Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

63 ہزار ڈالر سے زائد میں فروخت ہونے والا مائیکرو سکوپ سے دیکھا جانے والا ننھا سا بیگ

 

نمک کے زرے سے بھی چھوٹا مائیکرو سکوپ کی مدد سے دیکھا جانے والا ہینڈ بیگ ایک نیلامی میں 63 ہزار سات سو پچاس ڈالر میں فروخت ہوگیا ہے۔

اس ننھے بیگ کو دیکھنے کے لیے ایسی خصوصی خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے، جس کی پیمائش صرف 657 x 222 x 700 مائیکرو میٹر ہے۔

آرٹ کا یہ بہترین شاہکار نیویارک میں فن پاروں کے معروف آرٹ گروپ مسچف (MISCHF) کی ملکیت تھا جو اپنے فن پاروں کی نیلامی بھی کرتے ہیں۔

نیلام گھر کے مطابق اس فن پارے کا حجم اتنا چھوٹا ہے جسے سوئی کے سوراخ سے بآسانی گزارا جا سکتا ہے۔

جب ہی اس مختصر ترین پرس کو دیکھنے کے لیے آپ کو ایک خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔

مسچف آرٹ گروپ عجیب و غریب ڈیزائنز پر منبی فن پاروں کے باعث مشہور ہے۔

آرٹ گروپ کی کلیکشن میں ایسے نادر جوتے بھی شامل ہیں جن کے تلوے میں انسانی خون کا قطرہ موجود ہوتا ہے جبکہ ایک ایسا کولون بھی ہے جس کی بو WD-40 جیسی ہوتی ہے جبکہ ربڑ کے لال بڑے بوٹ بھی انوکھی کلیشن کا حصہ ہیں۔

اس بار مسچف نے چھوٹے ہینڈ بیگز کے فیشن کو سامنے رکھ کر اس کی انتہا تک جانے کا فیصلہ کیا۔

آرٹ گروپ نے بیگ کے بارے میں اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بڑے ہینڈ بیگ، نارمل ہینڈ بیگ اور چھوٹے ہینڈ بیگز ہیں لیکن یہ بیگ چھوٹے سائز کی حتمی شکل ہے۔

اس بیگ میں لگژری ہینڈ بیگ ڈیزائنر لوئی ویتوں کی برانڈنگ ہے تاہم اس کا برانڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

اس بیگ کو بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو اکثر چھوٹے میکنیکل ماڈلز اور سٹرکچر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سائنس اور نیچر کے میگزین ’سمتھ سونین‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس ننھنے بیگ کو بنایا جا رہا تھا تو برانڈ کی طرف سے جائزہ لینے کے لیے بھیجے گئے کچھ چھوٹے بیگ کے نمونے اتنے چھوٹے تھے کہ وہ آرٹ گروپ کی ٹیم سے کھو گئے۔

تاہم اس نایاب آرٹ پیس کا کھو جانا نئے بیگ کے مالک کے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خریداری میں ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ ایک خوردبین بھی شامل تھی۔

ڈیجیٹل ڈسپلے کے ساتھ یہ خصوصی خوردبین آن لائن خریدی جا سکتی ہے، جس کی قیمت 60 ڈالر سے 10 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

نیلامی کی سائٹ نے مائیکروسکوپ کی قیمت بیگ سے الگ نہیں درج کی۔ اس نایاب آئٹم کے لیے بولی 15 ہزار ڈالر سے شروع ہوئی۔

بیگ پر لوئی ویتوں برانڈنگ کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسچف کے چیف کری ایٹیو آفیسر کیون ونسر نے اس ماہ کے شروع میں نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ گروپ نے برانڈ سے اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’جس کام کی اجازت نہ ملنے کا اندیشہ ہو بہتر ہے وہاں کام کر گزریں اور بعد میں معافی مانگ لیں۔

