Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

امریکی تعلیمی اداروں میں نسلی بنیاد

 

مریکی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک فیصلے کے تحت اعلی امریکی تعلیمی اداروں میں نسلی تنوع کے اعتبار سے داخلے کے لئے جاری کئے گئے ‘ایفرمیٹو ایکشن’ کو مسترد کر دیا ہے ، اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ جس پالیسی کے تحت امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے طلباء کو نسلی بنیاد پر جو رعایت مل رہی تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے، اور اب اعلیٰ تعلیم کے امریکی اداروں کو اپنے طلباء میں نسلی تنوع پیدا کرنے کے کچھ نئے طریقے ڈھونڈنے ہونگے ۔

'ایفرمیٹیو ایکشن' وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے طلبا کے درمیان نسل، رنگ اور قومیت کی بنا پرامتیاز کو روکا جاتا ہے اور کالجوں میں تنوع کے لیے نسلی بنیاد پر درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس کی موجودہ شکل کا استعمال پہلے پہل صدر کینیڈی کے ایگزیکیٹیو آرڈر کے تحت 1961 میں کیا گیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں میں ایفرمیٹیو ایکشن پروگرام کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو طلباء معیار پر پورے نہیں اترتے انہیں نسل کی بنیاد پر معیار پر پورا اترنے والے طلبا پر ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کالج نسلی تنوع سے مضبوط ہوتے ہیں چنانچہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا امریکہ ایک نظریہ ہے، امید اورمواقع کا۔ ہمیں آگے بڑھنے کے نئے راستے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ میں امتیاز اب بھی موجود ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت ہے چنانچہ تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت کے اس فیصلے نے ہارورڈ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا میں جو امریکہ کے قدیم ترین تعلیمی ادارے ہیں، داخلوں کا یہ طریقہ روک دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے فیصلے کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے "سختی سے۔۔۔سختی سے" اختلاف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا،"انہیں اپنا یہ وعدہ ترک نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ طلباء تنظیموں میں متنوع پسِ منظر اور ایسے تجربے کو یقینی بنائیں گے جو پورے امریکہ کی عکاسی کرے۔"

فیصلہ سناتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک امریکہ میں یونیورسٹیز نے غلط طور پر یہ طے کئے رکھا کہ 'کسی فرد کو اس کی بہترین صلاحیت یا تعلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی جلد کی رنگت کی بنیاد پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 'ہماری آئینی تاریخ اس بے انصافی کو برداشت نہیں کر سکتی'۔

سٹس کلیرنس تھامس امریکی سپریم کورٹ کے دوسرے سیاہ فام جج ہیں، اور ایک طویل عرصے سے ‘ایفرمیٹو ایکشن’ کو ختم کرنے کے حامی ہیں، انہوں نے ایک الگ نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ فیصلہ یونیورسٹیوں کی ایڈمیشن پالیسیوں کو ویسے ہی دیکھتا ہے، جیسی کہ وہ ہیں، یعنی ، مبہم اور نسلی بنیاد پر دی جانے والی ترجیحات ، تاکہ یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی اداروں میں ایک خاص طریقے کا نسلی تنوع پیدا ہو’۔

جسٹس سونیا سوٹو مائیرنے , جو ہسپانوی پس منظر رکھتی ہیں، اس فیصلے پر اپنا اختلافی نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے عشروں کی مثالی اوراہم پیش قدمی کو ختم کردیا گیا ہے۔

جسٹس تھامس اور سوٹو مائیر دونوں نے، جو یہ واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ افرمیٹو ایکشن نے لا کالج میں ان کے اپنے داخلے میں کردار ادا کیا تھا ، کمرہ عدالت میں اپنے نوٹ پڑھ کر سنائے۔ عام طور پر اختلافی نوٹ سپریم کورٹ میں پڑھ کر سنائے نہیں جاتے۔

فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے پہلی سیاہ فام خاتون جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن نے کہا،"یہ ہم سب کے لیے ایک المیہ ہے"

کیٹانجی براؤن اس فیصلے میں بیٹھی بھی نہیں کیونکہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایڈوائیزری گورننگ بورڈ میں شامل ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر کیون میکارتھی نے ٹوئٹ کیا کہ " اب طلباء برابری کے معیار اور انفرادی میرٹ کی بنیاد پر مقابلہ کر سکیں گے۔ اس سے کالج میں داخلے کے عمل کو منصفانہ بنایا جائے گا اور قانون کے تحت مساوات کو برقرار رکھا جائے گا۔"

امریکہ کے دو سابق صدور نے اس بارے میں انتہائی مختلف نکتہ نظر بیان کیا ہے۔

سابق امریکی صدر اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ"کسی بھی پالیسی کی طرح، ایفرمیٹوایکشن بہترین نہیں تھا۔ لیکن اس نے مشیل اور مجھ جیسے طالب علموں کی نسلوں کو یہ ثابت کرنے کا موقع دیا کہ ہم بھی سب کا حصہ ہیں۔ اب یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کریں جس کے وہ مستحق ہیں۔ "

سابق صدر ٹرمپ نے اسے امریکہ کیلئے ایک عظیم دن قرار دیا اور کہا،"ہم تمام تر میرٹ کی بنیاد پر واپس آرہے ہیں۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے!"

امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، جمعرات کو صبح دس بجے کے قریب سنایا گیا۔ اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سپریم کورٹ کے باہر شہریوں کی بھیڑ جمع تھی۔

ہائی سکول کی ایک طالبہ کیٹ نینالہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں کالج میں داخلے کے لئے کسی کی نسل کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔

ایک اور طالبہ ایلس ویلچ کا کہنا تھا کہ کسی کی نسلی شناخت سے یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ وہ اچھا کام کرے گا، اچھا طالبعلم ثابت ہوگا یا کالج کے تعلیمی ماحول میں کامیابی حاصل کرے گا، اور اس بات سے یہ بھی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ کس طالبعلم کو کس کالج میں جانا چاہئے۔

لیکن سپریم کورٹ کے باہر موجود کئی لوگوں کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کالج اور یونیورسٹیوں کی خود کو متنوع رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ریاست اوریگن کے ایک فلاحی تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر کرسٹوفر بینکس اس فیصلے پر افسردہ نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے امریکہ میں نوجوانوں کے لئے مواقعے محدود ہوجائیں گے۔

پولز کے مطابق امریکی شہریوں کی رائے اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کی تقریبا نصف بالغ آبادی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر داخلوں کی مخالف ہے، جبکہ ایک تہائی آبادی اس پالیسی کو اپنائے رکھنے کے حق میں ہے۔

اب آپ ایک دن میں کتنے ٹویٹ دیکھ سکتے ہیں؟

 

ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹوئٹر پر صارفین دن میں کتنے ٹویٹ پڑھ سکتے ہیں، اس کی ایک عارضی حد مقرر کی گئی ہے۔

انھوں نے اپنے ہی ٹویٹ میں بتایا کہ غیر مصدقہ اکاؤنٹ اب سے دن میں صرف ایک ہزار پوسٹیں پڑھ سکیں گے۔ جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹس کے لیے یہ حد 500 ہوگی

البتہ فیس دے کر بلیو ٹک حاصل کرنے والے مصدقہ اکاؤنٹس دن میں 10 ہزار ٹویٹ پڑھ سکیں گے۔

 ٹوئٹر کے مالک نے ابتدائی طور پر ان حدود کو سخت رکھا مگر اعلان کے کچھ دیر بعد ان میں رد و بدل کیا۔

 وہ کہتے ہیں کہ عارضی حد بندی کا مقصد ’ڈیٹا سکریپنگ (کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ویب سائٹ سے معلومات لینا) اور سسٹم مینی پولیشن (نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) کی انتہائی بلند سطح‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔‘

 انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے کس سیاق و سباق میں سسٹم مینی پولیشن کا ذکر کیا ہے۔

ایلون مسک نے جمعے کو کہا کہ ’ڈیٹا کی چوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ عام صارفین کے لیے بھی سروس خراب ہونے لگی تھی۔‘ اس دوران صارفین سے ٹوئٹر کا مواد دیکھنے کے لیے دوبارہ لاگ ان کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

 

اس اقدام کو ’عارضی ہنگامی اقدام‘ کہا گیا ہے۔

 

یہ واضح نہیں کہ ڈیٹا سکریپنگ سے مسک کا کیا مطلب ہے تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیاں اپنے نظام یا لینگویج ماڈل کو بہتر کرنے کے لیے معلومات جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی معلومات کے ذریعے اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور گوگل بارڈ جیسے چیٹ باٹ کام کر پاتے ہیں۔

 

عام الفاظ میں ڈیٹا سکریپنگ سے مراد ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنا۔ بڑے لینگویج ماڈل کو مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے اصل انسانوں کی گفتگو سے سیکھنا پڑتا ہے۔

 

لیکن کسی چیٹ باٹ کی کامیابی کا راز اس کے معیار میں ہے۔ ریڈ اِٹ اور ٹوئٹر کے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ انھی وسائل سے اے آئی کمپنیاں اپنی سروسز کو بہتر بناتی ہیں

 

مگر ٹوئٹر اور ریڈ اِٹ جیسے پلیٹ فارم چاہتے ہیں کہ انھیں اس ڈیٹا کے بدلے ادائیگی کی جائے۔

 

اپریل میں ریڈ اِٹ کے سربراہ سٹیو ہفمین نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے اقدام سے ناخوش ہیں۔ ’ریڈ اِٹ کا ڈیٹا بہت قیمتی ہے۔ لیکن ہم یہ قیمتی ڈیٹا دنیا کی بڑی کمپنیوں کو مفت میں نہیں دینا چاہتے۔‘

 

اپنی سروس اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) تک رسائی کے لیے ٹوئٹر نے پہلے ہی صارفین سے رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کوئی ایپ، محقق یا اے آئی کمپنی ٹوئٹر کے مواد سے متعلق معلومات لے سکتی ہے۔

 

 

اس اقدام کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

 

مسک لوگوں کو ٹوئٹر بلیو میں شمولیت کا کہہ رہے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی وہ سروس ہے جس میں پیسے دے کر ایک شخص بلیو ٹک اور مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا ماڈل لا رہے ہوں جس میں ٹوئٹر کی مکمل سروس کے لیے صارفین کو پیسے دینا پڑیں اور اسی صورت انھیں لامحدود پوسٹوں تک رسائی مل سکے۔

 

مسک کے آنے سے قبل ٹوئٹر کا بلیو ٹک صرف معروف شخصیات کو مل پاتا تھا۔ اب محض آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا صارف کی پروفائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

ویب سائٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ٹول ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق برطانیہ اور امریکہ میں سنیچر کو ٹوئٹر تک رسائی میں ہزاروں صارفین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اس سے قبل مسک نے اعلان کیا تھا کہ مصدقہ اکاؤنٹ دن میں چھ ہزار، غیر مصدقہ 600 جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹ دن کی 300 پوسٹیں ہی دیکھ سکیں گے۔ مگر پھر مسک نے یہ حدیں بڑھا دیں۔

 

مسک کا خیال ہے کہ سینکڑوں ادارے ٹوئٹر کا ڈیٹا انتہائی تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر اس کا بوجھ ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اچانک بہت زیادہ سرورز کا بندوبست کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سرور اس بڑے کمپیوٹر کو کہا جاتا ہے جہاں صارفین کی فائل اور ویب پیج محفوظ ہوتے ہیں۔

 

برطانوی ماہر ایڈم لیون سمتھ نے کہا کہ یہ اقدام ’کافی غیر معمولی‘ ہے کیونکہ صارفین کی مواد تک رسائی محدود ہونے سے کمپنی کی اشتہاروں سے ہونے والی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔

 

مسک نے گذشتہ سال 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کو خرید لیا تھا۔ وہ سابقہ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

 

انھوں نے آتے ہی قریب آٹھ ہزار کے عملے کو کم کر کے 1500 کر دیا تھا۔ . کو دیے انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ عملے کو نوکریوں سے نکالنا آسان نہیں تھا۔

 

ٹوئٹر کے کئی انجینیئروں کو فارغ کیا گیا جس نے پلیٹ فارم کے موجودہ استحکام پر سوال اٹھائے ہوئے ہیں۔

 

اگرچہ مسک نے اس کے نظام میں خامیوں کو تسلیم کیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ٹوئٹر کی بندشیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہیں اور اب ویب سائٹ صحیح کام کر رہی ہے۔

امریکہ کا دیوالیہ ہونا



امریکی حکومت اس وقت تاریخ کا سب سے اہم اور پرخطر داؤ کھیل رہی ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز امریکہ کو مزید قرض لینے کی اجازت نہیں دیتے یا سادہ الفاظ میں قرض حاصل کرنے کی بالائی حد میں مزید اضافہ نہیں کرتے تو 31.4 کھرب ڈالرز کی مقروض دنیا کی سب سے بڑی معیشت دیوالیہ ہو جائے گی۔

امریکہ کو دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے یکم جون تک قرض کی حد بڑھانے سے متعلق حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتے ہیں تو امریکی چانسلر جرمی ہٹ کے بقول اس کے اثرات ’بہت تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

مگر امریکہ کو درپیش اس صورتحال کا امریکی و عالمی معیشت اور آپ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

معیشت پر اثرات

ماہرین نےبتایا کہا کہ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ امریکہ قرض کی وجہ سے دیوالیہ نہیں ہو گا۔

تاہم اگر ایسا ہو جاتا ہے تو انوسٹمنٹ بینک پانمور گورڈن کے چیف اکنامسٹ سائمن فرنچ سنہ 2008 میں عالمی سطح پر بینکنگ کی شعبے میں بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’تو یہ عالمی معاشی بحران کو ایک ٹی پارٹی بنا دے گا۔‘

اگر امریکہ اپنے قرض حاصل کرنے کی حد کو نہیں بڑھاتا تو وہ مزید قرض نہیں کر سکے گا اور اس کے بعد اسے حکومت کے خرچے پر اپنی عوام کو دی جانے والی مراعات، سہولیات اور دیگر ضروری ادائیگیوں کے لیے پیسوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اے جے بیل میں انوسٹمنٹ ڈائریکٹر روس مولڈ کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں امریکہ لوگوں کو ویلفیئر کے تحت رقوم کی ادائیگی بند کر دے گا اور لوگوں کی مالی مدد روک دی جائے گی جو ان کی خرچ کرنے کی صلاحیت اور اپنے بلوں کی ادائیگی کو متاثر کرے گی، لہذا اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔‘

وائٹ ہاؤس کی اقتصادی امور کے مشیروں کی کونسل نے تخیمنہ لگایا ہے کہ اگر طویل عرصے تک حکومت قرض حاصل کرنے کی حد بڑھانے کے کسی معاہدے ہر نہیں پہنچتی تو اس سے امریکی معیشت اپنے موجودہ حجم سے 6.1 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی میں کوئنز کالج کے صدر اور ماہر اقتصادی امور محمد ال ایرین کا کہنا ہے کہ ’دیوالیہ پن شاید امریکی کسادبازاری کا صرف نقطہ آغاز ہو۔‘

جس کے امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار یعنی برطانیہ سمیت دنیا بھر پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس صورت میں یہ دنیا بھر سے کم چیزیں خریدے گا۔‘

ال ایریان نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں کساد بازاری برطانیہ میں بھی معیشت کو سست کر دے گی لیکن سائمن فرنچ کو اس کا ’100 فیصد‘ یقین ہے۔

شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا دیوالیہ ہونا نہ صرف تجارت کو نقصان پہنچائے گا بلکہ برطانیہ میں رہن کی شرح سود میں بھی مزید اضافہ کرے گا اور اس سے برطانیہ میں بے روزگاری میں اضافہ بھی سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کافی تباہ کن ہو گا۔‘

لیکن امریکہ میں معاشی مسائل برطانیہ میں گھر کے لیے جانے والے قرضوں کو مزید مہنگا کیوں کریں گے؟

جو کوئی حکومت مزید قرض لینا چاہتی ہے تو وہ مارکیٹ میں ایک بانڈ یا آئی او یو جاری کرتی ہے۔ امریکہ میں اس قسم کے حکومتی بانڈ کو ٹریریئری بانڈ کہا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں اسے گلٹ کہتے ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ دار حکومت سے گلٹ یا ٹریرئیری بانڈ خریدتا ہے تو وہ حکومت سے اس پر سود وصول کرتا ہے۔

سائمن فرنچ کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکی حکومت اپنا قرض واپس نہ کر سکے یا حتی کہ اس پر سود کی رقم کی ادائیگی بھی نہ کر سکے تو سرمایہ کار اس کو دیکھتے ہوئے کہیں گے کہ اگر امریکہ دیوالیہ ہو سکتا ہے تو برطانیہ بھی ہو سکتا ہے۔

ایسے میں سرمایہ کار برطانیہ کے قرض کے لیے جاری کردہ گلٹ کو خریدتے وقت زیادہ شرح سود کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’قرض پر شرح سود میں اضافہ ، چاہے یہ رہن کا قرض ہو یا دوسرا قرض، وہ (سرمایہ دار) اس میں حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اور معاشی صورتحال اور ممکنہ دیوالیہ ہونے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حصے ضرور لیں گے۔ لہذا تما تر قرض کی سہولیات راتوں رات بہت مہنگی ہو جائیں گی۔


ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات

 

ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پر 16 کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ خرچہ آیا

برطانیہ کی وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات اور سوگ کے دوران ہونے والی دیگر تقریبات پر حکومت کو تقریباً 16 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ تک کے اخراجات آئے۔

ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات ان کی وفات کے 11 روز بعد 19 ستمبر 2022 کو ادا کی گئی تھیں۔

اس دورانیے میں میں ہزاروں افراد نے ویسٹ منسٹر ایبے جا کر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے سات کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈ جبکہ محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل نے پانچ کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے۔

حکومتی محکموں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات ملکہ کی آخری رسومات اور اس سے قبل دیگر تقریبات کی مد میں آئے۔

وزارتِ خزانہ کے چیف سیکریٹری جان گلین کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کی ترجیح یہی تھی کہ ’تمام تقریبات پرسکون انداز میں ہوں اور انھیں پروقار انداز میں کیا جائے جبکہ ساتھ ہی عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔‘

پارلیمان میں جمع کروائے گئے بیان میں جان گلین کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے جہاں تک ہو سکتا تھا اضافہ فنڈنگ بھی دی اور سکاٹس، ویلش اور شمالی آئرلینڈ کی حکومتوں کو اخراجات کی مکمل واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔

اس حوالے سے آنے والے اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل – 57.42 ملین پاؤنڈ

محکمہ ٹرانسپورٹ – 2.565 ملین پاؤنڈ

محکمہ خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ – 2.096 ملین پاؤنڈ

محکمہ داخلہ – 73.68 ملین پاؤنڈ

محکمہ دفاع – 2.890 ملین پاؤنڈ

شمالی آئرلینڈ آفس – 2.134 ملین پاؤنڈ

سکاٹش حکومت – 18.756 ملین پاونڈ

ویلش حکومت – 2.202 ملین پاؤنڈ

مجموعی اخراجات – 161.743 ملین پاؤنڈ


برطانیہ میں ملکہ الزبتھ دوم کی 96 برس کی عمر میں وفات کے بعد 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

ملکہ کے تابوت کو ایڈنبرا میں سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں 24 گھنٹے کے لیے رکھا گیا تھا جس کے بعد اسے لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے میں لے جایا گیا تھا، جہاں ہزاروں سوگواران نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

فٹبالر ڈیوڈ بیکم سمیت لندن میں ہزاروں افراد دن کے ہر گھنٹے میں سخت ٹھنڈ میں بھی ویسٹ منسٹر ایبے کے باہر جمع ہوتے رہے۔

کئی مرتبہ انتظار کا دورانیہ 24 گھنٹے سے بھی زیادہ تھا اور قطار 11 کلومیٹر طویل۔ ریاست کی جانب سے کیے گئے آخری رسومات کے انتظامات نے پولیس کو ’برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن‘ کرنے پر مجبور کیا۔

دنیا بھر کے رہنماؤں اور غیرملکی شاہی خاندان ویسٹ منسٹر ایبے میں آخری رسومات کے لیے برطانوی شاہی خاندان کا ساتھ دینے کے لیے شریف ہوئے۔

اس دوران امریکی صدر جو بائیڈن، اس وقت کی برطانوی وزیرِ اعظم لز ٹرس ان دو ہزار افراد میں شامل تھے جو وہاں موجود تھے۔

اس کے لیے ان رسومات کو کروڑوں افراد نے برطانیہ اور دنیا بھر میں اپنی ٹی وی سکرینز پر دیکھا۔ یہ سر ونسٹن چرچل کی 1965 میں وفات کے بعد سے ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی پہلا جنازہ تھا۔

بکنگھم پیلس کے مطابق اس دوران آنے والے اخراجات ان تقریبات کو اچھے انداز میں تکمیل تک پہنچانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش تھی کہ برطانیہ اور دنیا بھر سے افراد محفوظ انداز میں اس میں شریک ہو سکیں۔

حکومتی ترجمان کے مطابق ’ظاہر ہے یہ بین الاقوامی حیثیت کی حامل تقریب تھی اور ہم چاہتے تھے کہ لوگ آ کر خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔‘

امریکہ میں کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی کےلیے قانون سازی کی تیاری

 

امریکی سینیٹر کیٹی برٹ نے کہا ہے کہ جب وہ الاباما میں گھر پر ہوتی ہیں تو وہ مسلسل      سنتی رہتی ہیں کہ اسکول ٹریک میٹنگز ہیں ، باسکٹ بال ٹورنامنٹس ہونا ہے اور دوستوں کے ساتھ صبح کی اپنی معمول کی سیر پر جانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گزشتہ سال سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ رہی تھیں، تو ان کے پاس والدین آتے تھے اور کہتے تھے کہ سوشل میڈیا ان کے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور وہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

ایک 13 سالہ اور ایک 14 سالہ بچے کی ماں کے طور پر ، برٹ اپنے گھر میں بھی اس مسئلے پر غور کرتی ہیں۔

برٹ کہتی ہیں کہ بس بہت ہو گیا ، اب کچھ کرنے کا وقت ہے ۔ ریپبلکن سینیٹر برٹ نے پچھلے ہفتے تین دیگر سینیٹرز کے ساتھ مل کر دو جماعتی قانون سازی متعارف کروائی ہے تاکہ تمام چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن بہتر حفاظت کی کوشش کی جا سکے۔

کنیکٹی کٹ کے سین کرس مرفی بھی 11 سالہ اور 14 سال کے بچے کے باپ کے طور پر خود ہی اس مسئلے سے نمٹتے ہیں۔ مرفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کا عروج دیکھا ہے، جب کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران احمقانہ ویڈیوز انہیں خوشی دیتی تھیں۔ لیکن انہوں نے اس کا زوال بھی دیکھا ہے ، اور وہ ایسے بچوں کو جانتے ہیں کہ جو اب آن لائن دنیا کے تاریک گوشوں میں جا چکے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے مرفی کہتے ہیں مجھے بس اب ایسا لگتا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں کچھ نہ کرنا ٹھیک نہیں ہےاور کانگریس کے اکثر اراکین جب گھر جاتے ہیں، تو وہ اپنے حلقوں میں پہلا یا دوسرا مسئلہ جو سنتے ہیں وہ یہی ہے ۔

ہوائی کے ڈیمو کریٹ سینیٹر برائن شاٹز ،اور آرکنسا کے ریپبلکن ٹام کاٹن کے ساتھ مل کر برٹ اور مرفی نے جو قانون سازی متعارف کرائی ہے۔ وہ 13 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابند ی لگاتی ہے اور اس کے تحت 18سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے اپنے سرپرست سے اجازت درکار ہوگی۔

اگرچہ یہ کانگریس کی ان متعدد تجاویز میں سے ایک ہے جو بچوں اور نوعمر افراد کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں، تاہم چاروں سینیٹرز نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک مشترکہ انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان لاکھوں امریکی والدین کے نمائندے ہیں جو اس بارے میں سخت پریشان ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان کے بچوں کو کیا فراہم کر رہی ہیں۔

دو جماعتی بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے - اور جب کہ واشنگٹن میں یہ کمپنیاں برسوں سے سخت ریگولیشن سے محفوظ رہی ہیں۔ یوٹاہ اور آرکنساجیسی کچھ ریاستوں نے اپنے قوانین بنائے ہیں، جنہوں نے وفاقی سطح پر اس سے بھی بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

ایک اور بل جو بدھ کو میسا چوسیٹس کے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی، اور لاس اینجلس کے ریپبلکن ، سینیٹر بل کیسیڈی کی طرف سے پیش کیا گیا، بچوں کی آن لائن رازداری کے تحفظ کو بڑھائے گا۔ کمپنیوں کو کم عمر نوجوانوں کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنے سے منع کرے گا اور بچوں اور نوعمروں کے مخصوص گروپس کو ہدف بنانے والے اشتہارات پر پابندی لگائے گا۔

ہاؤس انرجی اینڈ کامرس کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس بھی ایک زیادہ وسیع آن لائن پرائیویسی بل پر کام کر رہے ہیں جو بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول دے گا۔

دوسرے بلوں کا مقصد ٹک ٹاک پر پابندی لگانا یا حکومت کو غیر ملکی ملکیت والے پلیٹ فارمز کا جائزہ لینے کے لیے مزید اختیارات دینا ہے جنہیں ممکنہ سیکیورٹی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

صنعتی گروپوں نے بچوں کی حفاظت کے بلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حد سے تجاوز کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قواعد کے نتائج برعکس بھی برآمد ہو سکتے ہیں اور کچھ نوجوانوں کو خاص طور پر خودکشی یا ایل جی بی ٹی کیو جیسے مسائل پر مددگار وسائل تلاش کرنے سے روک سکتے ہیں۔

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں

 




                                                کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں  

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے دو سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے پابندیاں لگائیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا، قابض افواج نے ماورائے عدالت قتل، کشمیریوں کے گھر نذر آتش کیے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے کی انتہا کررکھی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج پورے پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا ، اس موقع پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئے ٹریفک بند ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کے حوالے بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے اپنی جانیں قربانیاں دیں، مجھے پورا یقین ہے ایک دن کشمیر کشمیریوں کا ہو گا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارشروع کردی گئی ہے، لوگوں کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ،یہ کمپیوٹر کا دور ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کوانٹرنیٹ کی سہولت سےمحروم کیاگیا۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ آج پورےپاکستان میں یوم استحصال کشمیرمنایا جائے گا، یوم استحصال پرصبح 9بجےایک منٹ کے لئےٹریفک بندہوگی، آج سے2سال قبل5اگست کوکشمیرمیں مودی نےعذاب مسلط کیا، بھارتی یکطرفہ اقدامات کیخلاف پاکستانی قوم جذبات کااظہارکرےگی  

پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار

 



 پاکستان سے باہر کےلوگوں کے  تعاون اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار تیار کر لی گئی ہے۔  اس کار کا پروٹوٹائپ تیار ہو چکا ہے اور چار ماہ بعد منظرعام پر لایا جائے گا، جس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی جائے گی اور گاڑی 2023ءمیں پاکستانیوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

یہ ’میڈ اِن پاکستان‘ الیکٹرک کار امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں پر مشتمل تنظیم ’ڈائس فاﺅنڈیشن‘ کے پاکستان میں چلائے جانے والے 4میگاپراجیکٹس میں سے ایک ہے۔ ان پراجیکٹس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار تیز تر کرنا ہے۔ ڈائس فاﺅنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی کا کہنا ہے کہ اس الیکٹرک کار کے لیے بیٹری پیک بھی پاکستان ہی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کی ڈیزائننگ اور فیبریکیشن کا عمل آئندہ دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا