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔

کرس الیگزینڈر نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں عمران خان پر طالبان کے مؤقف کو فروغ دینے کا سنیگن الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پر تعزیرات عائد ہونی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں قابلِ افسوس ہیں جب دنیا پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ مؤقف کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کا حل ایک جامع سیاسی تصیفے کے ذریعے وسیع حکومت کی ضرورت ہے

ترجمان زاہد حفیظ نے مزید کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ کینیڈا کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم نےکینڈئن حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان کےبقول پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس مہم کو روکیں۔

یادرہے کہ الیگزینڈر ماضی میں افغاستان میں کینڈا کے سفیر کے کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور قبل ازیں بھی وہ پاکستان کے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں تنقید کرتے رہے ہیں ۔ ان کا تازہ بیان بیا ن ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا جب دوسری جانب طالبان کی کاروائیوں میں شدت دیکھی جارہی ہے اور افغانستان کے بعض جنوبی شہروں کو کنڑول حاصل کرنے کے لیے افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے ۔

افغان حکومت کے بعض ر ہنما پاکستان پر الزام عائد کررہے ہیں کہ پاکستان طالبان کی مدد کررہا ہے۔ افغانستان کے نائب صر امراللہ صالح نے بھی اتوار کو پاکستان پر طالبان کی کھل کر حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔

لیکن پاکستان ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں غیر جانبدار ہے اسلام آباد کسی فریق کا حامی نہیں ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم کے سامنے آنے والے مختلف بیانات میں عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قراردینے باعث افسوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کس طور افغانستان کے صورتحال کا ذمہ دار نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان جو کچھ کررہے ہیں پاکستان اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کےبقول پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کوششوں کی حمایت کی ہے۔

الیگزینڈر نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اعطم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او ر پاکستان کے دفتر خارجہ کے موقف کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار یتے ہوئے انہیں ان تمام لوگوں کی توہین قرار دیا ہے جو افغانستان کے امن و استحکام کے کام کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے صدر امر اللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں کینڈا کے سابق وزیر کے ٹوئٹ سراہتے ہوئے کہا کہ الیگزینڈر نے ان دسیوں لاکھوں افغانوں او ر لاکھوں سابق خاموش مغربی ممالک کے فوجیوں کی طرف سے بات کی ہے۔ جن کی سفارت کار اور سرکاری سطح پر کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