Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

کیا ہم اب بھی آزاد ہیں۔
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں
کیا ہم اب بھی آزاد ہیں

فالج کے مریضوں کے لیے بولنے والا آلہ ایجاد

 


فالج کا حملہ یا دماغی چوٹ انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔ جان بچ بھی جائے تو اکثر صورتوں میں چلنے پھرنے اور بعض واقعات میں مریض جسم کو حرکت دینے، کروٹ بدلنے اور حتیٰ کہ بولنے تک سے معذور ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے یہ جاننا بہت دشوار ہوتا ہے کہ مریض کیا سوچ رہا ہے اور کیا کہنا چاہتا ہے۔

اب سائنس دانوں اور طبی ماہرین نے اس مشکل کا ایک حل ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ ایک ایسا آلہ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو دماغ میں اٹھنے والی لہریں پڑھ کر انہیں کمپیوٹر کی سکرین پر اس انداز میں پیش کر دیتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ بولنے سے معذور فالج زدہ شخص کیا کہنا چاہتا ہے۔

اگرچہ اس سلسلے میں ابھی بہت سا کام کیا جانا باقی ہے جس پر برسوں لگ سکتے ہیں، لیکن اس حالیہ کامیابی نے دماغی چوٹ یا کسی بیماری کے سبب بولنے سے معذور شخص کا مافی الضمیر جاننے کا راستہ کھول دیا ہے۔

سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے نیورو سرجن ڈاکٹر ایڈورڈ چانگ کہتے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ ہم کتنی آسانی سے بات چیت کے ذریعے اپنا مقصد دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں؛ جب کہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کا مقام ہے کہ ہم ان لوگوں سے بات چیت کی جانب ایک قدم آگے بڑھانے میں کام یاب ہو گئے ہیں جو کسی وجہ سے بول نہیں سکتے۔

اس وقت تک جو لوگ بیماری، فالج یا دماغی چوٹ کے باعث بول یا لکھ نہیں سکتے، ان کے لیے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے ذرائع بہت ہی محدود ہیں

اس وقت ایسے افراد سے بول چال کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، وہ دشوار بھی ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف بہت کم ہوتی ہیں بلکہ اس میں وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جو مریض اپنے سر کو حرکت دینے کے قابل ہوتے ہیں، انہیں ایک ایسی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے جس پر ایک پنسل نما چیز لگی ہوتی ہے۔ اس کے سامنے ایک سکرین رکھی جاتی ہے جس پر حرف لکھے ہوتے ہیں۔ وہ سر کو جنبش دے کر حروف کی جانب اشارہ کرتا ہے جس سے دیکھ بھال کرنے والوں کو پتا چل جاتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔

ایسے مریض جو اپنا سر ہلانے کے بھی قابل نہیں ہوتے، ان کے لیے ایک دوسری قسم کا آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی ایک سکرین ہوتی ہے جو آنکھ کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتی ہے۔ مریض جس حرف پر اپنی نظر جماتا ہے، آلہ اسے نوٹ کر لیتا ہے۔

سائنس دان بول چال اور حرکت کرنے سے معذور افراد کی مشکلات حل کرنے کے لیے بہت عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے ربوٹک بازو بنائے اور مریضوں کو لگائے بھی جا رہے ہیں جو دماغ کی لہروں پر کام کرتے ہیں۔ جیسے فالج زدہ مریض جب یہ سوچتا ہے کہ مجھے یہ کپ اٹھانا ہے تو روبوٹک بازو حرکت میں آتا ہے اور کپ اٹھا لیتا ہے۔

لیکن ڈاکٹر چانگ کی ٹیم نے ایک بالکل مختلف آلہ تیار کیا ہے۔ اس کا کام مریض کے دماغ میں ابھرنے والے لفظوں کو سکرین پر عبارت کی شکل میں پیش کرنا ہے جسے پڑھ کر دوسرے لوگ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں

ڈاکٹرچانگ کا آلہ بولنے کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ جب ہم کوئی لفظ بولنا چاہتے ہیں تو ہمارے دماغ کا وہ حصہ جس کا تعلق بولنے سے ہے، ہماری زبان، جبڑوں، ہونٹوں اور گلے کے اندر آواز پیدا کرنے والے اعصاب کو حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ہر لفظ کے لیے منہ کے یہ حصے اور اعصاب مختلف انداز میں حرکت کرتے ہیں جس سے مختلف آواز پیدا ہوتی ہے اور مختلف لفظ بنتے ہیں۔ ڈاکٹر چانگ کا آلہ دماغ کے اس حکم کی لہروں کو ریکارڈ کر کے لفظوں کی شکل میں سکرین پر پیش کر دیتا ہے۔

اس آلے کا پہلا تجربہ جس رضاکار پر کیا گیا، اس کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ 15 سال سے فالج کی وجہ سے حرکت کرنے اور بولنے سے معذور تھا۔ سائنس دانوں کی ٹیم نے اس کے دماغ کے اس حصے کی سطح پر تاریں نصب کر دیں جس کا تعلق بول چال سے ہے۔

پھر اسے ایسے 50 لفظ دماغ میں دوہرانے کے لیے کہا گیا جو ہماری روزمرہ بول چال میں استعمال ہوتے ہیں اور جن کی مدد سے ایک ہزار سے زیادہ ایسے جملے بن جاتے ہیں جو ہم عمومی طور پر بولتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی، اچھا، چائے وغیرہ۔

جب رضاکار نے ان لفظوں کو دوہرایا تو آلے نے دماغ کی لہروں کے انداز کو اس لفظ کے ساتھ اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیا۔ یاداشت کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد جب بھی رضاکار نے ان میں سے کوئی بھی لفظ سوچا ، آلے نے اپنی سکرین پر پیش کر دیا۔

ڈاکٹر چانگ کے پراجیکٹ کے ایک رکن اور انجنیئر ڈیوڈ موسز نے بتایا کہ فی الحال رضاکار کے سوچنے اور اس لفظ کو سکرین پر نمودار ہونے میں تین سے چار سیکنڈ لگتے ہیں، جو بظاہر زیادہ وقت ہے، لیکن جیسے جیسے ہم اپنے آلے کی یاداشت اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے، یہ وقت بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا۔

ڈاکٹر چانگ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کا ایجاد کردہ آلہ مریض کی سوچ کو لفظوں کی شکل میں سکرین پر پیش کرتا ہے، لیکن وہ دن دور نہیں جب وہ لکھنے کی بجائے بول کر بتایا کرے گ


مائنڈ



مائنڈ مینیجمنٹ


آج صبح میری آنکھ ۵:۳۰ بجے کھل گئی بستر پر لیٹا ذہن مختلف خیالات پر سوچنے لگا ابھی مجھے خیالاتی سفر پر گئے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اچانک خیال آیا اور اس خیال کے آتے ہی  میں کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جہاں لان ، درخت ، گھاس اور اس پر چہکتے ہوئے پرندے اور ان کے اس شور نے میرے خیال کو تقویت دی اور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اللہ نے آج کتنا خوبصورت دن دیا ہے اور طے شدہ ترتیب کی طرف راغب ہوا فوراً بستر کو اپنے سے الگ کیا اور اللہ کو یاد کرکے سیر کےلیے  گھر سے نکل گیا۔
اس سارے عمل میں مجھے مینیجمنٹ کا ایک اصول ذہن میں آگیا کہ آپ ہر چیز کو پلان کر لیں چاہے وہ سوچنے کا مرحلہ ہی کیوں نہ ہو اگر آپ نے اپنے آپ کو کسی ترتیب کا عادی نہیں بنایا تو پھر غالب گمان ہے کہ آپ کا ذہن آپ کو ایسی ترتیب دے دے جو کہ آپ کے کاموں کے اعتبار سے مناسبت نہ رکھتی ہو۔ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں اپنی مائنڈ مینیجمنٹ پر بھی توجہ دینی چاہیے دماغ کو بھی کسی ترتیب میں لانے کی حکمت عملی بنانی چاہیے تو یہ غلط نہ ہوگا ۔ انسانی سوچ اس بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جوخیالاتی سفر کے نتیجے میں اپنے آپ کو تو تھکاتا ہے ہی بلکہ کچھ تو اپنے آپ کو زخمی بھی کر لیتے ہیں اس خیالاتی سفر میں ہی کسی پر غصہ ہونے لگتے ہیں اور کسی سے بے انتہا پیار کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ایسی سوچوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں مثلآ کوئی پیسوں کے بارے میں سوچتا ہے اور کوئی شہرت اور طاقت کے بارے میں۔
سماج میں انسان تنہا نہیں رہ سکتا اس کو دوسروں سے رابطہ رکھنا ہی پڑتا ہےاس لیے کہیں نہ کہیں وہ ہر ایک سے جہاں اچھی چیزیں لے رہا ہوتا ہے وہاں ان کے منفی خیالات اور ان کے منفی رویوں کو بھی اپنا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام لوگوں کو اپنا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور اپنے خیالات کا بھی– کہ کہیں غیر دانستہ طور پر وہ اپنے زمینی حقائق کو تو نظر انداز نہیں کر رہے۔ کہتے ہیں کہ ایک  نارمل انسان کو دن میں تقریباً50,000-70,000 خیالات آتے  ہیں جن لوگوں نے اپنے ذہن میں اپنے کاموں کا کوئی ذائچہ نہیں بنایا ہوتا تو ان کو ذہن میں آنے والے خیالات اور سوچوں کو ترتیب میں رکھنے کی بڑی دشواری ہوتی ہے جس طرح کمپیوٹر میں ہر شعبہ کا آپ ایک الگ سے فولڈر بناتے ہیں اور اس میں متعلقہ فائلز ہی رکھتے ہیں بلکہIT کے بڑے اداروں میں تو Repository Management کا باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ ہوتا ہے۔
اسی طرح ذہن کے اندر بھی آپ اپنے خانے بنا سکتے ہیں ۔ ابتدائی طور پر کاغذ قلم کا سہارا لینا ٹھیک رہے گا کیونکہ یہ آپ کے سوچنے کے مرحلہ میں سہولت پیداکرے گا۔ شروع میں آپ اپنے سے جڑے ہوئے ہر شعبے کا نام لکھ لیں جیسے دفتریا کاروبار، گھر، شوق، صحت ، سماجی زندگی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ ان کے اندر ذیلی شعبے جن سے آپ کا واسطہ ہے یا جو چیلنجز ہیں ان کو ترتیب دے دیں جیسا دفتر میں آپ کو پیش آنے والے مسائل، چیلنچز یا آپ اپنے آپ کو اگلے چھ ماہ میں کہاں پر دیکھنا چاہتے ہیں گولز وغیرہ ان کی ذیلی پلاننگ کہ ان مقاصد (Goals) کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو کن وسائل  کی ضرورت ہے یا اپنے کام کو آپ مزید کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اس حکمت عملی کے فائدے اور نقصانات بھی نوٹ کر لیں جن کی اصلاح یا ان میں اضافہ مزید تجربات کا متحمل ہو گا۔ ابتدائی طور پر ہفتہ وار آپ اہتمام کے ساتھ ان تمام شعبوں کے حوالے سے سوچیں جب کچھ عرصہ اس ترتیب کا سہارا لیں گے تو آپ کے دماغ کو ایک ترتیب کے ساتھ سوچنے کی عادت پڑ جائے گی۔
روٹین میں اپنے پاس ایک پاکٹ ڈائری یا کاغذ قلم جیب میں ضرور رکھیں دن بھر میں جو خیالات آپ کے شعبوں کے حوالے سے آئیں ان کو تحریر کر لیں اور جب موقع ملے تو اپنی پلاننگ والی ڈائری پر نوٹ کرلیں آہستہ آہستہ آپ کا دماغ سنجیدہ موضوعات پر اور صرف آپ کے کے دیے گئے موضوعات پر سوچنے لگے گا۔ اگر ممکن ہو تو اپتے تمام شعبوں کے حوالے سے کچھ ماہرین کو اپنے پینل پر لے لیں جن سے آپ اپنے تجربات اور مشاہدات کا تذکرہ کر کے مزید رہنمائی لے سکیں۔ ان ماہرین کا چنائوبہت اہم ہے چند اصول ملحوظ خاطر رکھے جائیں ایک تو یہ وہ اس شعبہ کے حوالے سے تجربات کے حامل ہوں ——-، مثبت رویوں کے مالک ہوں اور نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ یہ ماہرین آپ کی گول (Goal)سیٹنگ اور ٹارگٹ سیٹ کرنے میں مدد کریں گے،  مثلاً اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور اس کو مزید منافع بخش بنانا چاہتے ہیں تو عام شخص آپ کو مصنوعات کی سیل بڑھانے کے مشورہ دے گا لیکن ایک ماہر بزنس کنسلٹنٹ sales Improvement کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت خرید(Purchase Price)  بہتر کروانے کی کوشش کرے گا کیونکہ کاروبار میں اصل منافع Purchasingمیں ہوتا ہے نہ کہ Selling میں۔  اس کی مثال ایسے ہے کہ 100کا نوٹ 105 میں نہیں بک سکتا جبکہ 95 میں کو ئی چھوڑے کا نہیں۔  
 دماغ اور آنکھیں اس فرمانبردار اور خوشامدی ملازم کی طرح ہوتے ہیں جو مالک کا مزاج دیکھ کر بات کرتا ہے اسی طرح دماغ اور آنکھیں وہی سوچتے اور دیکھتے ہیں جو آپ کا دل سوچنا اور دیکھنا چاہتا ہے  اگر آپ خوش ہیں تو دماغ  آپ کو مزید خوش کرنے کے لیے ایسے خیالات بُن کر دے گا کہ آپ کی خوشی دوبالا ہوجائے اسی طرح اگر آپ پریشان اور مایوس ہیں تو دماغ آپ کے سامنے ایسے خدشات ظاہر کرے گا کہ آپ کو اس حالت سے نکلنا ناممکن لگے گا اسی لیے جو کمزور طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں وہ اکثر ایسی کیفیات کے نتیجے میں ذہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آنکھیں بھی انسان کو وہی دکھاتی ہیں جس کو اس کا دل و دماغ دیکھنا چاہتا ہے۔ 
  ایک بزرگ کا قول ہے
رضامندی کی آنکھ ہو تو کوئی عیب نظر نہیں آتا۔۔۔ اور جب ناراض ہو جائے تو اسے عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔
ان سب صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے مائنڈ مینیجمنٹ کا سہارا لینا پڑیگا اور ساتھ ہی ارادوں کی پختگی کے لیے جراءت مند اور بہادر لوگوں کی صحبت اختیار کرنی پڑے گی اور اولیاءاللہ کی صحبت سے اچھی کوئی صحبت نہیں ۔   کامیاب لوگ اپنےلیے اور اپنی فیملی کے لیے ٹائم نکالتے ہیں۔ کچھ حضرات ہفتہ میں دو چھٹیاں کرتے ہیں ایک چھٹی وہ اپنے گھر کے کاموں اور گھر والوں کے ساتھ بتاتے ہیں اور ایک چھٹی وہ اپنے شوق کے لیے اور اپنے لیے کرتے ہیں اس دن وہ اپنے من پسند لوگوں سے ملتے ہیں خوب گپیں لگاتے ہیں۔ جو لوگ ان کو سمجھتے ہیں یا جن کے ساتھ ان کو وقت گزارنے کا احساس نہیں ہوتا ان سے ملتے ہیں  وہ لوگ پورا ہفتہ کام کرکے اگلے ہفتہ کے لیے اپنے آپ کو تروتازہ کر لیتے ہیں۔


صحت مند خوشگوار


                                         صحت مند خوشگوار





یہ تجربہ 1938ء میں شروع ہوا‘ دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی ہارورڈ نے ”ہارورڈ سٹڈی آف اڈلٹ ڈویلپمنٹ“ کے نام سے ایک یونٹ بنایا اور اس یونٹ نے ”خوش گوار اور صحت مند زندگی“ کے تین اصولوں کی تلاش شروع کر دی‘ یونٹ نے تحقیق کیلئے 724 لوگوں کا انتخاب کیا اور ان لوگوں کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیا‘ گروپ اے ہارورڈ یونیورسٹی کے خوشحال طالب علم تھے‘ یہ لوگ دوسری جنگ عظیم کے درمیان یونیورسٹی میں داخل
ہوئے‘ یہ جنگ میں شریک ہوئے‘ یورپ کے محاذوں پر لڑائی کی‘ زندہ سلامت امریکا واپس آئے‘ دوبارہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے‘ تعلیم مکمل کی اور عملی زندگی میں داخل ہو گئے‘ گروپ بی کا تعلق بوسٹن شہر کے غریب ترین علاقے سے تھا‘ یہ لوگ 1930ء کی دہائی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے‘ ان کے پاس اپنے گھر تھے‘ بجلی تھی‘ گیس تھی‘ مناسب خوراک تھی اور نہ ہی کپڑے لتے‘ یہ لوگ انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے تھے ”ہارورڈ سٹڈی آف اڈلٹ ڈویلپمنٹ“ نے ان 724 لوگوں کی زندگی کو ٹریک کرنا شروع کر دیا‘ یونٹ کے محققین ہر سال ان لوگوں کے پاس جاتے‘ ان سے سوالات پوچھتے اور ان کے جواب لکھ لیتے‘ گروپ اے اور گروپ بی دونوں کے 724 لوگ ان کے سامنے جوان ہوئے‘ عملی زندگی میں قدم رکھا‘ شادیاں کیں‘ بچے پیدا کئے‘ یہ بیمار ہوئے‘ صحت مند ہوئے‘ یہ نقل مکانی کرتے رہے‘ یہ ایک ملازمت سے دوسری ملازمت اور دوسری ملازمت سے تیسری ملازمت پر چھلانگ لگاتے رہے‘ یہ لوگ زندگی کی ساری سہولتیں حاصل کرتے رہے‘ یہ ساری سہولتیں بعد ازاں ان کے ہاتھ سے نکلتی رہیں‘ یہ مذہب اور نظریات بھی بدلتے رہے‘ ان کے شوق بھی تبدیل ہوتے رہے‘ یہ گرل اور بوائے فرینڈز بھی تبدیل کرتے رہے‘ یہ اپنی بیوی‘ اپنے خاوند سے الگ بھی ہوئے‘ یہ ”ری یونین“ بھی کرتے رہے‘ یہ تنہائی کا شکار بھی ہوئے‘ یہ مختلف قسم کے کلب بھی جوائن کرتے
اور چھوڑتے رہے‘ یہ لوگوں کے ساتھ الجھتے اور لڑتے بھی رہے‘ یہ مخالفین سے صلح بھی کرتے رہے‘ یہ دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوست بھی بناتے رہے‘ یہ گھر‘ شہر اور ریاستیں بھی تبدیل کرتے رہے اور خوراک‘ لباس اور سپورٹس میں بھی ان کی ترجیحات بدلتی رہیں‘ گروپ اے اعلیٰ پڑھے لکھے اور خوش حال طبقے سے تعلق رکھتا تھا‘ اس گروپ کے بے شمار لوگوں نے ترقی کی‘
یہ بزنس مین بھی بنے‘ کامیاب سی ای او بھی ہوئے‘ ان میں سے درجنوں لوگ سپورٹس‘ فلم‘ ادب‘ آرٹ اور تعلیم کے شعبوں میں بھی نامور ہوئے‘
ان میں بے شمار لوگ خوش حالی‘ اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ حسب نسب کے باوجود زندگی میں پیچھے رہ گئے‘ چند ایک نے خودکشی بھی کر لی جبکہ گروپ بی کے لوگ غریب‘ پسماندہ‘ جاہل اور بے ہنر تھے‘ ان میں سے بے شمار لوگ زندگی میں بہت آگے گئے‘ ان میں سے ڈاکٹر بھی بنے‘ انجینئر بھی‘ اداکار بھی‘ کھلاڑی بھی‘ بزنس مین بھی اور زمیندار بھی جبکہ اس گروپ میں بے شمار ایسے لوگ بھی شامل تھے جو نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے‘ جو جرائم کی دنیا میں چلے گئے‘
جو فراڈ کرتے کرتے جیلوں میں پہنچ گئے اور جو گینگ وار میں مارے گئے‘ یہ لوگ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رہائش گاہیں‘ شہر اور ملک بدلتے رہے‘ انہوں نے بھی شادیاں کیں‘ بچے پیدا کئے‘ یہ بھی علیحدگی اختیار کرتے رہے‘ یہ بھی اپنا لائف پارٹنر بدلتے رہے اور یہ بھی اپنے پیشے‘ مصروفیات اور شوق تبدیل کرتے رہے‘ سٹڈی گروپ ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا‘ یہ انہیں مانیٹر کرتا رہا‘ یہ مانیٹرنگ مسلسل 75 سال جاری رہی‘ ان 75 برسوں میں سٹڈی گروپ کے تین ڈائریکٹر انتقال کر گئے‘
گروپ کی فنڈنگ بند ہوتی اور جاری ہوتی رہی‘ محقق تبدیل ہوتے رہے اور ڈیٹا جمع کرنے کا میڈیم بھی بدلتا رہا لیکن تحقیق جاری رہی‘ ان 75 برسوں میں گروپ اے اور گروپ بی کے 664 لوگ انتقال کر گئے‘ صرف 60 باقی بچے ہیں‘ یہ 60 لوگ 90 سال کی دہائی میں قدم رکھ چکے ہیں‘گروپ نے ریسرچ میں 724 لوگوں کے دو ہزار بچے بھی شامل کر دیئے‘ محققین ان سے بھی سوالات کرتے رہتے ہیں‘ ان 75 برسوں میں محققین کے پاس لاکھوں کاغذات کا انبار لگ گیا‘
اس انبار میں ان 724 افراد کی میڈیکل رپورٹس بھی شامل تھیں اور ان کا نفسیاتی اور سماجی ڈیٹا بھی اور اس میں پولیس اور عدالتوں کا ریکارڈ بھی موجود تھا‘ یہ اس لحاظ سے دنیا کی طویل ترین تحقیق تھی‘ سٹڈی گروپ کے موجودہ ڈائریکٹر رابرٹ ویلڈنگر ہیں‘ یہ پیشے کے لحاظ سے سائیکائی ٹریسٹ ہیں اور ہارورڈ میڈیکل سکول میں پروفیسر ہیں‘ پروفیسر رابرٹ ویلڈنگر نے 2015ء میں اس طویل ترین تحقیق کے تین بنیادی نتائج دنیا کے سامنے رکھے‘ یہ نتائج اس تحقیق کا نچوڑ ہیں۔
پروفیسر رابرٹ ویلڈنگر کا کہنا تھا‘ ہم نے 75 سال کے تجربے سے اندازہ لگایا آپ اگر صحت مند اور خوش گوار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں سے رابطے میں رہیں‘ہمارے سٹڈی گروپ کے 724 افراد میں سے ہر وہ شخص بیمار بھی رہا اور وہ دنیا سے جلد رخصت بھی ہوگیا جو لوگوں‘ عزیزوں‘ رشتے داروں‘ خاندان اور سماج سے کٹ گیا تھا‘ جو تنہائی پسند ہو گیا تھا‘ جو لوگوں سے بیزار ہو گیا تھا اور جو لوگوں سے میل ملاقات سے پرہیز کرتا تھا‘ رابرٹ ویلڈنگر کے مطابق تنہائی پسند لوگ جلد بوڑھے ہو گئے تھے‘
وہ موذی امراض کا شکار بھی ہوئے‘ ان کی یادداشت‘ بینائی اور سماعت بھی کمزور ہوئی اور یہ مالی بحرانوں میں بھی مبتلا ہوئے جبکہ لوگوں سے رابطے میں رہنے والے کردار‘ فیملی کو وقت دینے والے لوگ‘ نوجوانوں میں بیٹھنے والے حضرات اور آخری وقت تک حلقہ احباب میں رہنے والے کردار جوان بھی رہے‘ صحت مند بھی اور ایکٹو بھی اور یہ تمام لوگ 80 سے 90سال تک زندہ رہے جبکہ تنہائی پسند لوگ بمشکل 60 سال تک پہنچ سکے‘ رابرٹ ویلڈنگر نے دعویٰ کیا صحت مند اور خوش گوار زندگی کا دوسرا اصول ”پسندیدہ پارٹنر ہے“
ہارورڈ سٹڈی گروپ کی طویل ترین ریسرچ نے ثابت کیا وہ لوگ جنہوں نے پسندیدہ لائف پارٹنر اور پسندیدہ دوستوں کا انتخاب کیا اور جو اپنے پسندیدہ پیشے اور پسندیدہ دفاتر میں کام کرتے رہے وہ صحت مند اور خوش گوار زندگی گزارتے رہے جبکہ جن کا لائف پارٹنر‘ دوست اور دفاتر پسندیدہ نہیں تھے وہ بیمار بھی رہے اور وہ دنیا سے جلد رخصت بھی ہو گئے‘ رابرٹ ویلڈنگر کا کہنا تھا ہم نے 724 افراد میں سے ان تمام لوگوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جن کی عمریں 80 سال ہو ئیں اور وہ اس عمر میں بھی متحرک اور صحت مند تھے‘
ہمیں پتہ چلا یہ وہ تمام لوگ ہیں جو 50 سال کی عمر تک اپنے لئے پسندیدہ لائف پارٹنر‘ مزاج کے مطابق دوست اور مرضی کا شعبہ تلاش کر چکے تھے جبکہ وہ تمام لوگ جو 80 سال کی عمر تک نہیں پہنچ سکے وہ اکثر شکایت کرتے تھے ہم جب بیمار ہوتے تھے تو ہم بیماری کے ساتھ ساتھ تنہائی اور چڑچڑے پن کا شکار بھی ہو جاتے تھے‘ ہمیں محسوس ہوتا تھا ہمارا آفس‘ ہمارے دوست اور ہمارا لائف پارٹنر ہماری کیئر نہیں کر رہا‘ہمارے لئے یہ احساس بیماری سے زیادہ خطرناک ہوتا تھا چنانچہ ہم کمزور اور بیزار ہوتے چلے گئے‘
یہ لوگ بھی بمشکل 60 سال سے اوپر جا سکے جبکہ ان کے برعکس دوسرے گروپ کا کہنا تھا ہم جب بھی بیمار ہوئے یا ہم جب بھی مسائل کا شکار ہوئے‘ہمارے خاوند‘ ہماری بیوی‘ ہمارے دوستوں اور ہمارے دفتر نے ہمیں جلد اس بحران سے نکال لیا‘ ہم چند دنوں میں دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ ہمیں زندگی اور توانائی دونوں دوبارہ مل گئیں‘ یہ لوگ کہتے ہیں دنیا میں کوالٹی آف ریلیشن سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہوتی۔رابرٹ ویلڈنگر نے دعویٰ کیا ہمارے 724 کرداروں میں سے ہر اس شخص نے زیادہ لمبی اور صحت مند زندگی گزاری جو اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا تھا‘تحفظ کا احساس ہماری سٹڈی کا تیسرا نتیجہ ہے‘
عدم تحفظ انسان کو بوڑھا بھی بناتا ہے‘ کمزور بھی اور بیمار بھی‘ وہ شخص جس نے زندگی میں محفوظ سرمایہ کاری کی‘ جس کا لائف پارٹنر اس کے ساتھ وفادار تھا‘ جس کے دوست اس کے ساتھ مخلص تھے‘ جس کا شہر‘ جس کا ملک شورشوں سے محفوظ تھا‘ جس کے پاس مضبوط انشورنس پالیسی تھی اور جس نے گاڑیاں اور گھر مضبوط خریدے تھے وہ صحت مند بھی رہا‘ اس نے خوش گوار زندگی بھی گزاری اور اس کی عمر بھی لمبی ہوئی جبکہ عدم تحفظ کے شکار لوگ دنیا سے جلد رخصت ہو گئے‘
پروفیسر رابرٹ کا کہنا تھا وہ لوگ جن کی سرمایہ کاری ڈوب گئی‘ جنہیں اپنے لائف پارٹنر کی وفاداری پر شک تھا‘ جن کی کمپنیاں‘ جن کے کاروبار سیٹل نہیں تھے‘ جنہیں اپنی چھت اور اپنی گاڑی پر یقین نہیں تھا اور جن کے دائیں بائیں ہنگامے‘ شورشیں‘ فسادات اور لڑائی جھگڑے چلتے رہتے تھے‘ وہ دنیا سے جلد چلے گئے‘ پروفیسر رابرٹ کا کہنا تھا 724 کرداروں میں 60 اب تک حیات ہیں‘ یہ 90 سے 100 سال کے درمیان ہیں‘ ان 60 لوگوں میں یہ تینوں خوبیاں ہیں‘
اول‘ یہ آج بھی معاشرے سے رابطے میں رہتے ہیں‘ یہ تنہائی کے بجائے لوگوں میں رہنا پسند کرتے ہیں‘ دوم‘ یہ پسندیدہ لائف پارٹنر‘ پسندیدہ دوستوں‘ پسندیدہ پیشے‘پسندیدہ شہروں اور پسندیدہ کلچر میں رہتے ہیں اور سوم‘ یہ اپنے آپ اور اپنے تعلقات کو سیکیور محسوس کرتے ہیں‘ یہ تحفظ کے احساس سے لبالب ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں دولت کی سیکورٹی ہو‘ رشتوں‘ دوستیوں‘ مذہب‘ ثقافت یا ملک کی سیکورٹی ہو‘ ان کی زندگی ہر سمت سے محفوظ ہے چنانچہ یہ 90 سال بعد بھی صحت مند اور خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ آج بھی اپنے قدموں پر کھڑے ہیں اور یہ اپنے اصلی دانتوں سے کھا رہے ہیں جبکہ ان تینوں نعمتوں سے محروم 660 لوگ قبروں میں پڑے ہیں‘ ان کی ہڈیاں تک گل چکی ہیں
میں نے یہ کالم جاوید صاھب کی اجازت کے بغیر اپنے اس پیج میں صرف اپنے قارئین کے لیے کاپی کیا ہے  تاکہ اس کو زیادہ لوگوں تک پہنچاہا جائے)