واضخ رہے کہ مسچف کے خلاف 2021 میں جوتے اور سپورٹس کا سامان بنانے والے بین الاقوامی برانڈ نائیکی نے انسانی خون والے جوتوں کی فروخت کا مقدمہ جیتا تھا۔

نائیکی کا مؤقف تھا کہ اس کے جملہ حقوق چوری ہوئے ہیں۔ کمپنی نے نیو یارک کی ایک عدالت میں ان جوتوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور ساتھ ہی عدالت سے ان جوتوں کی فروخت کو روکنے کی بھی درخواست کی تھی

گوگل برڈ آرٹی فیشل انٹیلیجینٹس کیا یے

 



𝙂𝙤𝙤𝙜𝙡𝙚 𝘽𝙖𝙧𝙙 𝘼𝙄

گوکل برڈ  ایک ناقابل یقین حد تک طاقتور ٹول ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹرز کو اعلیٰ معیار کا مواد تخلیق کرنے، گاہکوں کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے مشغول ہونے، کسٹمر کے رویے کے بارے میں قیمتی بصیرت حاصل کرنے، اور وقت بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔ جیسا کہ AI ٹیکنالوجی کا ارتقاء جاری ہے، 𝘽𝙖𝙧𝙙 بلاشبہ ان کاروباروں کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ٹول بن جائے گا جو تیزی سے ڈیجیٹل دورکے منظر نامے میں آگے رہنے اور ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں۔

  یہ کس طرح ڈیجیٹل مارکیٹرز کی مدد کر سکتا ہے؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں

𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐧𝐭 𝐂𝐫𝐞𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: ڈیجیٹل مارکیٹرز کو درپیش سب سے اہم چیلنجوں میں سے ایک پرکشش اور اعلیٰ معیار کا مواد بنانا ہے۔ کے ساتھ، مارکیٹرز

آرٹی فیشن ینگویج ماڈل کی فطری لینگویج پروسیسنگ کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھا کرآپ متعلقہ مواد تیار کر سکتے ہیں ۔ یہ مواد مختلف شکلیں لے سکتا ہے، بشمول سوشل میڈیا پوسٹس، بلاگ آرٹیکلز، ای میل نیوز لیٹر وغیرہ۔

𝐂𝐮𝐬𝐭𝐨𝐦𝐞𝐫 𝐄𝐧𝐠𝐚𝐠𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭: 𝐧𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭: 𝐧𝐧𝐭 اس سے ڈیجیٹل مارکیٹرز کو صارفین کے ساتھ زیادہ ذاتی نوعیت کے اور بامعنی انداز میں مشغول ہونے میں مدد مل سکتی ہے، انہیں ان کے سوالات اور خدشات کے فوری اور درست جوابات فراہم کر سکتے ہیں۔

اسکو مختلف ڈیٹا اینالیٹکس ٹولز کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے تاکہ بصیرت، کسٹمر کے رویے، ترجیحات کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔ اس معلومات کو پھر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی مہمات کو بہتر بنانے اور مجموعی کاروباری حکمت عملیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مختلف کاموں کو خودکار کر سکتا ہے، جیسے کہ مواد کی تخلیق اور گاہک کی مشغولیت، مارکیٹرز کے لیے اپنی مہمات کے دیگر اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے وقت نکال کر۔

کینیڈا اور گوگل کی جنگ

 


یس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اور گوگل نے اپنے پلیٹ فارمز پر کینیڈا کی مقامی خبروں کو بلاک کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

گوگل اور میٹا کا یہ اعلان کینیڈا کی جانب سے ملک میں ایک بل منظور کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت دونوں پلیٹ فارمز کو آن لائن مواد کی نشریات کے لیے ادائیگی پر مجبور کرنا ہے۔

ایسی صورتحال میں اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟

کیوبیک میں فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’لا پریس‘ کے صدر پیری ایلیوٹ لیویسیور کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انھوں نے کئی سالوں تک ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ادائیگی کے لیے معاہدوں پر مذاکرات کی کوشش کی۔ ان کے مطابق انھیں یقین ہے کہ ’ٹیک کمپنیاں خبروں اور مضامین کے زور پر ڈیٹا اوراشتہارات کی مد میں ڈالرز کو ہضم کر رہے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا  کو بتایا، ’ سالہا سال سے وہ صاف انکاری ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آن لائن نیوز ایکٹ کے نام سے جانا جانے والا نیا قانون اس رجحان میں کمی لا کر صورت حال میں بہتری لائے گا اور اس سے حاصل ہونے والا فنڈ کاروبار میں لگایا جا سکتا ہے۔

اس نئے قانون کا مقصد گوگل اور میٹا کو خبر رساں اداروں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے طے کرنے پر مجبور کرنا ہے تاہم اگر دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تو ملک کا براڈکاسٹ ریگولیٹر انھیں ثالثی پر مجبور کر سکتا ہے۔

پارلیمانی بجٹ کے آزاد نگران ادارے کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے سالانہ 300 ملین کنیڈین ڈالرز یا 256 ملین امریکی ڈالرز سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے جو ایک عام نیوز روم کو چلانے کے لیے درکار فنڈنگ کا تقریبا 30 فیصد ہے۔

تاہم اس قانون سے معاہدوں کا راستہ کھلنے کے بجائے لا پریس سمیت کینیڈا کی کم و بیش ہر نیوز آرگنائزیشن کو اب ایک ممکنہ بلیک آؤٹ کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیک کمپنیز نے اس قانون پر عمل کرنے کے بجائے اپنے پلیٹ فارمز پر نیوزآرٹیکلز کے لنکس کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میٹا کی جانب سے ابتدا سے ہی اس تجویز کی مخالفت سامنے آتی رہی ہے اور اب اس کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ میں کینیڈا کے صارفین کے لیے اپنی نیوز سائٹس کو بلاک کرنا شروع کر دے گی۔

دوسری جانب گوگل اس سے قبل یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں خبر فراہم کرنے والوں کے ساتھ ادائیگی کے معاہدے کرتا آیا ہے تاہم رواں ہفتے اس نے کینیڈا کے موجودہ قانون کو ’ناقابل عمل‘ قرار دے دیا اور کہا کہ یہ ایکٹ چھ ماہ میں نافذ ہونے کے بعد ملک میں اپنی سرچ سے کینیڈا کی خبروں کے لنکس کو ہٹا دے گا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اسوقت ان کے تقریباً 150 سے زیادہ کینیڈا کے خبر رساں اداروں کے ساتھ معاہدے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اس کی ٹریفک نے نیوز ویب سائٹس کو سالانہ ڈھائی سو ملین کنیڈین ڈالر کمانے میں مدد کی ہے۔

کمپنی نے ادائیگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم مزید کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ہم اسے اس طریقے سے نہیں کر سکتے جس سے ویب اور سرچ انجن کے کام کرنے کے طریقے متاثر ہوں اور مالی اعتبار سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

اس ماہ قانون کے منظور ہونے سے پہلے، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹیک فرمز کی طرف سے خبروں کو بلیک آوٹ کرنے کی ان دھمکیوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل جون میں ان کا کہنا تھا ’حقیقت یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کمپنیاں ادائیگیوں میں منصفانہ حصہ ادا کرنے کے بجائے مقامی خبروں تک کینیڈا کے باشندوں کی رسائی منقطع کر دیں گی۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہےاور اب وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں لیکن یہ کارگر نہیں ہو گا۔

ٹیک انڈسٹری کی تنظیموں نے اس کوشش کا موازنہ ’شیک ڈاؤن‘ سے کیا ہے لیکن لیواسور کہتے ہیں کہ میڈیا میں کوئی بھی اس کا حل نہیں ڈھونڈ رہا۔

ان کےمطابق ’ہم منصفانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا موقع مانگ رہے ہیں تاہم ان کی اجارہ داری کے باعث ایسا ہو نہیں پا رہا۔

تو پھر آخر یہ تنازعہ کیوں کر حل ہو پائے گا

سینٹر فار جرنلزم اینڈ لبرٹی کی ڈائریکٹر کورٹنی راڈش کا کہنا ہے کہ زیرِ بحث رقوم ہر سال ٹیک کمپنیوں کی طرف سے بنائے گئے دسیوں بلین ڈالر کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن یہی رقم صحافت کے لیے نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ گوگل اور فیس بک کو ان خبروں کے لیے ادائیگی کرنی چاہیے جو وہ اپنے پلیٹ فارم پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کے طور پر صحافت کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

کینیڈا نے اپنے اصول کو اس اقدام کے مطابق بنایا جسے آسٹریلیا نے 2021 میں منظور کیا تھا۔ اس قانون نے اسی طرح کے اعتراضات اور مخالفت کو جنم دیا تھا جس نے میٹا کو وہاں پابندی عائد کرنے پر اکسایا۔

تاہم بل میں بعض تبدیلیوں کے بعد دونوں کمپنیوں کے پبلشرز کے ساتھ تقریبا 30 سے زیادہ سودے طے پائے جن کی مالیت 130 ملین ڈالر سے زیادہ کی تھی۔

اس قانون کو تیار کرنے والی آسٹریلیا کی مسابقتی ایجنسی کی قیادت کرنے والے ماہر اقتصادیات روڈنی سمز کا دعویٰ ہے کہ کمپنیاں اس بار بھی ایسا ہی کریں گی باوجود اس کے کہ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ پلیٹ فارم کو خبروں سے ذیادہ صارفین کے ذاتی مواد کے لیے مفید بنا رہے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’فیس بک کو یہ معاملہ زیادہ پسند نہیں لیکن خبروں کی غیر موجودگی میں سرچ فیچر موثر نہیں ہو سکتا اور میرے خیال میں فیس بک کو جلد پتہ چل جائے گا کہ خبروں کے بغیر آپ کو فیس بک فیڈ دینا بہت مشکل کام ہو گا۔ خبروں سے ہی ان کی سروس مکمل ہوتی ہے۔

گوگل، میٹا، ایپل اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ لائسنسنگ کے معاہدے کرنے والی فرم گلوب اینڈ میل کے چیف ایگزیکٹیو فلپ کرولی، نے سرچ (تلاش) کے لیے موجود وسیع تر تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا مثلاً چیٹ جی پی ٹی اور چیٹ بوٹ جو صارفین کے سوالات پر انھیں لنکس فراہم کرنے کے بجائے خود جواب دیتے ہیں۔

فلپ کرولی نے اس بل کی حمایت میں بات کرتے ہوئے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ کینیڈا کے براڈکاسٹ ریگولیٹر کو دی گئی بعض طاقتوں سے پریس کی آزادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دنیا ایک مختلف جگہ پر ہے لہذا مجھے نہیں لگتا کہ آسٹریلیا میں ماڈل ایسا ہے کہ ہمیں اس سے اب بہت زیادہ رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ وہ تب تھا اور اب یہ ہے۔

اب آپ ایک دن میں کتنے ٹویٹ دیکھ سکتے ہیں؟

 

ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹوئٹر پر صارفین دن میں کتنے ٹویٹ پڑھ سکتے ہیں، اس کی ایک عارضی حد مقرر کی گئی ہے۔

انھوں نے اپنے ہی ٹویٹ میں بتایا کہ غیر مصدقہ اکاؤنٹ اب سے دن میں صرف ایک ہزار پوسٹیں پڑھ سکیں گے۔ جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹس کے لیے یہ حد 500 ہوگی

البتہ فیس دے کر بلیو ٹک حاصل کرنے والے مصدقہ اکاؤنٹس دن میں 10 ہزار ٹویٹ پڑھ سکیں گے۔

 ٹوئٹر کے مالک نے ابتدائی طور پر ان حدود کو سخت رکھا مگر اعلان کے کچھ دیر بعد ان میں رد و بدل کیا۔

 وہ کہتے ہیں کہ عارضی حد بندی کا مقصد ’ڈیٹا سکریپنگ (کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ویب سائٹ سے معلومات لینا) اور سسٹم مینی پولیشن (نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) کی انتہائی بلند سطح‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔

 انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے کس سیاق و سباق میں سسٹم مینی پولیشن کا ذکر کیا ہے۔

ایلون مسک نے جمعے کو کہا کہ ’ڈیٹا کی چوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ عام صارفین کے لیے بھی سروس خراب ہونے لگی تھی۔‘ اس دوران صارفین سے ٹوئٹر کا مواد دیکھنے کے لیے دوبارہ لاگ ان کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

 

اس اقدام کو ’عارضی ہنگامی اقدام‘ کہا گیا ہے۔

 

یہ واضح نہیں کہ ڈیٹا سکریپنگ سے مسک کا کیا مطلب ہے تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیاں اپنے نظام یا لینگویج ماڈل کو بہتر کرنے کے لیے معلومات جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی معلومات کے ذریعے اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور گوگل بارڈ جیسے چیٹ باٹ کام کر پاتے ہیں۔

 

عام الفاظ میں ڈیٹا سکریپنگ سے مراد ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنا۔ بڑے لینگویج ماڈل کو مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے اصل انسانوں کی گفتگو سے سیکھنا پڑتا ہے۔

 

لیکن کسی چیٹ باٹ کی کامیابی کا راز اس کے معیار میں ہے۔ ریڈ اِٹ اور ٹوئٹر کے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ انھی وسائل سے اے آئی کمپنیاں اپنی سروسز کو بہتر بناتی ہیں

 

مگر ٹوئٹر اور ریڈ اِٹ جیسے پلیٹ فارم چاہتے ہیں کہ انھیں اس ڈیٹا کے بدلے ادائیگی کی جائے۔

 

اپریل میں ریڈ اِٹ کے سربراہ سٹیو ہفمین نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے اقدام سے ناخوش ہیں۔ ’ریڈ اِٹ کا ڈیٹا بہت قیمتی ہے۔ لیکن ہم یہ قیمتی ڈیٹا دنیا کی بڑی کمپنیوں کو مفت میں نہیں دینا چاہتے۔

 

اپنی سروس اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) تک رسائی کے لیے ٹوئٹر نے پہلے ہی صارفین سے رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کوئی ایپ، محقق یا اے آئی کمپنی ٹوئٹر کے مواد سے متعلق معلومات لے سکتی ہے۔

 

 

اس اقدام کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

 

مسک لوگوں کو ٹوئٹر بلیو میں شمولیت کا کہہ رہے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی وہ سروس ہے جس میں پیسے دے کر ایک شخص بلیو ٹک اور مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا ماڈل لا رہے ہوں جس میں ٹوئٹر کی مکمل سروس کے لیے صارفین کو پیسے دینا پڑیں اور اسی صورت انھیں لامحدود پوسٹوں تک رسائی مل سکے۔

 

مسک کے آنے سے قبل ٹوئٹر کا بلیو ٹک صرف معروف شخصیات کو مل پاتا تھا۔ اب محض آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض مصدقہ اکاؤنٹ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا صارف کی پروفائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

ویب سائٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ٹول ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق برطانیہ اور امریکہ میں سنیچر کو ٹوئٹر تک رسائی میں ہزاروں صارفین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اس سے قبل مسک نے اعلان کیا تھا کہ مصدقہ اکاؤنٹ دن میں چھ ہزار، غیر مصدقہ 600 جبکہ نئے غیر مصدقہ اکاؤنٹ دن کی 300 پوسٹیں ہی دیکھ سکیں گے۔ مگر پھر مسک نے یہ حدیں بڑھا دیں۔

 

مسک کا خیال ہے کہ سینکڑوں ادارے ٹوئٹر کا ڈیٹا انتہائی تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر اس کا بوجھ ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اچانک بہت زیادہ سرورز کا بندوبست کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سرور اس بڑے کمپیوٹر کو کہا جاتا ہے جہاں صارفین کی فائل اور ویب پیج محفوظ ہوتے ہیں۔

 

برطانوی ماہر ایڈم لیون سمتھ نے کہا کہ یہ اقدام ’کافی غیر معمولی‘ ہے کیونکہ صارفین کی مواد تک رسائی محدود ہونے سے کمپنی کی اشتہاروں سے ہونے والی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔

 

مسک نے گذشتہ سال 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کو خرید لیا تھا۔ وہ سابقہ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

 

انھوں نے آتے ہی قریب آٹھ ہزار کے عملے کو کم کر کے 1500 کر دیا تھا۔ . کو دیے انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ عملے کو نوکریوں سے نکالنا آسان نہیں تھا۔

 

ٹوئٹر کے کئی انجینیئروں کو فارغ کیا گیا جس نے پلیٹ فارم کے موجودہ استحکام پر سوال اٹھائے ہوئے ہیں۔

 

اگرچہ مسک نے اس کے نظام میں خامیوں کو تسلیم کیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ٹوئٹر کی بندشیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہیں اور اب ویب سائٹ صحیح کام کر رہی ہے۔

UAE Freelancers Visa


 


 

 

 

Are you a freelancer looking for a UAE Visa? Those seeking virtual work residence visas will greatly benefit from the announcement made by the Federal Authority for Identity, Citizenship, Customs, and Port Security (ICP) in the UAE. Freelancers who are interested in applying for the visa will no longer be required to be physically present in the UAE during the application process. They can easily apply online.

 With this new change, those who wish to work remotely from the UAE can now complete the application process from their current location. This visa (virtual work residence) is only valid for one year (365 days) and can be renewed further under the revised terms and conditions of the visa by the UAE Government.

For visa applications, individuals can use the ICP’s website or the smart application (UAEICP). After the visa is approved, the applicant must enter the UAE within 60 days to complete the residence visa application process. In case of failure to enter UAE within the permitted timeframe, the permit will come invalid.

 The virtual work residence visa is only available to applicants who hold a passport with a minimum validity of six months, have a recent photograph, and have a valid health insurance policy.

 However, to be eligible, the freelancer needs to provide a bank statement showing an earning of a minimum of Dh360,000 for the last two years or the equivalent amount earned in any other currency. An applicant must also provide a salary slip from the previous month and three months’ worth of bank statements.

If an applicant does not meet the requirements, their application is declined automatically online after 30 days. It is important to note that the fee and financial guarantees are refundable if the request is declined by the ICP, in case the application is returned thrice for the same reason.

The fee for the virtual working program is AED350 per person. All applicants will receive the entry permit and all details in their email.

 The new policy provides advantages for both employees and companies, as it allows individuals to be in control of the work they take up and companies to avoid the risks of retaining employees.

 The minister stated that this would lead to an increase in productivity in the labor market, making individuals more valuable in the workforce. The introduction of the flexible work permit is expected to create up to 24,000 job opportunities by 2024, with businesses attracting and retaining a more diverse workforce.

 The UAE aims to support this trend and attract a more diverse workforce and capital by having a supportive legal framework.

You can apply for UAE Freelance VISA here.

ٹک ٹاک پر پابندی لگانے والی پہلی امریکی ریاست




 مونٹانا

امریکہ کی ریاست مونٹانا کے گورنر گریک جین فورٹے نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد مونٹانا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں اس ویڈیو ایپ کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

اس قانون کے بعد مونٹانا میں گوگل اور ایپل کے ایپ اسٹورز کے لیے یہ غیر قانونی ہوگا کہ وہ اس کی حدود میں ٹک ٹاک ایپ کی پیش کش کریں۔

اس پابندی کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔

ٹک ٹاک کے 15 کروڑ امریکی صارفین ہیں لیکن امریکی قانون سازوں اور ریاستی حکام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اس پلیٹ فارم پر چینی حکومت کے ممکنہ اثرورسوخ کے خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مارچ میں کانگریس کی ایک کمیٹی نے ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شاؤ زی چیو سے اس بارے میں سوال جواب کیے تھے کہ آیا چینی حکومت صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہے یا ایپ پر امریکی جو دیکھتے ہیں اس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

مونٹانا کے ری پبلکن گورنرگریک جین فورٹے نے کہا کہ یہ بل مونٹانا کے شہریوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی سے بچانے کی ہماری مشترکہ ترجیح کو مزید آگے بڑھائے گا۔

دوسری جانب ٹک ٹاک کی مالک کمپنی 'بائیٹ ڈانس' نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بل ٹک ٹاک پر غیرقانونی طور پر پابندی لگا کر مونٹانا کے لوگوں کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ مونٹانا کے اندر اور باہر اپنے صارفین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

کمپنی پہلے ہی چینی حکومت کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کرچکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ اگر اس سے ایسا کہا بھی گیا تو وہ نہیں کرے گی۔

دس لاکھ سے زیادہ آبادی والی ریاست مونٹانا کا کہنا ہے کہ ہر خلاف ورزی پر ٹک ٹاک کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ اگر اس نے پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے 10 ہزار ڈالر یومیہ اضافی جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایپل اور گوگل بھی پابندی کی خلاف ورزی پر 10 ہزار ڈالر یومیہ جرمانے کا سامنا کرسکتی ہیں۔

دوسری جانب اس پابندی کو ممکنہ طور پر متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ یہ صارفین کے آزادانہ اظہارِ رائے کے حقوق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2020 میں محکمۂ تجارت کے ایک حکم کے ذریعے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی کی کوشش کی تھی جسے متعدد عدالتوں نے روک دیا تھا اور یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا تھا۔


کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

اب آپ انسٹاگرام صارفین پر ڈیسک ٹاپ سے بھی پوسٹ تخلیق کر سکیں گے

 



انسٹاگرام کے بہت سے فیچرز صرف موبائل فون پر ہی استعمال ہو سکتے ہیں، ان میں سب سے اہم فیچر پوسٹ تخلیق کرنا اور پوسٹ ایڈٹ کرنا بھی ہے۔ تاہم بہت سے انسٹاگرام صارفین اب ڈیسک ٹاپ سے بھی انسٹاگرام کی سائٹ کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ اسی وجہ اب انسٹاگرام ڈیسک ٹاپ سے بھی صارفین کو پوسٹ تخلیق کرنے اور پوسٹ ایڈٹ کرنے کی سہولت دےگا

س حوالے سے ایک مخبر نے ٹوئٹر پر چند تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ انسٹاگرام صارفین کس طرح سے ڈیسک ٹاپ سے پوسٹ تخلیق کر سکیں گے۔

صارفین تصاویر یا ویڈیو کو ڈریگ اینڈ ڈراپ سے انسٹاگرام سائٹ پر اپ لوڈ کریں گے اور پھر فلٹر شامل کر کے  اس پوسٹ کر سکیں گے۔ صارفین اپنی  پوسٹ  کو  لوکیشن اور لوگوں کو ٹیگ بھی کر سکیں گے۔ ڈیسک ٹاپ پر پوسٹ تخلیق کرنے کا انٹرفیس بھی بالکل ایپلی کیشن جیسا ہی ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ فیچر کب تک صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے